نوازشریف کے ”لایعنی“ ٹیسٹ اور کالم نگار

نوٹ: دنیا پاکستان کا یہ نیا سلسلہ قارئین کے پر زور اصرار پر شروع کیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے کالم نگار کالم لکھتے ہوئے تاریخی حقائق کی نفی کرتے ہیں۔ اکثر اوقات کالم نگار خواتین و حضرات کے کالم پڑھتے ہوئے باشعور قارئین کے ذہن میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں یا دوسرا نقطہ نظر ذہن میں آتا ہے۔ ہم وہی سوالات یا فیڈ بیک یا درست حقائق سرخ روشنائی میں درج کر رہے ہیں۔ تاکہ دوسرا منظر بھی سامنے آسکے۔ اختلاف رائے اور متنوع آرا معاشرے کا حسن ہیں اور مکالمہ معاشرے کی ترقی کی علامت ہے۔ ( ایڈیٹر )

نوازشریف کے ”لایعنی“ ٹیسٹ اور کالم نگار

خامہ بدست کے قلم سے
”خود کردہ راعلاجے نیست“ کے زیر عنوان ارشاد احمد عارف صاحب نے اس بار میاں نوازشریف کی بیماری کو موضوع بنایا ہے(بلکہ اس حوالے سے ان کا مذاق اڑایا ہے) روزنامہ 92نیوز میں اپنے کالم ”طلوع“ میں فرماتے ہیں: میاں نوازشریف ذوالفقار علی بھٹو کی طرح سیاست میں کسی ارفع قومی مقصد کے حصول کے لیے آئے، نہ جمہوریت کی ترویج وبقا ان کا نصب العین تھا اور نہ جیلوں کی صعوبتیں برداشت کے لیے انہوں نے سیاست کی وادی پر خار میں قدم رکھا۔ وہ اور ہی لوگ تھے جو سیاست میں کچھ لینے نہیں، دینے، کمانے نہیں، لٹانے اور پانے نہیں گنوانے آئے۔ آغا شورش کاشمیری کی ایک مشہور نظم ”ہم نے اس وقت سیاست میں قدم رکھا تھا“ Repeatکرتے ہوئے انہوں نے برصغیرکے بعض بڑے سیاستدانوں کا حوالہ دیا: مولانا محمد علی جوہر، مولانا حسرت موہانی، سید عطا اللہ شاہ بخاری، مولانا سید ابوالاعلی مودودی، مولانا عبدالستار خان نیازی، نواب بہادر یار جنگ، سردار عبدارب نشتر، حسین شہید سہروردی، نوابزادہ نصر اللہ خان، مولانا شاہ احمد نورانی، اور سردار شیر باز خان مزاری جیسے اجلے، نظریاتی اور دلیر لوگ سیاست کو حصول مقصد کا ذریعہ سمجھ کر آ ئے،صلہ وستائش کی تمنا سے بے نیاز جانگسل جدوجہد کرتے گزرگئے۔ جہاں تک ”کچھ لینے نہیں دینے، کمانے نہیں لٹانے اور پانے نہیں گنوانے“ کا معاملہ ہے، بھٹو صاحب تو ایک جاگیر دار تھے اور ظاہر ہے کہ ان سے ناراض حکمران، ان کی جاگیر تو چھیننے سے رہے، میاں نوازشریف ایک صنعت کار خاندان سے تھے، جو نوازشریف(اور شہبازشریف) کے بچپن ہی میں اس دور کے لحاظ سے کروڑ ہاپتی تھا۔ بھٹو صاہحب کی نیشنلائزیشن کا پہلا مرحلہ ملک کی بڑی اور بھاری صنعتوں کی نیشنلائزیشن تھی اور اس میں شریف فیملی کی ”اتفاق“ بھی تھی۔ مقصد پیسہ کمانا ہی تھا، تو انہیں اپنی پہلی وزارتِ عظمیٰ میں جنرل اسلم بیگ اور صدر غلام اسحاق سے پھڈا لینے کی ضرورت نہیں تھی، بے نظر صاحبہ کا پہلا دور بھی ان کی انڈسٹری کے لیے ساز گار نہ تھا،ان کے دوسرے دور میں بھی انہوں نے مقدمات کا سامنا کیا، میاں محمد شریف، شہباز شریف اور حمزہ شہباز تو قید بھی کئے گئے۔ پھر مشرف دور میں توانہیں جلا وطنی کے علاوہ اپنی صنعتوں کی تباہی کا سامنا بھی کرنا پڑا، ماڈل ٹاؤن میں ان کی ذاتی رہائش گاہ پر قبضہ کرکے اسے ”بزرگ شہریوں کی پناہ گاہ“ بنا دیا گیا۔ 12اکتوبر 1999کی شب، جب وہ زیر حراست تھے، جنرل محمود یہ پیشکش لیکر آئے تھے کہ وہ تین کاغذات پر دستخط کرکے، مستقبل کی مصیبتوں سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔ اور عیش وآرام کی زندگی گزارسکتے ہیں، لیکن انہوں نے انکار کردیا اور اب پھر وہ اپنی سیاسی زندگی کی بدترین آزمائش سے گزرہے ہیں وہ 13جولائی کوبسترِمرگ پر اپنی شریک حیات کو چھوڑکر، اپنی بیٹی کے ساتھ گرفتاری دینے واپس آگئے، حالانکہ انہیں یہ ”پیغام“ بھی پہنچا یا جاچکا تھا کہ وہ واپس نہ آئیں۔جن عظیم شخصیتوں کے نام فاضل کالم نگار نے دیئے ہیں، کیا وہ بھول گئے کہ ان پر بھی غداری اور قوم دشمنی کے الزامات لگائے گئے تھے نوازشریف اگر آج اپنی قید وبند کے خلاف عدالتی جنگ لڑ رہے ہیں، تو ان عظیم شخصیتوں نے بھی عدالتوں میں اپنی بے گناہی کی جنگ لڑی تھی۔مزید لکھتے ہیں، 1953کی تحریک ختم نبوت کے دوران فوجی عدالت سے مولانا سید ابوالاعلی مودودی اور مولانا عبدالستار خان نیازی کو سزائے موت ملی، مگر دونوں نے سزا کو جوتے کی نوک پر رکھا اور حکمرانوں کی طرف سے رحم کی اپیل کا مشورہ حقارت سے ٹھکرادیا، فاضل کالم نگار بتائیں کہ نوازشریف نے ”حکمرانوں سے رحم“ کی اپیل کب کی؟ اپنی سزا کے خلاف عدالت میں مقدمہ لڑنا، اور نچلی عدالت کے فیصلے سے بالائی عدالت میں ”اپیل“ کرنا ہر شہری کا حق ہے، یہ ”رحم کی اپیل“ انہیں ہوتی۔ اور مولانا مودودی اور مولانا نیازی نے بھی عدالت میں اپنا مقدمہ لڑا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

متانت اور حب الوطنی کا نیا معیار،شریفوں کو گالی

نواز،مودی تعلقات.... ساڑھے تین سال بعدایک ”انکشاف“

مگر ارشاد صاحب کو یہ عارفانہ بات کس نے بتائی؟

عبدالقادر حسن اور۔۔۔’’دونوں بھائی‘‘

حیرت ہے، فارن آفس میں ایسے ایسے لوگ بھی رہے ہیں!!

دوکالموں پر ایک نظر

”ثاقب نثار کی ججی“.... اور کالم نگار کا تصورِ انصاف؟

آ گے لکھتے ہیں: سپریم کورٹ نے طبی بنیادوں پر انہیں چھ ہفتے کے لیے رہا کرکے علاج معالجے کا موقع فراہم کیا، مگر معلوم نہیں کس بنا پر وہ ایک دن بھی ڈھنگ کے کسی ہسپتال میں داخل نہ ہوئے اور چھ ہفتے سیاسی ملاقاتوں، عمران خان کے خلاف منصوبہ بندی اور ”لایعنی ٹیسٹوں“ میں ضائع کردیئے اور عدلیہ کے علاوہ قوم کو یہ باور کرایا کہ علاج محض بہانہ نہ ہے، اصل ہدف کسی نہ کسی طرح خود ساختہ جلا وطنی ہے۔
ہمیں نہیں یاد پڑتا کہ ان 6ہفتوں میں انہوں نے کوئی سیاسی ملاقاتیں کی ہوں اور عمران خان کے خلاف کوئی منصوبہ بندی کی ہو۔ وہ شریف میڈیکل سٹی میں متعدد بار گئے، جہاں سینئر ڈاکٹروں نے ان کے طبی معائنے کئے، ان میں لاہور کے باہر سے آنے والے ڈاکٹربھی تھے، جنہیں فاضل کالم نگار ”لایعنی“ٹیسٹ قرار دے رہے ہیں، گویا کسی ٹیسٹ کے ”بامعنی“اور”لایعنی“ ہونے کا فیصلہ بھی اب فاضل کالم نگار کریں گے۔ اور معاف کیجئے!یہ ٹیسٹ بھی علاج ہی کا حصہ ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

”شریفوں کی سیاسی باتیں“

جائز تعریف کے حوالے سے، تنگدلی اور ایسی تنگدلی؟

”صحت“پر ”صحافت“۔ اور ایسی صحافت؟

بے پناہ نفر ت اور بے حساب حسرت اُبل رہی ہے

لیکن یہ نظامی صاحب کا نوائے وقت نہیں

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *