متانت اور حب الوطنی کا نیا معیار،شریفوں کو گالی

نوٹ: دنیا پاکستان کا یہ نیا سلسلہ قارئین کے پر زور اصرار پر شروع کیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے کالم نگار کالم لکھتے ہوئے تاریخی حقائق کی نفی کرتے ہیں۔ اکثر اوقات کالم نگار خواتین و حضرات کے کالم پڑھتے ہوئے باشعور قارئین کے ذہن میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں یا دوسرا نقطہ نظر ذہن میں آتا ہے۔ ہم وہی سوالات یا فیڈ بیک یا درست حقائق سرخ روشنائی میں درج کر رہے ہیں۔ تاکہ دوسرا منظر بھی سامنے آسکے۔ اختلاف رائے اور متنوع آرا معاشرے کا حسن ہیں اور مکالمہ معاشرے کی ترقی کی علامت ہے۔ ( ایڈیٹر )

متانت اور حب الوطنی کا نیا معیار،شریفوں کو گالی

خامہ بدست کے قلم سے
محمد اظہار الحق کا ”اظہارِ حق“ حسبِ معمول زور آوروں کے حق میں،موصوف کی ”تلخ نوائی“ حسبِ روایت کمزوروں، ناتوانوں اور زیر عتاب لوگوں کے خلاف، ”سروں پر بادشہ بہت دیر تک رہیں گے“ میں لکھتے ہیں: ہماری ان سے کیا دشمنی؟ ہم رعیت وہ بادشاہ، ہم غریب وہ کھرب پتی، لندن کے جس علاقے میں ان کی جائیدادیں ہیں، ہم وہاں سانس لینے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ یو اے ای اور سعودی عرب میں جہاں ان کے کار خانے ہیں، ہم وہاں جوتے چٹخانے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ ہم نے پوری زندگی کی جمع پونجی جمع کرکے جو گھر بنایا، وہ ان کے محلات میں سے کسی ایک محل کے پورچ میں سماجائے۔ کیا ہم جان سکتے ہیں کہ لندن کی جن جائیدادوں، یو اے ای اور سعودی عرب میں جن کا رخانوں اور جن محلات کا انہوں نے ذکر کیا ہے، وہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آئے ہیں، یا محض سنے سنا ئے افسانے اور من گھڑت قصے کہانیاں ہیں؟ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے لندن میں اسحاق ڈار۔ کروڑوں کا فلیٹ ”دریافت“ ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اسحاق ڈار نے چیلنج کیا کہ موصوف بتائیں یہ فلیٹ لندن کے کس علاقے میں ہے۔ اس کا نمبر کیا ہے؟ تو موصوف نے کہا کہ انہوں نے ”لندن“ کا نام تو نہیں لیا تھا۔ میڈیا نے فوٹیج چلا دی تو کہا کہ غلطی سے لندن کا نام منہ سے نکل گیا ہوگا۔ پاناما جے آئی ٹی نے دو ماہ کی محنت مشقت کے بعد جو دس جلدیں تیار کیں، سپریم کورٹ کے ریمارکس تھے کہ ان میں کہیں یہ نہیں کہ نوازشریف نے اختیارات کے ناجائز استعمال سے اثاثے بنائے تھے۔ چنانچہ ”نااہلی“ اس بنا پر عمل میں آئی کہ اپنے کاغذاتِ نامزدگی میں انہوں نے اپنے صاحبزادے کی کمپنی سے تنخواہ کا ذکر نہیں کیا جو اگرچہ انہوں نے وصول نہیں کی تھی لیکن بلیک لاڈکشنری کے تحت قابلِ وصول (Receivable)رقم بھی اثاثے میں شمار ہوتی ہے چاہے آپ نے وصول نہ بھی کی ہو۔ملک بھر کے سینئر وکلا نے اسے کمزور دلیل پرمبنی فیصلہ کہاتھا۔

یہ بھی پڑھیے

نواز،مودی تعلقات.... ساڑھے تین سال بعدایک ”انکشاف“

مگر ارشاد صاحب کو یہ عارفانہ بات کس نے بتائی؟

عبدالقادر حسن اور۔۔۔’’دونوں بھائی‘‘

حیرت ہے، فارن آفس میں ایسے ایسے لوگ بھی رہے ہیں!!

دوکالموں پر ایک نظر

”ثاقب نثار کی ججی“.... اور کالم نگار کا تصورِ انصاف؟

نیب 6ہفتے کی بھاگ دوڑ کے بعد نوازشریف کے خلاف صرف تین ریفرنس تیار کرسکا۔ لندن کے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس والا ریفرنس، جس کے فیصلے میں نیب عدالت نے لکھا کہ استغاثہ کرپشن یا کرپٹ پریکٹسز ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ اس کے باوجود وسائل سے زائد اثاثوں کے الزام میں اسی عدالت نے باپ، بیٹی اور دامادکو دس سال، آٹھ سال اور ایک سال کی سزا سنادی اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس کمزور فیصلے کی بنا پر، سزائیں معطل کرتے ہوئے ضمانت لے لی۔ فلیگ شپ ریفرنس ختم ہوگیا اور اس وقت میاں صاحب،العزیزیہ ریفرنس میں سزا بھگت رہے ہیں جس کے خلاف اپیلوں کے آپشن موجود ہیں۔فاضل کالم نگار نے حمزہ اور سلمان شہباز کے ایک مبینہ بزنس پارٹنر مشتاق چینی کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے:لوٹ مار۔۔۔اندھی بے رحم لوٹ مار کا اس سے زیادہ ثبوت کیا ہوگا؟ ”وعدہ معاف“ گواہ کا بیان کوئی حتمی ثبوت نہیں ہوتا۔ اس پر جرح بھی ہوتی ہے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ وعدہ معاف گواہ کے اس بیان کی حقیقت کیا ہے؟ چنانچہ ابھی اس بیان کو ضروری عدالتی مرحلے سے گزرنا ہے اور آپ نے کہہ دیا کہ اس سے زیادہ ثبوت کیا ہوگا؟
ایک اور جگہ لکھتے ہیں: رہا وسطی پنجاب کا معاملہ تو اس میں شک نہیں کہ یہ شریف خاندان کا گڑھ ہے۔ اس کے اسباب، اول، ان علاقوں کے لیے شاہی خاندان نے بہت کچھ کیا۔ شاہراہیں بنوائیں، ہسپتالوں کی حالت بہتر کی، نوکریاں دیں، آل شریف کا پنجاب اصلاً وسطی اضلاع پر مشتمل ہے۔ فیصل آباد سے لیکر سیالکوٹ تک اور شیخوپورہ گوجرانوالہ سے لے کر قصور تک، یہی ان کا پنجاب ہے۔
حیرت ہے، لیکن اس میں حیرت کی کیابات؟ اندھی نفرت واقعی آنکھوں پر پٹی باندھ دیتی ہے۔ ورنہ فاضل کالم نگار کو راولپنڈی اسلام آباد کی میٹرو بھی نظر آتی، راولپنڈی کا انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی بھی نظر آتا اور پوٹھوہار کے علاقے کے دیگر ترقیاتی منصوبے بھی اور جنوبی پنجاب میں ملتان کی میٹرو،نئے میڈیکل کالج، نئے ہسپتال اور یونیورسٹی کیمپسز بھی اور یہ جو منڈی عبدالحکیم والی نئی موٹروے ہے جس نے لاہور اور ملتان کا سفر صرف اڑھائی گھنٹے کا کردیا ہے۔
فاضل کالم نگار نے یہاں ایک اور ”لطیفہ“ بھی بیان کیا ہے کہ وسطی پنجاب کے ان علاقوں میں سیاسی شعور، شاید پاکستان بھر میں سب سے کم ہے۔ یہ زندہ دل لوگ ہیں، ہلے گلے پر یقین رکھتے ہیں، سوچنے والے لوگ کم ہیں، بہت کم۔۔۔ہم اس بات کا فیصلہ قارئین پر چھوڑتے ہیں کہ پنجاب کے (بلکہ کرا چی کے)سوا ملک بھر میں سب سے زیادہ تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ لوگوں کو سیاسی شعور میں سب سے کم قرار دینا، کہاں کا ”اظہارِ حق“ ہے۔ یہ لوگ بلا شبہ زندہ دل ہیں، ہلے گلے میں بھی یقین رکھتے ہوں گے۔ لیکن انگریز کے دورِ غلامی سے لیکر، قیام پاکستان کے بعد تک اٹھنے والی ہر قومی تحریک میں یہ لوگ پیش پیش رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

”شریفوں کی سیاسی باتیں“

جائز تعریف کے حوالے سے، تنگدلی اور ایسی تنگدلی؟

”صحت“پر ”صحافت“۔ اور ایسی صحافت؟

بے پناہ نفر ت اور بے حساب حسرت اُبل رہی ہے

لیکن یہ نظامی صاحب کا نوائے وقت نہیں

موصوف مزید فرماتے ہیں: اگر کسی ذہن میں رمق بھر متانت ہے اور کسی دل میں حب الوطنی کا ایک قطمیر بھی ہے تو شریف خاندان سے متاثر نہیں ہوسکتا۔ تو کیا تمام مشکلات اور لالچ ودباؤ کے تمام تر حربوں کے باوجود مسلم لیگ(ن) کو پڑنے والے ایک کروڑ28ووٹ رمق بھر متانت اور ذرہ برابر حب الوطنی سے محروم تھے؟ گویا اب متانت اور حب الوطنی کا معیار شریف فیملی کو گالی دینا ٹھہرا۔ جو جتنی بڑی گالی دے گا، جتنا زیادہ مخالفانہ پراپیگنڈہ کرے گا(یا اس پراپیگنڈے سے متاثر ہوگا) وہ اتنا ہی زیادہ ”متین“ اور اتنا ہی بڑا ”محب وطن“ ہوگا۔
اور یہ جو موصوف نے ”مریم صفدر صاحبہ“ کہا ہے، تو یہ کون صاحبہ ہیں؟ دنیا تو ”مریم نواز“ کو جانتی ہے، جو کیپٹن محمد صفدر نامی ایک صاحب کی اہلیہ ہیں، لیکن شادی کے بعد بھی اپنا نام مریم نواز لکھتی ہیں اور یہ ان کا قانونی، اخلاقی او راسلامی حق ہے، لازم نہیں کہ کوئی خاتو ن شادی کے بعد اپنے نام کے ساتھ خاوند کا نام لگائے۔ کیاکسی خاتون کا یوں تمسخر اڑانا بھی ”اظہار ِحق“ ہے۔ سفید ریش کے ساتھ ایک عالم فاضل کالم نگار کی یہ حرکت بھی شاید متانت اور حب الوطنی کا تقاضہ ہو؟۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *