ڈپریشن کے بارے میں لوگوں میں پائی جانے والی غلط فہمیاں اور توہمات

متعدد افراد کو ذہنی تشویش اور مایوسی (ڈپریشن) کا زندگی کے مختلف مراحل کے دوران سامنا ہوتا ہے جو جسمانی وزن بڑھانے کے ساتھ دیگر امراض کا خطرہ بھی بڑھا دیتا ہے۔

دنیا میں کونسا انسان ہے جو دکھ، مالیاتی مشکلات اور بے روزگاری سمیت دیگر مسائل کی بنا پر اس ذہنی کیفیت کا شکار نہیں ہوتا اور یہی عام طور پر اس کی معروف وجوہات بھی سمجھی جاتی ہیں۔

مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس حوالے سے لوگوں میں زیادہ شعور نہیں پایا جاتا اور ذہنی صحت کے بارے میں کافی غلط فہمیاں اور توہمات پائے جاتے ہیں جو لوگوں کو طبی مدد لینے سے روکتے ہیں۔

ڈپریشن کے حوالے سے عام غلط فہمیاں اور توہمات درج ذیل ہیں جن سے ہمیں اس بیماری کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

ڈپریشن کوئی بیماری نہیں

یہ خیال بالکل غلط ہے کہ ڈپریشن شخصیت کی کمزوری، سستی یا کوئی اصطلاح ہے، درحقیقت یہ ایک سنگین ذہنی بیماری ہے جس کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں اور اس کا علاج کرانا ضروری ہوتا ہے۔

ڈپریشن کے شکار ہر وقت اداس رہتے ہیں

یہ بات حقیقیت ہے کہ اداسی کا شدید احساس ڈپریشن کا علامات میں شامل ہوسکتی ہیں تاہم یہ دونوں چیزیں ایک نہیں۔ اداسی وقتی طور پر ہوتی ہے تاہم کئی بار یہ عارضہ ایسے افراد میں بھی سامنے آتا ہے جن کو اداسی کا ذہنی چڑچڑے پن کا سامنا نہیں ہوتا، بس ان کے اندر اپنے پسندیدہ مشاغل یا سرگرمیوں کے حوالے سے دلچسپی نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔

ڈپریشن خود بخود ختم ہوجاتا ہے

جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ یہ ایک حقیقی بیماری ہے اور وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتی بلکہ علاج نہ کرانے پر اس کی شدت میں اضافہ ہوتا چلاتا ہے ، یہ کوئی عام نزلہ زکام نہیں بلکہ کینسر جیسا مرض ہے جس کے خلاف لڑنا پڑتا ہے۔

ادویات سے فوری ریلیف ملتا ہے

سکون آور ادویات کا استعمال ڈپریشن کی مخصوص اقسام کے خلاف مددگار تو ثابت ہوسکتا ہے مگر یہ ضروری ہے کہ طبی ماہر اور خود اپنے اندر جھانک کر دیکھا جائے کہ مکمل طور پر نجات کس طرح ممکن ہے، جیسے ہنسی ایک اچھا علاج ہے، مراقبہ بھی اس حوالے سے مددگار ثابت ہوتا ہے۔

لوگ اپنا ڈپریشن چھپا سکتے ہیں

ویسے یہ تو حقیقت ہے کہ اس مرض کے شکار افراد اکثر اپنی تکلیف چھپانے میں ناکام رہتے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر کوئی فرد اداس نظر نہیں آرہا تو وہ ڈپریشن کا شکار نہیں، یہ درحقیقت ڈپریشن کی شدید قسم کی علامت ہوسکتی ہے۔

بچوں میں یہ عارضہ نہیں ہوتا

اس کے برعکس بچے بھی ڈپریشن کا شکار ہوسکتے ہیں اور یہ بہت ضروری ہوتا ہے کہ ننھے فرشتوں میں اس کی شناخت کی جائے کیونکہ اسے غلطی سے کوئی اور مرض بھی سمجھا جاسکتا ہے جیسے ذہنی بے چینی یا کوئی اور۔ بچوں میں ڈپریشن کی علامات کچھ یہ ہوسکتی ہیں جسمانی توانائی میں کمی، ہر کام کو ادھورا چھوڑ دینا، منفی سوچ اور کھیل کود میں دلچسپی ختم ہوجانا وغیرہ۔ ان کی نیند کم یا بہت زیادہ ہوتی ہے، اسی طرح بہت زیادہ یا کم کھانا بھی علامت ہوسکتی ہے۔

ڈپریشن جسم نہیں صرف دماغ متاثر ہوتا ہے

ڈپریشن کے باعث تھکاوٹ، نیند کی کمی، بھوک میں کمی، پٹھوں میں درد، اور سینے میں بھی درد ہوسکتا ہے۔ ڈپریشن کو صرف دماغی بیماری سمجھنے سے ہم کبھی کبھار اسکی سنجیدگی کو نظر انداز کرجاتے ہیں۔

زندگی بھر ادویات کے بغیر گزارا ممکن نہیں

یہ ضروری نہیں اور اس کا انحصار مریض کی حالت پر ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں کو تھوڑے سے عرصے میں بھی فائدہ ہوجاتا ہے اور انہیں مزید دوا کی ضرورت نہیں پڑتی جبکہ دیگر کو لمبے عرصے تک ادویات لینا پڑتی ہیں۔ تقریباً چالیس فیصد افراد میں تھراپی اور ادویات سے زیادہ بہتر نتائج برآمد کرتی ہیں۔

دکھ یا غم ڈپریشن کا باعث

یہ حقیقت ہے کہ کچھ تکلیف دہ واقعات کے بعد اکثر انسان ڈپریشن کے مرض میں مبتلا ہوجاتا ہے تاہم یہ ضروری نہیں ہے۔ زندگی پر اثر انداز ہوجانے والے کسی بھی واقعے کے باعث انسان وقتی طور پر ڈپریس ہوسکتا ہے تاہم اگر یہ علامات دو ہفتے سے زائد جاری رہیں تو یہ کسی بڑے مسئلے کا اشارہ ہوسکتا ہے۔

مردوں کو ڈپریشن کا خطرہ نہیں ہوتا

خواتین میں ڈپریشن ہونے کے امکانات مردوں کے مقابلے میں دوگنا ہوتے ہیں تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ مرد اس بیماری میں مبتلا ہو ہی نہیں سکتے۔ مرد اکثر اپنے خیالات کا اظہار خواتین کے مقابلے میں مختلف انداز میں کرتے ہیں اور ڈپریشن بھی ان میں مختلف انداز سے نظر آتا ہے۔ اسی وجہ سے معاشرہ اکثر مردوں میں ڈپریشن کی علامات کو نظر انداز کرسکتا ہے جو کہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ مرد اکثر اس کے علاج میں خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہچکچاتے ہیں اور اس وجہ سے ان کی بیماری مزید پیچیدہ ہوجاتی ہے۔

بات کرنے سے مسئلہ سنگین ہوجائے گا

ابتدائی طور پر اس بات کرنا شاید مشکل ہوسکتا ہے تاہم یہ امید کرنا کہ یہ خود بہ خود ہی ختم ہوجائے گا درست نہیں۔ اس پر بات کرنے سے بہتر تجاویز سامنے آسکتی ہیں اور آپ کو جلد مدد مل سکتی ہے۔ زیادہ افراد کو اس کا علم ہونے سے اس بیماری کے خطرناک حد تک پہنچنے سے پہلے ہی آپ کو مدد مل سکتی ہے۔

ڈپریشن کی جسمانی علامات نہیں ہوتیں

درحقیقت ڈپریشن کی چند مخصوص جسمانی علامات سامنے آسکتی ہیں جو اکثر افراد پہچاننے سے قاصر رہتے ہیں اور زیادہ سنگین نوعیت کے عوارض کا شکار ہوجاتے ہیں۔

ڈپریشن کمزور بنادیتا ہے

بیشتر افراد یہ مانتے ہیں کہ ڈپریشن کے شکار لوگ ذہنی طور پر کمزور ہوجاتے ہیں حالانکہ یہ درست نہیں، لوگوں کو اس حوالے سے تعلیم دی جانی چاہیے کہ ڈپریشن یا ذہنی عارضے کے شکار فرد کے معاملے کو سنجیدہ لینا چاہیے اور ان کے اندر طبی ماہر سے رجوع کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *