1857 کی غدر میں طوائفوں کا ناقابل فراموش کردار

" سومیا راو "

جون1957 میں،جب بھارتی فوجیوں نے کونپوری(اب کانپور کہلاتا ہے) میں  برطانویایسٹانڈیاکمپنی کے حکام کا محاصرہ کیا،تو وہ ایک طوا‎ئف کے ہمراہ تھے۔مقابلےکےدوران جب گولیاں چل رہی تھیں تب اس طوائف کو کم سے کم ایک عینی شاہد نے پستول سے  مسلح حالت میں دیکھا تھا۔

عزیزنبائی کی دلچسپ داستان کا تاریخ کے  نصاب میں کو‎ئی ذکر نہیں ہے۔ اگر یہ آج  ہم تک پہنچی ہے تو اس کی بنیادی وجہ  تاریخ کی رپورٹس، لوکل کہانیاں اور ایک پیپر  ہے جو لتا سنگھ نے لکھا ہے جو کہ  جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں سینٹر فار وومن سٹڈیز  کی ایسوشی ایٹ پروفیسر ہیں۔

ان وسائل  کا مطالعہ ایک فلپ بک کے صفحے الٹانے کی طرح ہے۔ان میںایک عورت کی ایک تصویر بکھری ہوئی ہے جس نے 1857 کی بغاوت میں ظاہر اور پس پردہ رہ کر ایک مخبر، پیغام رساں اور  سازشی کا اہم کردار ادا کیا۔ لکھنو کی ایک طوائف عزیزن بائی  نوجوانی کی عمر میں لکھنو منتقل ہو گئیں تھیں۔ جیسا کہ سنگھ نے لکھا ہے،  وہ برٹش انڈین آرمی کے چند سپاہیوں کے قریب ہو گئیں ، اور خاس طور پر شمس الدین خان سے بہت قریبی تعلق رکھتی تھیں۔ برطانوی تفتیشی اہلکاروں کوعزیزن بائی کے بارے میں دی گئی گواہی کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ سیکنڈ کیولری کے سپاہیوں کے بہت قریب تھیں اور مسلح سپاہیوں کے ساتھ گھڑ سواری کرتی دکھائی دیتی تھیں۔ انہیں بغاوت کے دوران   مردانہ کپڑوں میں ملبوس  اور میڈلز سینے پر سجائے شخص کے ساتھ  پستول تھامے گھڑ سواری کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

عزیزن بائی کی کہانی  بھارتی طوائفوں کی بے شمار اہم  لیکن گمشدہ کہانیوں میں سے ایک ہیں  جن کا انکشاف بھارت کے شہر ممبئی  کے بمبئی رائل اوپرا ہاوس  میں27 اپریل کو ہونے والے سیمنار میں ہوا۔ تہذیب طوائف کے عنوان سے منعقد کردہ یہ سیمینار جو منجری چتر ویدی کے 'دی کورٹسن پراجیکٹ' کا حصہ تھا جو انہوں نے ایوڈ لرننگ  اور رائل اوپرا ہاوس کے تعاون سے  مورخین، مصنفین اور ریسرچرز نے منعقد کروایا تھا۔ ایک روزہ اس سمپوزیم کا مقصد انڈیا کے 18ویں  اور 20ویں صدی کے پرفارمنگ آرٹسٹ کی وراثت پر بات چیت کرنا تھا۔ پینلسٹس میں سنگھ، مورخ، وینا تلوار اولڈن برگ، میوزیشن شبھا مدگل، کلچرل رائٹر ویجے سائی، سینما سکالر یتندرا مشرا ، پولیٹیکل سائنس پروفیسر سنگھا مترا سرکار اور بیوروکریٹ مورخ اے این شرما شامل تھے۔

اسی طرح کی تقریب مارچ میں دہلی میں بھی منعقد ہوئی  جس میں چترویدی نے جو کہ ایک ڈانسر ہیں اور صوفی کاٹک فاونڈیشن  کی بانی ہیں نے  طوائفوں کے بارے میں عوامی تاثر کو بدلنے کی کوشش کی۔

تاریخ نے خواتین کی آواز  اور کردار کو ہمیشہ نظر انداز کیا ہے  لیکن خاص طور پر انڈیا کے فیمیل تفریحی کرداروں کو بری طرح نظر انداز کیا گیا ہے۔

نارتھ  انڈیا میں طوائف کے نام سے جانی جانے والی اور ساوتھ انڈیا میں دیوا داسی، بنگال میں بے جی اور گوا میں نیکنز کے نام سے جانی جانے والی یہ خواتین پروفیشنل سنگرز وار ڈانسرز تھیں  جن کو برٹش رول کے دوران  'ناچ گرلز' کے نام سے جانا جاتا تھا  اور 19ویں صدی میں ان کے پیشہ کو جسم فروشی کا نام دیا گیا۔

نتیجہ کے طور پر ان کے ان کا بھارت کے کلاسیکل آرٹ میں کردار  کو عوا م کے ذہنوں سے محو کر دیا گیا اور ان کی کہانیوں کو تاریخ میں کوئی جگہ نہ دی گئی۔ اپنی شان و شوکت کے دنوں میں طوائفیں بھارت کے آرٹ اور کلچر  میں میوزک اور ڈانس  کے ذریعے اپنا بھر پور کردار ادا کیا کرتی تھیں۔

مصنف اور مورخ پران نیول جو اس موضوع پر اہم آواز سمجھتے جاتے ہیں نے ان عوامی تفریح کے ذرائع  اورآپسارہ  کے بیچ تعلق کو واضح کیا ہے۔ اپنی کتاب  "Nautch Girls of India: Dancers, Singers, Playmates, " میں  نیول نے بتایا کہ نارتھ انڈیا سے تعلق رکھنے والی طوائفوں  کے پاس دولت، طاقت، اثر و رسوخ، سیاسی تعلقات،  سب کچھ تھا اور انہیں ثقافت کے  ضامن سمجھا جاتا تھا۔ شریف اور امیر خاندان کے لوگ اپن بیٹوں کو ان کے پاس تہذیب، آداب اور بات چیت کے طریقے  سیکھنے بھیجتے تھے ۔ طوائفوں کی ترقی کا سفر مغل دور حکومت میں  اپنی انتہاوں کو چھونے لگا۔ بہترین طوائفیں  جنہیں دری دار طوائف کے نام سے جانا جاتا تھا دعوی کرتی تھیں کہ ان کا تعلق مغل دربار کے با عزت گھرانوں سے تھا۔ وہ بادشاہوں اور نوابوں کے ہاں کام کرتی تھیں۔ ان  میں سے بہت سی طوائفیں اعلی  درجہ کی ڈانسرز اور سنگرز بھی تھیں جو پر سکون اور شاہانہ زندگی گزارتی تھیں۔ طوائف سے تعلق رکھنے کا مطلب تھا کہ آپ ایک صاحب حیثیت، دولت مند ، مہذب اور ثقافتی شخصیت ہیں۔ اس وقت کوئی بھی طوائف کو بری خاتون یا قابل رحم نہیں سمجھتا تھا۔ اس بارے میں ابھی تک کوئی حتمی ریسرچ موجود نہیں جو یہ پتا دے سکے کہ ان طوائفوں کی زندگی میں جنسی تعلقات کی کتنی اور کیا اہمیت تھی۔ جو چیز البتہ واضح ہے وہ یہ ہے کہ  ان کی زندگیوں کو ایک وسیع برش کے ساتھ   تبدیل نہیں کیا جا سکتا تھا۔ طوائفوں کو با حیثیت اور دولتمند خواتین سمجھا جاتا تھا  اور اگر وہ کسی کےس اتھ جنسی تعلقات قائم کرتی تھیں تو اس میں ان کی مرضی شامل ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ اس نظام میں درجہ بندی ہوتی تھی پرفارمنگ آرٹسٹس کے درمیان اور سب سے زیادہ رتبہ طوائف کا ہوتا تھا، اور وہ جسم فروشوں اور سٹریٹ پرفارمرز سے کہیں زیادہ اعلی درجہ پر فائز تھیں۔   برطانوی سامراج کی آمد کے ساتھ ان کی کمائی میں خاطر خواہ کمی آنے لگی۔ ان کا شاہانہ نظام زندگی  کا رنگ  مدہم پڑنے لگا کیونکہ ان کے علاقے پر ایسٹ انڈیا کمپنی کا کنٹرول بڑھنے لگا  لیکن  سب سے زیادہ نقصان تب ہوا جب 1857 میں بغاوت کا علم بلند ہوا۔ اس وقت تک مغل ایمپائر کو کمزور ہوتے دھائیوں کا عرصہ گزر چکا تھا۔ دہلی کو پیچھے چھوڑ کر بہت سی طوائفیں لکھنو کی ریاست اودھ میں منتقل ہو گئیں جہاں نواب ابھی تک اس آرٹ کو سپورٹ کرتے تھے۔

لیکن لکھنو میں ان کی قسمت بدلنے میں زیادہ عرصہ نہیں لگا۔ برطانیہ نے 1856 میں اودھ سٹیٹ کو بھیقبضے میں لے لیا اور جب بغاوت سختی پکڑنے لگی تو طوائفوں پر بھی بہت کڑا وقت آ گیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف  نفرت بڑھنے لگی اور طوائفوں نے  بھی پردے کے پیچھے سے اس انقلاب میں اپنا کردار ادا کیا۔ ان کے کوٹھے   باغیوں کے لیے میٹنگ زونز کی شکل اختیار کر گئے۔ جو طوائفیں بہت امیر تھیں انہوں نے باغیوں کو مالی مدد فراہم کی۔ جس طرح کی طاقت اور اثر و رسوخ انہوں نے ظاہر کیا اس کی تفاصیل وینا تلوار اولڈن برگ کی ایک مضمون بعنوان "مزاحمت کا عمل: لکھنو کی طوائفوں کا معاملہ" کے نام سے لکھے مضمون میں شامل ہیں ۔ سوک سروس ٹیکس ریکارڈ دورانیہ 1858 سے 1877 کا انہوں نے تفصیلی  معائنہ کیا جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ طوائفیں اس وقت کے سب سے بڑے ٹیکس بریکٹ میں تھیں اور شہر کی سب سے زیادہ انکم ٹیکس دینے والی شخصیات تھیں۔ اس مضمون میں یہ بھی لکھا  ہے کہ بغاوت کے بعد تمام اداروں پر بھی سخت کریک ڈاون کیا گیا۔ اولڈن برگ لکھتی ہیں:

پراپرٹی لسٹ پر بھی طوائفوں کے نام موجود تھے جن میں گھر، باغات، مینوفیکچرنگ اور ریٹیل بزنس، وغیرہ کے بزنس شامل ہیں، یہ سب چیزیں لکھنو کے محاصرے  کے دوران  برطانوی عہدیداروں نے قبضے میں لے لی    جس کی وجہ 1857 میں ان کی بغاوت میں شمولیت تھی۔

یہ خواتین اگرچہ کسی طرح کی مسلح جدو جہد میں شامل نہیں ہوئیں لیکن پھر بھی انہیں باغیوں کی مدد کرنے اور عوام کو برطانوی حکومت کے خلاف ابھارنے پر سزائیں دی گئیں۔
ایک اور 20 صفحات پر پھیلی فہرست میں جنگ سے حاصل ہونے والی مال غنیمت کی تفصیل بیان کی گئی ہے جو مال غنیمت محل کے فیمیل ڈپارٹمنٹ سے  اور قیصر باغ نامی گارڈن کمپلیکس سے اکٹھی کی گئی ۔ قصر باغ میں دفن سابقہ بادشہ واجد علی شاہ کے تین سو سے زائد  ساتھی رہائش پذیر تھے جب برطانوی حکام نے اسے قبضہ میں لیا۔
یہ ایک شاندار فہرست ہے جس میں امراء  کی ملکتی میں جو چیزیں ہوتی ہیں بشمول سونے چاندی کے زیورات، قیمتی پتھروں کی بنی جیولری، کڑھائی کیے کپڑے ، خوبصورت چادریں،  جواہرات سے سجی ٹوپیاں اور جوتے، سونے چاندی اور ہیرے اور دوسری قیمتی دھاتوں سے بنے فلائی وسکس، کھانے پینے کے برتن جن میں پلیٹ، چمچ، حقہ، سلور کے برتن،اور دوسرے اہم اوزاور شامل تھے۔
اپریل میں ممبئی میں ہونے والے سمپوزیم نے اولڈن برگ نے طوائفوں کے جواب میں برطانوی حکومت کی جوابی کاروائی کے واقعات پر مزید روشنی ڈالی۔ وہ کہتے ہیں: انہوں نے کوٹھوں کی تلاشی کے وارنٹ جاری کیے  اور کوٹھے ڈھانے کا بھی عمل شروع کیا، توڑ پھوڑ کی گئی اور پردے بھی کھینچ کر پھاڑے گئے۔ اس طرح طوائف کلچر کو جسمانی طور پر بری طرح نشانہ بنایا گیا۔

تاریخ نے ایک اور اہم نام جو فراموش کیا وہ بیگم حضرت محل تھیں۔آخری نواب اواد ، واجد علی شاہ کی اہلیہ  حضرت محل  بھی شادی سے قبل ایک طوائف تھیں۔ بغاوت کے دوران جب ان کے خاوند جلاوطنی کا سامنا کر رہے تھے ، ان کی لیڈر شپ میں کچھ باغیوں نے مختصر عرصہ کے لیے لکھنو  پر قبضہ کیے رکھا  اور ان کے بیٹے برجیس قادر کو وہاں کا بادشاہ بنایا گیا۔ جب 1858میں برطانوی افواج نے لکھنو کو واپس اپنے قبضے میں لیا تو حضرت محل نے نیپال میں  سیاسی پناہ لے لی اور 1879 میں اپنی وفات تک وہیں قیام کیا۔ ادھر کان پور میں  افواہیں تھیں کہ وہاں بھی ایک کوٹھے والی نے 1857 کی بغاوت میں اہم کرار ادا کیا تھا ارو اس کا  بی بی گھر قتل عام میں بہت بڑا ہاتھ تھا ۔ اس واقعہ میں 100 سے زائد  برطانوی خواتین  اوربچے قتل ہوئے تھے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق سازش کرنے والی طوائف کا نام حسینی تھا جو کہ سنگھ کے مطابق کم تر درجہ کی ایک طوائف تھیں۔

وہ لکھتی ہیں کہ حسینی اور عزیزن بائی کے علاوہ بھی  "ہزاروں ایسی داستانیں ہیں  جن سے خواتین کا بغاوت کی تحریک میں حصہ لینے کا پتہ چلتا ہے " لیکن ان میں سے زیادہ تر کہانیاں ریکارڈ پر موجود نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر  یہ واقعہ کے بہت سی لڑکیاں برطانوی سپاہیوں کے خلاف لڑنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئی تھیں۔

بھارت میں اٹھنے والی بغاوت برطانوی سامراج کے لیے  ٹرننگ پوائنٹ اور طوائفوں کے فن کی موت  کے سفر کا آغاز تھا۔ انتظامیہ اب براہ راست برطانوی حکام کے زیر کنٹرول تھی  جس کی وجہ سے وکٹورین دور کی اخلاقیات کو پروموٹ کیا جانا تھا جس میں عورت کے گھر میں بند رہنے اور پاک بازی کو بہت اہمیت دی جاتی تھی۔ عوام کے سامنے اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کی وجہ سے طوائفوں کو جسم فروشی کرنے والی خواتین اور ان کے کوٹھوں  کیطرح سمجھا جاتا تھا جہاں دھائیوں سےامیر لوگوں کو یہ خواتین تفریح فراہم کرتی تھیں۔

متعدی بیماری ایکٹ 1864  جس کا مقصد برطانوی فوجی کیمپوں میں متعدی بیماریوں کو پھیلنے سے روکنا تھا کی وجہ سے برطانوی حکام کو موقع ملا کہ وہ طوائفوں کی کمائی کے راستے بند کر سکیں  اور اس مقصد کے لیے جسم فروشی کے خلاف قوانین کا استعمال کر کے مقدمے بنا سکیں۔عیسائی مبلغین اور بھارتی اصلاح پسندوں نے  اینٹی ناچ تحریک 1900 کی دہائی کے آخر میں شروع کی اور عوامی رائے عامہ بہت جلد ڈانسرز اور طوائفوں کے خلاف جانے لگی۔

جب ان کی کمائی کے ذرائع ختم ہو گئے  تو ان میں سے کچھ نے جسم فروشی شروع کر دی  جس سے ان کا پراسٹیٹیوشن سے تعلق زیادہ مضبوط ہو گیا۔ گوہر جان کی ایک ریکارڈنگ  ابھی بھی موجود ہے جو اپنے دور کی سب سے بہترین پرفارمنگ آرٹسٹس تھیں۔ جب برطانوی سامراج کے خلاف  1900 کی دہائی میں سوادیشی اور عدم تعاون تحریک کے ریعے بغاوت پھوٹنے لگی تو زیادہ تر طوائفوں کی سماجی حیثیت اور مالی حالت  1857 کے مقابلے میں بہت کمزور پڑ چکی تھی۔

اس کے باوجود  تاریخی ریکارڈ میں ملکی تحریک کے لیے ان کے تعاون اور مدد  کے واقعات شامل ہیں۔ گوہر جان، جو کہ ایک مشہور طوائف جنہوں1900 کی دہائی میں  ریکارڈنگ آرٹسٹ کی حیثیت سے بے شمار کامیابی اور شہرت ملی ان سے  مہاتما گاندھی نے ملاقات کی  اور انہیں سواراج فنڈ میں حصہ ڈال کر تحریک آزادی کے لیے کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔ انوہں نے اس شرط پر فنڈ ریزنگ کنسرٹ رکھنے کی حامی بھری کہ اس پرفارمنس کو دیکھنے کے لیے گاندھی خود تشریف لائیں گے۔ گاندھی اس موقع پر نہ پہنچ سکے اور گوہر جان نے اس موقع پر 24000 روپے  میں سے 12000 گاندھی کو  تحریک آزادی کے لیے بھیج دیے ۔ یہ قصہ وکرم سمپتھ نے اپنی کتاب 'مائی نیم از گوہر جان' میں لکھا ہے جو انہوں نے مشہور طوائف کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے لکھی۔

گاندھی کی طرف سے شروع کی گئی عدم تعاون تحریک  جو 1920 سے 1922 تک جاری رہی، کے دوران  ورناسی میں طوائفوں کے ایک گروپ نے طوائف سبھا تنظیم قائم کی جس کا مقصد تحریک آزادی کو سپورٹ کرنا تھا۔

سنگھ کے مطابق حسنا بائی جو اس سبھا کی صدارت کر رہی تھیں نے گروپ ممبران کو ترغیب دی کہ وہ احتجاج کے طور پر جیولری کی بجائے  لوہے کی زنجیریں پہنیں  اور غیر ملکی اشیا کا بائیکاٹ کریں۔ سنگھ نیشنلسٹ موومنٹ کے اگلے مراحل میں طوائفوں کے کردار کے بارے میں معلومات جمع کر رہے ہیں تا کہ اپنی نئی کتاب میں شامل کر سکیں۔ امرت لال ناگر کی 'یہ کوٹھے والیاں' نامی کتاب جو 1958 میں شائع ہوئی  میں طوائفوں کی زندگی پر تفصیلی بحث موجود ہے  جس میں ایک طوائف ودیا دھار بائی  کا ایک خط بھی شامل ہے جس میں انہوں نے ورناسی میں گاندھی سے ملاقات کا واقعہ بیان کیا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ گاندھی کی تجویز پر کچھ طوائفوں نے  قومی نغموں پر موسیقی پرفارمنس کے پروگرام منعقد کرنا شروع کیے۔ ایک ایسا گانا  جس کا ذکر خط میں موجود ہے 'چن چن کے پھول لے لو' ہے۔

یہ گانا آج بھی زندہ ہے۔ شھبا مدگال  کے 2008 کے البم سوادھینتا سمر گیت میں شامل کیا گیا  جو ایسا البم ہے جس میں تحریک آزادی کے دور کے گانے شامل کیے گئے ہیں۔ یہ میوزک ان کے خاوند  انیش پرادھان نے کمپوز کیا ہے۔ 2011 میں اس جوڑے نے ایک میوزیکل ڈراما"سٹوریز ان اے سونگ"   پر تھیٹر ڈائریکٹر سنیل شانبیگ کے ساتھ ملاقات کی  جس کی ایک قسط میں گاندھی کی طوائف سبھا کے ساتھ ملاقات کے منظر کو عکسبند کیا گیا تھا۔

مدغل نے کہا: آرٹسٹوں کی طرف سے سماجی اور سیاسی تبدیلی کے مطالبہ نے انہیں ودیا دھار بائی کے گانے کی طرف راغب کیا۔ یہ گانا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ  یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ اس قت سیاسی طبقہ انہیں مختلف ڈسکشنز میں طویل المدتی سطح پر شرکت کا موقع دیتا تھا نہ کہ صرف الیکشن کی حکمت عملی پر بات کرنے کے لیے۔ انہیں کہا جا رہا تھا کہ وہ تحریک میں حصہ لیں  اور پبلک لائف میں بھی کھل کر  اپنی زندگی جینے کی کوشش کریں۔

ملک کے دوسرے حصوں میں بھی سابقہ طوائفیں اور جسم فروش خواتین  نے آزادی کی تحریک میں بھر پور حصہ لینے کی ہر ممکن کوشش کی۔ گاندھی  نے برسال (موجودہ بنگلہ دیش) اور کاکیناڈا (موجودہ آندھرا پردیش) میں طوائفوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی  جس میں ان جسم فروش خواتین نے انڈین نیشنل کانگریس کا حصہ بننے کی خواہش ظاہر کی۔ گاندھی نے ان خواتین کو نصیحت کی کہ وہ جسم فروشی کی بجائے چرخہ چلا کر روزی کمانے کو ترجیح دیں۔

"میرا دل ان بہنوں کے ساتھ تھا  لیکن برسال میں جو طریقے اختیار کیے گئے میں خود انہیں پہچان نہیں سکا۔" انہوں نے 'ینگ انڈیا'  جو کہ ان کا ہفتہ وار شمارہ تھا میں ایک ایڈیٹوریل میں رکھا  جو جون 1925 میں شائع ہوا تھا۔  "میری یہ رائے ہے  کہ جب تک وہ شرمندگی کی زندگی گزارتی رہیں گی تب تک ان سے صدقات خیرات اور ان کی خدمات بھی نہیں لی جانی چاہیے تھیں ، نہ ہی انہیں نمائندہ کے طور پر انتخاب کے عمل سے گزرنے دینا چاہیےتھا اور نہ  انہیں کانگریس کا ممبر بننے کی ترغیب دینی چاہیے تھی۔

سنگھ کا کہنا ہے کہ شتر مرغ کا یہ رویہ ہی اس چیز کا ذمہ دار ہے کہ ہم نے آزادی کی تحریک میں طوائفوں کے کردار کو نظر انداز کر دیا ہے۔ "مڈل کلاس خواتین بھی جو اس تحریک کا حصہ تھیں کہا کرتی تھیں کہ وہ چاہتی تھیں کہ طوائفیں ان کے آس پاس نظر نہ آئیں۔ طوائفوں کا ساتھ یا ان کے ساتھ موجودگی مڈل کلاس  خواتین میں بے چینی پیدا کر دیتی تھی۔ "

یہ  ٹوٹی پھوٹی کہانیاں جب جوڑ کر دیکھی جائیں  تو ایک ایسی تصویر بنا دیتی ہیں جن سے وہ طریقےسامنے  سمجھے جا سکتے ہیں جن میں طوائفوں نے آزادی کی تحریک میں کردار ادا کرنے کی کوشش کی۔

چترویدی کا کہنا ہے کہ ان میں سے بہت سی کہانیاں اس لیے گم ہو چکی ہیں کیونکہ ہم نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ طوائفوں کو اتنی اہمیت ملنی چاہیے کہ ان کے بارے میں لکھا جائے۔ لیکن  زبانی سطح پر تو یہ کہانیاں بہت مشہور ہیں۔

چتر ویدی کا 'دی کورٹیسن پراجیکٹ"  ان تمام چیزوں کو جمع کر کے ڈانس پرفارمنس  اور ممبئی جیسے سیمنارز کے ذریعے  دنیا بھر کےسامنے لانے کا بڑا اقدام ہے۔

وہ ڈاکومنٹیشن پراجیکٹ کے ذریعے  اپنی مکمل ریسرچ کو جمع کر نےکا ارادہ رکھتی  ہیں جس کو ایک کتاب کی تالیف اور ایک ویب سائٹ کے ذریعے قارئین کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

"ہم نے ان سے سب کچھ چھین لیا، یہاں تک کہ ان کی مسوسیقی، ڈانس اور شاعری بھی، لیکن ہم نے کبھی انہیں کریڈٹ نہیں دیا۔ ہمیں ان کا احترام کرنا چاہیے۔ ہمیں انہیں پہچاننا چاہیے  اور مجھے امید ہے کہ  ہم ایسا زندگی بھر کر سکتے ہیں۔"

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *