کیا یہ چینی نظام دنیا بھر میں رائج ہو جائے گا؟

" ایرون کلین "

ایک طرف امریکہ نے پچھلے دس سال میں میگنیٹک سٹرپ کارڈز کو چپ لگا کر اپنے بینکنگ سسٹم کو بہتر کیا تو دوسری طرف چین نے ریٹیل پے منٹ کے نظام میں انقلاب برپا کیا ہے۔ کارڈ  بیسڈ سسٹم کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ان دو نئے پے منٹ  کے ذریعے ہاتھ سے ادائیگی اور کچھ بزنس ٹرانزیکشن  کے طریقے پر  غلبہ حاصل کر لیا ہے ۔ چین کا نیا نظام ایک ڈیجیٹل ویلٹ ، کیو آر کوڈ، پر مبنی ہےجو ان کی اپنی بڑی ٹیک فرمز جن میں علی پے جسے علی بابا چلاتے ہیں، اور وی چیٹ پے  جو ٹین سینٹ  (یہ چین کا اپنا فیسک بک ہے)کے ذریعے چلائی جا رہی ہے شامل ہیں۔

چین کا نظام پے منٹ ٹرانزیکشن سے بینکنگ کو الگ کرتا ہے اور بینکوں کو ریونیو کے ایک اہم اور طویل المدتی ذریعہ سے محروم کرتا ہے۔ یہ ایک متبادل پے منٹ ایکو سسٹم پیدا کرتا ہے  جو تاجروں، صارفین اور پیمنٹ سسٹم پرووائیڈرز کو سہولیات فراہم کرتا ہے۔ یہ کامرس کے بر عکس  بینکنگ کے ایک طرف رکھی  لونگ سٹینڈنگ پیمنٹ کی پلیس منٹ کو چیلنج کرتا ہے۔  اس طرح یہ سسٹم نئے   فوائد متعارف کرواتا ہے جو موجودہ بزنس ماڈل کے مطابق ہو ں اور تاجروں، بینکوں اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں کے بیچ  تعلقات کو مضبوط کرتا ہے۔

چین کا نیا نظام ادائیگی  ایک دہائی قبل وجود میں آیا اور پھر مشکلات کے سفر سے گزر کر غلبہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ ہر پلٹ فارم پر ایک ارب صارفین  کے ذریعے  نیٹ ورک incentives کی پاور کو سامنے لایا گیا۔ نیا پیمنٹ سسٹم  کئی نئے طریقے لے کر نمودار ہوا جس میں کارڈز کا خاتمہ،تحائف دینے کاطریقہ، بھکاریوں کا پیسے مانگنے کا انداز سب کچھ بدل چکا ہے اور کیو آر کوڈ  نے بھی ٹن کپس کی جگہ لے لی ہے۔

چین اور عالمی مارکیٹ میں اس نظام کا مستقبل کیا ہو گا؟ کیا یہ بینک کے کارڈ بیسڈ سسٹم کی جگہ لے لے گا جو امریکہ میں لانچ کیا گیا تھا لیکن دنیا بھر میں  توجہ کا مرکز بن گیا؟  بینک سے ٹیک کی طرف ہجرت کرنے والے پیمنٹ نظام سے اصلا مراد کیا ہے؟

یہ رپورٹ پوری تفصیل سے  ان معاملات پر بحث کرتے ہوئے ان تمام سوالات کا جواب دیتی ہے۔ حاصل شدہ نتائج مندرجہ ذیل ہیں:

o        چین کا نیا پیمنٹ سسٹم اپنا وجود برقرار رکھے گا۔ یہ مقامی اور عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کرے گا  اور چین کے مسافر اور صارفین اسے بیرون دنیا تک لے جائیں گے۔

o        نئی ٹیکنالوجی کی بدولت اس پیمنٹ سسٹم کو بینکنگ کے علاوہ دوسرے سوشل نیٹ ورکنگ کے مقاصد کے لیے بھی قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی اور سوشل نیٹ ورک فرمز  کے پاس ڈیٹا کے دوسرے ذرائع بھی ہوتے ہیں جن پر وہ اپنے مالی معاملات کے اہم فیصلوں میں انحصار کرتے ہیں۔ متبادل انڈر رائٹنگ کی وجہ سے متبادل پیمنٹ کا راستہ خود بخود کھلے گا۔

o        بینکنگ سے ٹیکنالوجی فرمز کی طرف اس پیمنٹ سسٹم کو منتقل کرنے سے جو فوائد حاصل ہوں گے  وہ بہت اہم اور چونکا دینے والے ہوں گے۔اس پیمنٹ سسٹم کی بدولت ٹیکس فرمز کے لیے  پرائیویسی کے مسائل سے نجات اور مقابلہ بازی کے ماحول کی عدم موجودگی  سے  بیش بہا فوائد  حقیقی ہیں۔ البتہ یہ واضح نہیں کہ   ریگولیشن کے لیے ذریعے دوسرے  تحفظات کو کم کیا جا سکے گا یا نہیں۔

o        چین کے اس نئے پیمنٹ سسٹم کے  معاشی ثمرات حقیقت پر مبنی ہیں لیکن چینی بنکوں کے لیے یہ وقتی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

  • یہ چینی نظام امریکہ میں توجہ حاصل نہیں کر پائے گا  لیکن دوسرے ممالک میں جہاں پرانا  بینکنگ سسٹم ابھی  چل رہا ہے وہاں اسے غالبا اہمیت مل سکتی ہے۔
  • امریکہ کا موجودہ نظام  چینی ماڈل پر بہت سی  فوقیت رکھتا ہے  یا کم از کم اسی کی طرح مفید ہے ۔ اس نظام نے مندرجہ زیل معاملات پر کنٹرول حاصل کر رکھا ہے:
  • زیادہ دولتمند لوگ  موجودہ سسٹم کے تحت زیادہ فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ تاجروں کو نئے نظام سے بچت حاصل کرنے اور اسے متنقل کرنے میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ صارف کا رویہ بھی ایسا ہے کہ وہ ادھر اُدھر کی طر  ف دیکھنے سے گریزاں رہتا ہے۔
  • موجودہ ریگولیٹری سسٹم  بینک بیسڈ سسٹم کے ذریعے صارف کو تحفظ فراہم کرتا ہے  جو کہ کسی دوسرے نان بینک پیمنٹ سسٹم کے ہوتے ہوئے ختم ہو سکتا ہے۔
  • امریکی لیگل اور ریگولیٹری فریم ورک  بینکنگ سے نان بینکنگ سسٹم کو منتقل ہونے کے لیے تیار نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *