شہری آزادیاں فروخت ہو رہی ہیں

آصف زرداری کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ نواز شریف جیل میں بیٹھے سزا بگھت رہے ہیں جب کہ ان کی اپیلوں پر سماعت ہونا باقی ہے۔ نیب نے پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ نیشنل اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اس وقت ضمانت پر ہیں اور بہت جلد انہیں بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ سپیکر سندھ اسمبلی سراج درانی بھی زیر حراست ہیں۔نواز شریف کے علاوہ باقی سارے سیاستدان اس لیے گرفتار ہیں  کیونکہ ریاست کے الزام ہے کہ انہوں نے مجرمانہ کاروائیاں کر رکھی ہیں۔  ان الزامات کی وقعت اور ان کا درست یا غلط ہونا ابھی ثابت کرنا باقی ہے۔ کچھ لوگوں کے لیے صرف یہ گرفتاریاں ہی  احتساب کی علامت ہیں جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔ قانون کی حکمرانی اور بنیادی حقوق  کے بارے میں یہ گرفتاریاں کیا ثابت کرتی ہیں یہ دیکھنے کے لیے ہمیں  جان رال کے 'جہالت کا پردہ' نامی اصول کو اپلائی کرنا ہو گا۔ ہمیں زرداریوں اور شریفوں کو نظر میں رکھے بغیر  ان گرفتاریوں کے گرد ان حدود کا تجزیہ کرنا ہو گا  اور یہ دیکھنا ہو گا کہ باقی سب لو گ جو سپریم کورٹ کے طے کیے گئے ضابطہ کے مطابق  جیل میں رہیں گے  ، سپریم کورٹ کا قانون ہے کہ کوئی بہت زیادہ غیر معمولی ہارڈ شپ کی صورتحال ہو تبھی نیب کے قوانین میں ضمانت کی اجازت دی جا سکتی ہے ورنہ نہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ نیب جس شخص پر الزام لگا دے  اس شخص کا عدالت سے سزا یا بریت کا فیصلہ آنے تک وہ جیل میں رہے گا۔

چلیں بنیادی نکات سے شروع کرتے ہیں۔ نہ ہی آرٹیکل 199 اور نہ کوئی اور آئینی شق ہائی کورٹ کو ضمانت دینے کی اجازت دیتی ہے۔ کریمنل پروسیجر کورٹ جو ہمیں انگریزوں کے قانون سے وراثت کی صورت میں ملا ہے  جس کا مقصد کولوئیل سٹیٹ اور ان میں رہنے والے عوام کے بیچ تعلق کو  ریگولیٹ کرنا ہے وہ ضمانت کی اجازت دیتا ہے۔ یہ کہتا ہے کہ قابل ضمانت جرائم کی صورت میں  ضمانت ہر ملزم کا حق ہے اس لیے اسے دی جائے گی۔ ناقابل ضمانت جرائم  جن کی سزا 10 سال یا اس سے زیادہ عرصہ کی قید ہے،   کی بھی ضمانت دی جا سکتی ہے  لیکن صرف تب جب ملزم کے گناہ گار ٹھہرنے کے واضح ثبوت موجود نہ ہوں۔

آزادی کے حصول کے بعد آئینی عدالتوں نے شہریوں کے حقوق کے سکوپ کو وسیع کرنا شروع کیا۔ یہ ایک قابل سمجھ بات تھی کیونکہ آئین اب ریاست اور شہریوں کے بیچ کے تعلق کو ریگولیٹ کر رہا تھا  کیونکہ آئین کو یہ حیثیت کسی اور صاحب اختیار نے نہیں بلکہ عوام نے دی تھی۔ آئین شہریوں اور ریاست کے بیچ ایک معاہدہ ہے جو شہریوں کو ریاست کے جبر سے تحفظ فراہم کرنے کا ضامن ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ آرٹیکل 4 میں لکھا ہے کہ  ریاست صرف وہی کر سکتی ہے جس کا اسے واضح حق دیا گیا ہے  اور دوسری طرف شہری کوئی بھی ایسی چیز کر سکتا ہے جس کی اسے کرنے سے ممانعت نہ  کی گئی ہو۔

اس ضمن میں  آئینی عدالتیں یہ اختیار رکھتی ہیں کہ وہ اس صورت میں ملزم کو  ضمانت دے سکتی ہیں جب  فواجداوی قوانی میں  قید اور حراست کے خلاف کوئی دوسرا حل نہ ہو۔ نیب آرڈیننس  ایک ایسا قانون ہے   اور اسفند یار ولی کے کیس میں یہ طے پایا تھا کہ ھائی کورٹ کے پاس اختیار ہے کہ وہ ملزم کو ضمانت دے  اگرچہ نیب قانون کے تحت ایسا اختیار نہیں دیا گیا  اور سزا کے طور پر ضمانت روکی نہ جائے۔ یہ اصول نیب قانون اور شریفوںاور زرداریوں کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔ یہ ایک عام کریمینل لا سے اخذ کیا گیا تھا  جو ہماری عدالتیں کئی دہائیوں سے استعمال کرتی آ رہی ہیں۔

منظور بمقابلہ ریاست (پی ایل ڈی 1972 ایس سی 81) میں عدالت نے ضمانت کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھا: ایسا کوئی اخلاقی یا قانونی فرض نہیں جس کی بنیاد پر کسی شہری کو جیل میں بند رکھا جائے  اس الزام پر کہ انہوں نے کوئی ایسا جرم کیا ہے جس کی سزا سزائے موت یا  ٹرانسپورٹیشن ہو،  جب تک  ان کے جرم کا کوئی واضح ثبوت اور شواہد موجود نہ ہوں۔ ایک سزا یافتہ مجرم کی سزا اور قید سے  اس غلطی کا ازالہ ہو جا ئے گا جسکا  ضمانت دینے کی وجہ سے ارتکاب ہوا ہے۔  لیکن ایک بے گناہ فرد کو قید رکھنے کی غلطی کا  کسی بھی طرح ازالہ نہیں کیا جا سکتا ۔"

ان اصول و جوابط  کی لاجک میں کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو  سمجھ نہ آ سکتی ہو۔ انصاف اور برابری کے لیے ایک انسان کو جرم ثابت نہ ہونے تک بے گناہ ماننا ایک بنیادی اصول ہے۔ جب ریاست ایک شہری پر کسی جرم کا الزام لگاتی ہے تو پھر  یہ ریاست کی ہی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ شہری پر الزام ثابت کرے اور اس مقصد کے لیے ناقابل تردید ثبوت مہیا کرے۔  آرٹیکل 9 کے تحت ہر شہری کو شخصی آزادی اور زندگی کے تحفظ کا حق حاصل ہے اور آرٹیکل 10 اے  کے بعد ہر انسان کو بغیر جرم کے سزا سے بھی تحفظ کا حق حاصل ہے  اور جب حق موجود ہے تو اس کی خلاف ورزی سے بچنے کا بھی کوئی طریقہ ہونا چاہیے۔

ایسے اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے  حیرت اس بات کی نہیں ہے کہ  کئی دہائیاں قبل سپریم کورٹ نے یہ  طے کر  دیا تھا کہ سزا کے طور پر ضمانت کو روکا نہیں جا سکتا۔ آرٹیکل 10 اے کی منطوری کے بعد اس نے یہ فیصلہ نہیں سنایا کہ صرف  خاص حالات ( بھاگ جانے، یا بار بار جرم کرنے جیسے معاملات) کی صورت میں  ضمانت روکی جا سکتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ جرم ثابت کرنے کے معاملے میں ہمارا ریکارڈ بہت خراب ہے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ٹرائل اور اپیل میں کئی سال  گزر جاتے ہیں۔ اس لیے ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ  لاانفورسمنٹ  والے ایسے الزامات لگا لیتے ہیں جن میں کچھ ثابت نہیں ہوتا اور لوگوں کو کئی سال جیل میں بغیر گناہ کے گزارنا پڑتے ہیں۔

تقریبا دو دہائیوں تک  جسٹس کھوسہ نے  ایسا کریمنل لا جورسپروڈنس کا نظام متعارف کروایا ہے جو اب کام آ رہا ہے۔ ایک ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے انہوں نے بہت سے فیصلے لکھے  جن  میں انہوں نے یہ طے کیا کہ  صرف  کریمنل پروسیجر   کی سیکشن 54 کی طرف  سے پولیس کو کسی کو بھی گرفتار کرنے کی آزادی کا یہ مطلب نہیں کہ  اس اختیار کو ناجائز طریقے سے بھی استعمال کیا جائے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ سپریم کورٹ نے بہت سے مجرموں کی سزائیں معطل کی ہیں  اور یہ لوگ دہائیوں تک جیلوں میں قید کاٹ چکے تھے۔ ایک ایسا معاملہ بھی تھا جس میں اپنی بے گناہی ثابت ہونے سے قبل ہی ملزم کو پھانسی دے دی گئی تھی۔

ان لوگوں سے کیسے نمٹا جائے گا جو اتنا عرصہ قید میں رہ کر بے گناہ ثابت ہو جاتے ہیں؟ کیا زندگی بھر کی آزادی، عزت اور زندگی کا مقصد کھو دینے والے شخص کے نقصان کا قانون ازالہ کر سکتا ہے؟ کیا ان شہریوں کو ان پولیس والوں کے خلاف عدالت جانا چاہیے جنہوں نے ان پر جھوٹ الزام لگائے جو وہ ثابت نہ کر پائے؟ یا پھر ان ججز کے خلاف عدالت جانا چاہیے جنہوںنے انہیں ضمانت نہیں دی  یا انہیں ٹرائل کے دوران ایسی سزا دی جو اعلی عدالتوں میں معطل ہو گئی؟  کیا یہ واضح نہیں ہے کہ ہمارا نظام ضمانت روکنے کے عمل کو  اور جیل میں گزرے وقت کو  ایک حقیقی سزا کے طور پر استعمال کرتا ہے؟  ایک کریمنل جسٹس سسٹم کو محفوظ اور محرک ہونا چاہیے۔ اگر یہ زیادہ تر لوگوں کو  سزا دینے کے قابل ہے تو یہ ایفیشنٹ ہے۔ لیکن اسے  محفوظ بھی ہونا چاہیے  اور صر ف ان لوگوں کو سزا سنائے  جن کے جرم کے واضح اور ناقابل تردید ثبوت موجود ہوں۔ ہم ایسے نظام کے ساتھ کام چلا رہے ہیں جو ان دونوں میں سے کوئی خاصیت نہیں رکھتا۔ اپنی ناکامی کا ازالہ کرنے کے لیے یہ کیسز کے التوا، غیر ضروری گرفتاریوں  اور بغیر ثبوت کے سزاوں جیسے طریقوں پر انحصار کرتا ہے۔ ایک ایسا لیگل سسٹم جو شہریوں کے جرائم ثابت ہونے سے قبل انہیں مجرم گردانتا ہے  وہ انصاف کے چہرے پر بد نما داغ ہوتا ہے۔

جب جوڈیشری نے سی آر پی سی کے اصول و ضوابط  آئین میں امپورٹ کیے  اور کسی اور حل کے سامنے نہ آنے پر  خودسے ضمانت دینے کا حق حاصل کیا تو اس نے کسی قسم کی قانون سازی کا سہارا نہیں لیا۔ اسی طرح جب اس نے فیصلہ سنایا کہ بنیادی حقوق   عوامی سطرح پر    واضح کیے جاتے ہیں  تو یہ جمہوری اصولوں کو  کو آئین میں داخل کر رہی تھی۔ اب  کیا چیز بدلی ہے جس نے سپریم کورٹ کو یہ فیصلہ دینے پر مجبور کر دیا ہے کہ نیب کے معاملات میں ضمانت کے سکوپ کو محدود کر دیا جائے  جس کی وجہ سے ضمانت تقریبا ناممکن ہو چکی ہے؟ پارلیمان نے تو نیب آرڈیننس یا آرٹیکل 199 میں کوئی تبدیلی نہیں کی  اسلیے سپریم کورٹ کو اپنے طور پر ضمانت کے سکوپ پر نظر ثانی کرنی پڑی۔  جب  کوئی آئینی اختیار نہیں  تھا تو عدالت نے  حکم دیا کہ نیچرل جسٹس کے اصول کو ہر معاملے  میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔  البتہ  آرٹیکل 10 اے کے وقت سے جو  جورسپروڈنس پروڈیوس کی گئی اور آئین کا حصہ بنائی گئی وہ اس آرٹیکل کی روح کے مطابق نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ پارلیمنٹ نے نیب سے متعلق معاملات میں ضمانت کا حق نہیں دیا اس لیے سپریم کورٹ تبھی ضمانت دے پائے گی جب قانون سازی کرنے والے اپنا ذہن تبدیل کر لیں گے۔ البتہ کیا یہ ایسی عدالت نہیں ہے جو سخت متن پر یقین رکھتی ہے؟  ضمانت کے  فائدے کا خاتمہ ایسے وقت عمل میں آیا جب ہم نے سپریم کورٹ کو آرٹکل 63/62 اورا آرٹیکل 184(3) کے سکوپ کو بڑھاتے دیکھا  اور یہ بھی مشاہدہ کیا کہ کیسے سپریم کورٹ نے  آئینی ترامیم کو بھی مسترد کرنے کا اختیار خود ہی حاصل کر لیا۔

یہ ایسے وقت پر آیا ہے جب  عوامی آزادیاں بندشوں میں گھری ہیں ، لاپتہ افراد کے کیسز نظر انداز ہیں ، میڈیا دباو میں ہے  جب کہ ظاہری طور پراس پر پابندی نہیں لگائی جاتی، اور سپریم کورٹ کے ججز کی اکثریت  نے 21ویں ترمیم کو چیلنج کرنے کے معاملے پر فیصلہ کرتے ہوئے فیصلہ دیا ہے کہ  فوجی عدالتیں  ایک اچھا حل ثابت ہو سکتی ہیں۔ کیا آئین کے محافظ اور بنیادی حقوق کے علمبردار اس پاپولسٹ نظریہ کو قبل کر چکے ہیں کہ پاکستان کو بچانے کے لیے  سب سے اہم اور بنادی نوعیت کے حقوق کو بھی  عیاشی قرار دے دیا جائے  اور شہریوں کو حقوق تبھی ملیں جب ریاست مناسب سمجھے؟

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *