زرتاج گل کے خلاف ’بہن کی سفارش‘ کرنے پر نااہلی ریفرنس قومی اسمبلی میں

پاکستان کی سیاست میں ملک کے آئین کی دو شقوں 62 اور 63 کی قانونی حیثیت اور سیاسی مقاصد کے لیے ان کا استعمال ایک عرصے سے زیرِ بحث رہا ہے۔

پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں سمیت ناقدین آئین کی ان متنازع شقوں کو ماضی میں پارلیمان کے منتخب نمائندوں کو سیاسی مقاصد کے حصول کی خاطر نااہل قرار دیے جانے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

ماضی قریب میں حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز ایسے الزامات دہراتی ہوئی نظر آئی ہے۔

تاہم حال ہی میں اسی جماعت کی ممبر پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے حکمراں جماعت کی وفاقی وزیر زرتاج گل کی نااہلی کے لیے درخواست قومی اسمبلی میں جمع کروائی ہے۔

قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کے نام خط میں حنا پرویز بٹ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ’زرتاج گل بطور وزیر لیے گئے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی مرتکب ٹھہری ہیں۔'

اس خط کے ساتھ منسلک ریفرنس میں زرتاج گل کی نااہلی کا سوال اٹھاتے ہوئے آرٹیکل 62 ہی کا سہارا لیا گیا ہے۔

سپیکر قومی اسمبلی سے ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوانے کی استدعا کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’زرتاج گل نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سرکاری حکام پر اثر و رسوخ کے ذریعے اپنی بہن شبنم گل کو انسدادِ دہشت گردی کے قومی ادارے نیکٹا میں ڈائریکٹر لگوایا۔‘

’ان کا یہ اقدام ان کے عہدے کی خلاف ورزی ہے جو انھوں نے بطورِ وزیرِ مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی اٹھایا تھا۔‘

اس کے ساتھ استدعا کی گئی ہے کہ ان کی پارلیمان کے ممبر کے طور پر نااہلیت کا تعین کرنے کے لیے اس ریفرنس کو الیکشن کمیشن بھجوایا جائے۔

یاد رہے کہ رواں برس جنوری میں وزیرِ مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل کی بہن شبنم گل کی بطور ڈائریکٹر نیکٹا میں تعیناتی کی خبریں سامنے آئی تھیں۔

حنا بٹ اور مریم نواز

’زرتاج گل کے خلاف نااہلی کا ریفرنس بجھوانے کا واحد مقصد اختیارات کے ناجائز استعمال کی روش کو روکنا ہے‘

تنقید کے بعد وزیرِ اعظم کی ہدایت پر ان کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن تو واپس لے لیا گیا تھا تاہم زرتاج گل کو ’سفارش یا اثر و رسوخ کے استعمال‘ جیسے الزامات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

انھوں نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ ’انھوں نے محض اپنی بہن کا سی وی میرٹ کے مطابق غور کے لیے بھجوایا تھا، سفارش نہیں کی تھی۔‘

ریفرنس کی بنیاد کیا ہے؟

نواز لیگ کی رہنما حنا پرویز بٹ کا کہنا ہے ’اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ انھوں (زرتاج) نے سفارش کی تھی۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’زرتاج گل کے سیکریٹری کی طرف سے سیکریٹری داخلہ کو لکھا گیا ایک خط بھی موجود ہے جس میں ان (زرتاج گل) کی درخواست ہے کہ میری بہن کو تعینات کیا جائے۔‘

حنا پرویز بٹ کا کہنا تھا ’یہ واضح طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال ہے اور زرتاج گل نے جو حلف لیا تھا اس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ میں اپنے ذاتی مفاد کو اپنی محکمانہ ذمہ داریوں یا فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونے دوں گی۔‘

پاکستان مسلم لیگ نواز کی رکن پنجاب اسمبلی رکن کا کہنا تھا ’اس کے علاوہ زرتاج گل نے یہ غلط بیانی بھی کی تھی کہ ان کی بہن پی ایچ ڈی کی ڈگری مکمل کر چکی ہیں۔‘ اس حوالے سے ریفرنس کے ساتھ منسلک دستاویزات میں زرتاج گل کا ایک پرانا ٹویٹ بھی لگایا گیا ہے۔

آرٹیکل 62 کی متنازع شقوں کا سہارا؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حنا پرویز بٹ کے وکیل عمر سجاد نے بتایا کہ زرتاج گل کے خلاف ریفرنس میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 62 کی شق ڈی، ای اور ایف کا حوالہ دیا گیا ہے۔

آرٹیکل 62 پارلیمان کا ممبر بننے والے شخص کے لیے قابلیت کا تعین کرتا ہے۔

ریفرنس میں درج کی گئی ان شقوں میں سب سے پہلی یہ شرط ہے کہ اس کا کردار اچھا ہونا چاہیے۔

نواز شریف

سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو آئین کے اِسی آرٹیکل 62 ون (ایف) کے تحت نااہل کیا تھا

دوسری شق کے مطابق وہ کوئی ایسا شخص نہیں ہونا چاہیے جس کی پہچان اسلامی احکامات کو جھٹلانے والے کی ہو۔

عمر سجاد کا کہنا تھا کہ اسلامی احکامات اس طرح واضح ہیں کہ جو بھی عہدہ آپ کو دیا جائے گا وہ امانت کے طور پر دیا جاتا ہے۔ آئین میں درج ہے کہ حاکمیت صرف اللہ کے پاس ہے۔

’اس لیے جو آپ کو عہدہ دیا جاتا ہے وہ آپ نے امانت کے طور پر ہی استعمال کرنا ہے لوگوں کی بھلائی کے لیے نہ کہ اپنے مفادات کے لیے یا اپنے رشتہ داروں کو فائدہ دلانے کے لیے۔‘

آرٹیکل 62 ایف کے مطابق پارلیمان کا ممبر سمجھ دار، ایماندار اور پاسدار ہونا چاہیے۔

یاد رہے کہ سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کو اسی شق کے تحت سنہ 2018 میں عدالتِ عظمٰی کی جانب سے دیے گئے ایک فیصلے کے نتیجے میں پارلیمان کے ممبر کے طور پر نااہل قرار دیا گیا تھا۔

نااہلی کا یہ ریفرنس قابلِ عملدرآمد ہے؟

حنا پرویز بٹ کے وکیل عمر سجاد کے مطابق آئین کے آرٹیکل 63 کے ضمنی آرٹیکل دو میں لکھا ہے کہ اگر پارلیمان کے کسی ممبر کے خلاف نااہلی کا سوال پیدا ہو جائے چاہے اس کی بنیاد کوئی بھی ہو تو سپیکر قومی اسمبلی اس کے خلاف ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوا سکتا ہے۔

آئینی معاملات کے ماہر اور تجزیہ کار بابر ستار کا ماننا ہے کہ یہ ریفرنس محض سیاسی نوعیت کا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ الیکشن کے قانون میں بدعنوانی کے حوالے سے تصور موجود ہے کہ ’آپ کو بدعنوانی کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ الیکشن کمیشن عدالت کے طور پر کام کرے گا۔‘

بابر ستار کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن ٹرائل کورٹ نہیں ہے۔

’اگر تو یہ (حنا پرویز بٹ) ان (زرتاج گل) کے خلاف اقربا پروری کا کوئی مقدمہ کر دیتی ہیں اور انھیں عدالت سے فیصلہ مل جاتا ہے تو پھر ظاہر ہے کہ نااہلی کی بات ہو سکتی ہے کہ ان پر مقدمہ چلانے کے بعد انھیں بدعنوانی کا مرتکب پایا گیا۔‘

بابر ستار کا کہنا تھا ’اس سے کم تو یہ محض پریشان کرنے کی کوشش ہو گی۔‘

پاکستان کا پارلیمان

ان کا کہنا تھا کہ بنیادی بات یہ ہے کہ کیا الیکشن کمیشن ایک ٹرائل کورٹ ہے؟ اگر وہ نہیں ہے تو وہ ا س پر کوئی فیصلہ تو نہیں کر سکتا کیونکہ اس میں ٹرائل کی ضرورت ہے۔

کیا یہ ایک سیاسی ریفرنس ہے؟

تو کیا اس ریفرنس کا مقصد محض حکمراں جماعت یا زرتاج گل کو مشکل میں ڈالنا تھا؟ کیا اس کے ردِ عمل میں آرٹیکل 62 اور 63 کا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ایک مرتبہ پھر سر اٹھا سکتا ہے؟

اس حوالے سے حنا پرویز بٹ کا کہنا تھا کہ زرتاج گل کے خلاف نااہلی کا ریفرنس بجھوانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ’اختیارات کے ناجائز استعمال کو روکا جائے۔‘

’اس کے لیے جو شق ہے وہ آرٹیکل 62 ہونا اتفاق ہے ورنہ میرا واحد مقصد یہ تھا کہ کوئی بھی وزیر چاہے وہ اب ہو یا کوئی بعد میں آنے والا ہو، اختیارات کا ناجائز استعمال نہ کرے۔ اس کلچر کو ختم ہونا چاہیے۔‘

وزیرِ مملک برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل سے ان کا مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تاہم انھوں نے جواب نہیں دیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *