’دنیا میں کم لیکن پاک بھارت میں جوہری ہتھیار بنانے کا رحجان بڑھا‘

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سیپری) نے کہا ہے جہاں دنیا بھر میں جوہری سرگرمیوں میں تخفیف ہوئی ہے ادھرہی پاکستان اور بھارت میں جوہری ہتھیار بنانے کے رحجانات میں اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق عسکری اور جوہری کی صورتحال اور عالمی سلامتی کا جائزہ لینے والے سویڈین کے ادارے سیپری نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے پاس بھارت سے زیادہ جوہری ہتھیار ہیں۔

اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس 150 سے 160 اور بھارت کے پاس 130 سے 140 جوہری ہتھیار ہیں اور دونوں ممالک ’نئے جدید نظام‘ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

سیپری نے چیئرمین جان ایلیسن نے کہا کہ دنیا بھر میں 2018 کے دوران جوہری ہتھیار کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آئی۔

ان کا کہنا تھا کہ جوہری ممالک نے جوہری اثاثوں کو جدید خطوط پر استور کرنے میں مصروف ہیں۔

سیپری کے ڈائریکٹر شینن کائل نے دعویٰ کیا کہ بھارت اور پاکستان اپنی جوہری صلاحیت بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں اور اگلے 10 برس میں دنوں کے پاس وسیع پیمانے پر جوہری ہتھیار ہوں گے۔

شائع کی جانے والی تازہ رپورٹ کے مطابق رواں برس کے آغاز میں امریکا، روس، برطانیہ، فرانس، چین، بھارت، پاکستان، اسرائیل، شمالی کوریا کے پاس مجموعی طور پر 13 ہزار 865 جوہری ہتھیار ہیں۔

سیپری کے مطابق 2018 کے ابتداء میں مذکورہ ممالک کے پاس مجموعی طور پر 14 ہزار 465 جوہری ہتھیار تھے۔

رپورٹ کے مطابق 13 ہزار 865 جوہری ہتھیاروں میں سے 3 ہزار 750 ہتھیار آپریشنل فورسز کے ساتھ تعینات ہیں جبکہ 2 ہزار ہنگامی صورت میں استعمال کرنےکے لیے رکھے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ 30 جون کو اقوام متحدہ میں پاکستان کی جانب سے مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے سلامتی کونسل کو خبردار کیا تھا کہ جوہری ہتھیار کے حامل ملک کی اپنی جوہری صلاحیت بڑھانے کے منصوبے کا اعلان کرنے سے دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں اضافہ ہوجائے گا جس سے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی مہم بھی متاثر ہوگی۔

پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل میں ان ایٹمی ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا جو نہ تو اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے بڑے ذخیرے کو چھوڑنا چاہتے ہیں اور نہ ہی اپنے جدید پروگرامز کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *