طاقت کے بنیادی اجزا

دنیا بھر میں طاقت پر بہت تحقیق کی گئی ہے کہ آخر یہ طاقت کیا چیز ہے؟ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ طاقت صرف اختیار کا نام ہے، آپ جتنے بااختیار ہیں اتنے ہی طاقتور۔ کچھ لوگوں نے طاقت کو دولت سے جوڑا ہے یعنی آپ دولت سے اختیار یا اقتدار خرید کر طاقتور بن سکتے ہیں، جتنے دولتمند اتنے ہی طاقتور۔ طاقت کی بحث میں شامل بعض لوگ شہرت کو بھی طاقت قرار دیتے ہیں یعنی جتنے مشہور اتنے ہی طاقتور اور بااثر۔ بحث میں شامل ایک طبقہ ایسا بھی آیا ہے جس کا کہنا ہے کہ طاقت بذات خود کوئی چیز نہیں، دراصل یہ محض ایک تاثر ہے۔ جب تک آپ کی طاقت کا تاثر موجود ہے آپ طاقتور ہیں جونہی آپ نے طاقت کا استعمال کیا آپ کی طاقت کو ردعمل کا سامنا کرنا پڑا اور آپ کا تاثر ختم یعنی طاقت ختم۔

آسان لفظوں میں طاقت کی ترکیب میں اختیار، دولت اور شہرت سب شامل ہیں مگر یہ سب ایک مضبوط تاثر کی بیساکھیوں پر کھڑے ہیں۔ اگر تاثر کی بیساکھیاں ہٹا دی جائیں تو طاقت ختم اور طاقتور دھڑام سے نیچے۔ طاقت کے اوپر بیان کیے گئے تین بنیادی اجزاء یعنی اختیار، دولت اور شہرت میں سے کوئی ایک بھی آپ کے پاس باقی لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہے اور آپ اس کا صحیح استعمال کرتے ہیں تو باقی دو اجزاء خود بخود آپ کے پاس آجاتے ہیں۔

پاکستان کی حالیہ 20سالہ تاریخ میں سب سے طاقتور اور بااختیار حکمران صرف پرویز مشرف تھے۔ چونکہ ان کا اقتدار ہی آئین و قانون کو پامال کرکے حاصل کیا گیا تھا لہٰذا چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ان کی طاقت کے تاثر کو مارچ 2007میں اپنی برطرفی کے احکامات نہ مان کر چیلنج کیا۔ نتیجے کے طور پر پہلے آٹھ ماہ میں انہیں وردی اتارنا پڑی اور کل ملا کر ایک سال پانچ ماہ کے اندر اقتدار سے مکمل طور پر ہاتھ دھونا پڑے۔ جس طرح سازش انہیں اقتدار میں لائی اسی طرح سازش نے انہیں اقتدار سے نکالا۔ یعنی پرویزمشرف کی طاقت کا سارا تاثر کسی غبارے سے ہوا کی طرح زائل ہوگیا۔

جنرل پرویز مشرف کے بعد عمران خان سب سے طاقتور حکمران کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ نوازشریف اور آصف علی زرداری کو ریاستی اداروں کی وہ حمایت حاصل نہیں تھی جو عمران خان کو ہے۔ عمران خان کی طاقت کا بغور جائزہ لیں تو پتا چلے گا کہ ان کے پاس طاقت کے تین بنیادی اجزاء میں سے صرف شہرت سب سے زیادہ تھی۔ اس شہرت کو انہوں نے طاقت کے باقی دو اجزاء کے حصول کے لئے استعمال کیا۔ یعنی پہلے دولت اور پھر اقتدار۔

عمران خان نے ابھی حال ہی میں بجٹ اجلاس کے دوران پارلیمانی پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ ملکی تاریخ کے ایسے منفرد وزیراعظم ہیں کہ جن کو ریاستی اداروں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ یہ محض ایک دعویٰ ہی نہیں بلکہ کھلی حقیقت بھی ہے۔ وہ جس کو چاہیں جہاں تعینات کریں جس کو چاہیں جہاں لگائیں، اس کا اظہار ان کی مرضی کے عین مطابق کیا جارہا ہے۔ یعنی عمران خان کی طاقت اپنے مکمل جوبن پر ہے جبکہ اپوزیشن جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اپنے زوال کی انتہا پر موجود ہیں۔ حقیقی طاقت کے تاثر کو کوئی چیلنج کرنے والا ہے نہ ایسی سوچ اپوزیشن کی کسی بھی جماعت میں پائی جاتی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں خود پر لگے چور اور ڈاکو کے الزامات اور داغ دھبوں کو دھونے میں مصروف ہیں۔

مگر عمران خان کی طاقت کے تاثر کو بجٹ نے پامال کیا ہے۔ لوگ مایوس ہوئے ہیں۔ اپوزیشن کی جماعتیں وہ کام نہیں کرسکیں جو خود عمران خان نے کردیا ہے۔ ویسے یہ سب کچھ کرنا ان کی مجبوری بھی تھا کیونکہ معیشت کے میدان میں اس کے علاوہ کوئی آپشن موجود نہیں تھا اور حکومت کے پاس صلاحیت کا فقدان اور ناتجربہ کاری کے مسائل بھی موجود تھے۔ یہ سب مل جائیں تو تباہی اور تباہی کے نتیجے میں عوامی غیظ آپ کا مقدر بن ہی جاتا ہے۔

ایک حکومتی وزیر سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ جولائی کے بعد معیشت کے میدان میں آنے والا طوفان تھم جائے گا۔ ان کا خیال ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ جولائی میں معاہدہ ہوجائے گا جس کے بعد ایشین ڈویلپمنٹ بینک اوردیگر مالیاتی ادارے بھی حکومت کی مدد کے لئے آجائیں گے۔ اس لئے مایوسیوں کی یہ فضا ختم ہوجائے گی تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ اگلے چھ ماہ یا ایک سال میں کوئی بڑی اچھی خبر عوام کے لئے موجود نہیں ہوگی لیکن اگر عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تو ظاہر ہے اس کا بوجھ عوام پر ڈالا جائے گا۔ فرض کریں معزز وزیر کی بات مان لی جائے مگر کیا مہنگائی کے اس طوفان کا مقابلہ کرتے عوام یہ سب مسائل سننے یا سمجھنے کے لئے تیار ہیں؟ وزیراعظم کی تقاریر عوام کی سکڑتی جیب کا زیادہ دیر مداوا نہیں کرسکتیں۔ سوچ اور سمجھ رکھنے والے لوگ عمران خان اور ان کی حمایت کرنے والے دونوں کو تنقیدکا نشانہ بنارہے ہیں۔ یہ تنقید فی الحال تو گھروں میں بیٹھ کر کی جا رہی ہے مگر نومبر تک لوگ گھروں میں نہیں بیٹھیں گے۔ موسم بدلتے ہی لوگ نکلیں گے اور ایک نیا کھیل شروع ہو جائے گا۔

پاکستان میں طاقت کے اس کھیل میں ایک بار پھر یہ بات ثابت ہورہی ہے کہ محض مکمل اختیار، دولت اور شہرت ہی اقتدار یا طاقت کی بنیادی جزیات نہیں بلکہ عوامی حمایت بھی طاقت کا اہم ترین جزو ہے۔ دھونس دھاندلی اور دھمکی کے ذریعے وقتی عوامی حمایت تو حاصل کی جا سکتی ہے مگر طرزِ حکمرانی میں استعداد اور اہلیت کی کمی وقت کے ساتھ یہ حمایت زائل کر دیتی ہے۔ طاقت کے کھیل میں جمہوریت نے آئین کے ذریعے عوامی حمایت کا اصول متعارف کروایا تھا۔ شفاف انتخابات ہی اس اصول کے ضامن ہوتے ہیں۔

تعزیت اور خبر

معروف صحافی رحمت علی رازی پچھلے دنوں لاہور میں انتقال کرگئے۔ بیوروکریسی کے بارے میں ان کی رپورٹنگ کا ایک زمانہ معترف رہا۔ ان کے کام پر ایک مفصل تحقیق کی ضرورت ہے۔ امید ہے پنجاب یونیورسٹی کا شعبۂ صحافت ان کی خدمات کو نظرانداز نہیں کرے گا۔ رازی صاحب روزنامہ جنگ کے انہی صفحات پر کالم بھی لکھتے رہے۔ ان کے کالم کا حسن اس کے آخر پر بیورو کریسی کے بارے میں خبریں ہوا کرتی تھیں۔ انہیں خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے یہ طالبعلم انہی کی طرز پر ایک خبر قارئین کی نذر کررہا ہے۔

خبر یہ ہے کہ نیب راولپنڈی نے گاڑیوں کے غلط استعمال کے کیس میں مسلم لیگ (ن) کے دور میں ایک سابق سیکرٹری خارجہ کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ان کی گرفتاری مہینوں نہیں بلکہ چند ہی دنوں کی بات ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *