پاکستانی کرکٹ اور دوسرے اداروں کی تباہی کا راز

 میں اس وقت کیلی فورنیا میں اپنے بیٹے شاکر سے ملنے جا رہا ہوں ،اور آٹھ گھنٹے وقت کے فرق کی وجہ سے برطانیہ میں کھیلےجانے والےورلڈ کپ کے میچ رات کے ڈھائ بجے شرو‏ع ہوتے ہیں۔

شاکر نے کرکٹ دکھانے والے ایک چینل کی ادائیگی کی ہوئی ہے اورہم اگلا آدھا میچ ‍زیادہ مناسب وقت میں دیکھتے ہیں۔ جہاں تک کہ اس کا تعلق ہے ، انگلینڈ کو شکست دے کر ہماری ٹیم کو بس انڈیا کو شکست دینی تھی اورپھر وطن واپس آجانا تھا۔

پچھلے اتوار، میں چار بجے اٹھا اور اپنے بستر پر بیٹھے ہی کرکٹ ویب سائٹ کریک انفو پر سکور دیکھا۔جب میں نے دیکھا اس وقت انڈیا کا سکور 80 سے  اوپر تھا اور کوئی وکٹ نہیں گری تھی۔ میں نے لائٹ بند کی اور واپس سوگیا یہ جانتے ہوئے کہ ہماری ٹیم ہارنے والی ہے ۔

اور جب ہم نے آٹھ بجے کے قریب دوبارہ ٹی وی چلایا،تو پاکستان اچھا کھیل رہا تھا، لیکن ماضی کے اکثر اوقات کی طرح اس بار بھی وکٹیں کسی بھی وقت گرنے کا سلسلہ شروع ہو سکتا تھا۔ جلد ہی وکٹس اوپر تلے گرنے لگ گئيں۔

ہماری شکست کےشرمناک انداز کے بارے میں بہت کچھ لکھا اور کہا گیا ہے،اس لیے میں میچ پر اپنی رائے دینے سے گریز کروں گا ۔لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ انڈیا ہماری ٹیم کے مقابلے میں بہت آگے تھا اورپوری طرح اس شاندار فتح کا مستحق تھا۔شرمناک حکد تک یہ یکطرفہ میچ ایسا ہی تھا جیسے  کسی کلب کے  کچھamateurs لڑکوں کو ایک ٹیسٹ ٹیم کے خلاف کھیلنے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

کسی بھی کھیل میں کسی ایک ٹیم کو تو ہارنا ہی پڑتا ہے۔

لیکن انڈیا سے سات بار  ورلڈ کپ کے میچز میں شکست صرف ایک بُرے وقت کی ہی نہیں بلکہ ایک رجحان کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔ ۔ انڈیا کے چست اور پھرتیلے کھلاڑیوں کے مقابلے میں ہمارے لڑکے ان فٹ اور فوکس اور جذبہ سے خالی نظر آئے۔ہمارا کپتان بھی مشکلات سے دوچار اور فیصلہ سازی میں کمزور واقع ہوئے۔

اگرچہ سوشل میڈیا پاکستان کی ٹیم پر لعنت ملامت کررہا ہےہمیں چاہیے کہ غور کریں کہ کیوں ان دونوں ٹیموں میں اتنا فاصلہ ہے۔آخروہ وقت بھی تھا، اور زیادہ وقت نہیں گزرا ہے جب ہماری ٹیم باقا‎عدگی سے روائتی حریفوں کو شکست دے رہی تھی۔ انڈیا کیوں ترقی کرچکاہےجبکہ ہم زوال پزیرہیں؟

وجوہات باونڈری لائن سے باہر موجود  ہیں۔پچھلے 40 سال میں سکول اور کالج کی سطح پر سپورٹس میں بتدریج کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسٹریٹ کرکٹ نےمنظم کھیلوں کی جگہ لے لی ہے ۔ اگرچہ کسی حد تک ٹیلنٹ موجود ہے لیکن  مجموعی طور پر اب کوئی ورلڈ کلاس بلّے باز یا بالرز نہیں بنا سکتے  جس طرح ہم پہلے بناتے تھے۔

عمران خان کئی دہا‎ئيوں سے ڈومیسٹک کرکٹ کو از سر نو   آغاز کرنے پر زور دیتے آئے ہیں۔ اور یہ سچ ہے کہ کارپوریشن اور سرکاری محکموں کی اپنی ٹیمیں ہونا ایک  عجیب چیز ہے جو  جہاں تک مجھے  معلوم ہے دنیا میں کہیں اور نہیں ہے۔ ۔تاہم، اگر موجودہ سیٹ اپ اضلاع اور صوبوں کی نما‎ئنگی کرنے والی ٹیموں میں  تبدیل ہوجائےتو فنڈنگ  سب سے بڑا مسئلہ ہو گا۔

آج کل  منتخب شدہ کرکٹرز کو محکمے تنخواؤں پر بھرتی کرتے ہیں ۔اور پی ایس ایل T20 کےمتعارف کیے جانے کے بعد  ڈومیسٹک کرکٹ  میں جتنا پیسہ آیا ہے پہلے کبھی نہیں آیا تھا۔

لیکن ایک ایسے وقت میں کرکٹ میں بہتری کی توقع  رکھنا عبث ہے جب ہم دوسرے تمام کھیلوں کے شعبوں کو تنزلی کی طرف  لڑھکتا دیکھ سکتے ہوں۔ ہم بھی کبھی ہاکی اور سکواش میں ورلڈ چیمپین تھے، لیکن  اب ہمارا نام رینکنگ میں کہیں نظر نہیں آتا ۔جن اداروں کو  کھیلوں کا معیار بلند کرنے کے لیے چنا گیا ہے وہ آپسی دشمنی میں ملوث نظر آتے ہیں۔

مثال کے طور پر پاکستان فٹ بال فیڈیریشن  پر الزام ہے کہ وہ غیر ممالک کے سیر سپاٹے کے لیے ایک لانچ پیڈ کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ فٹ بال کی بہتری کے لیے کوئی خاص اقدامات نہیں کیے گئے اور تمامFIFA فنڈز جو معیار کی بہتری کے لیے جاری کیے گئے ان کے باوجود کارکردگی میں دکھانے کو کچھ نہیں ہے۔ اور کیا وزیراعظم کو ورلڈ کپ سے تھوڑی دیر  پہلے کرکٹ بورڈ میں ہول سیل تبدیلیاں کرنی چاہیےتھی؟ کیا وہ کامیاب سابق چیئرمین،نجم سیٹھی سے بدلہ لینے کے لیے  ایک مہینے تک انتظار نہیں کرسکتے تھے ؟

ایک  لحاظ سے کرکٹ پاکستان کی تباہی کا ایک ایک استعارہ ہے۔  اداروں کے درمیان نہ ختم ہونے والی  لڑائیاں،اختیارات کے حصول کی جنگ  اور ملک کی بہتری کی بجائے ذاتی فوائد کا حصول ایک معمول بن چکا ہے۔

اس طرح کی صورتحال میں ٹیلنٹ کے  سامنے آنے کا کم ہی امکان ہے۔ سہولتوںاور کوچنگ کی کمی  یہ ظاہر کرتی ہے کہ ہم کبھی معمول کی کارکردگی سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ لیکن پھر یہی حالت باقی تمام اداروں کی بھی ہے چاہے وہ ریلوے ہو یا پی آئی اے ۔

اسی سلسلہ کی ایک کڑی اور تباہی کا مرکز ہمارے بگڑتے ہوئے تعلیمی نظام کی حالت ہے۔ 1970 کے شروع میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کی طرف سے  نجی اسکول اور کالجوں کی نیشنلائزیشن  کے فیصلے کے بعد پاکستانیوں کی دو نسلوں نے ناکام ریاستی اداروں سے گریجویشن کی۔جنرل ضیالحق کی 'اسلامائزیشن' نے اس گندگی کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔

میرا یہ مطلب نہیں   کہ اچھی تعلیم کی کمی نوجوانوں کو کھیل سے دور کر رہی ہے۔تاہم، اعلی درجہ کے تعلیمی نصاب سے حاصل کیا جانےوالا ذہنی  توازن اورنظم و ضبط لوگوں کو کام اور کھیلوں میں بہتر کارکردگی کے لیے بہتر طریقے سے تیار کرت اہے۔ ویرات کوہلی کے اعتماد بھرے انداز کی پریس کانفرنس کا موازنہ سرفراز احمد  کی ہڑبڑاہٹ میں پریس کانفرس سے کریں تو آپ کو میری بات سمجھ آ جائے گی۔

ہمارے  خراب تعلیمی نظام کا قومی زندگی کےہر پہلوپرایسا ہی اثر دیکھنے کو ملتا ہے۔ مدرسے بھی  نوجوانوںکو   ذاتی اور عوامی  خیر خواہی میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار نہیں کرتے۔ اور ریاستی تعلیم کے بارے  میں جتنا کم بولا جائے  اتنا ہی بہتر ہے۔

آخر میں آپ کو بتاتا چلوں کہ اس میچ میں پاکستان کی جیت پر میں نے 10 پاونڈز کی شرط بھی لگائی تھی۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *