چاندنی سے دیا جلاتے ہیں

" تبصرہ: میمونہ صدف "

چاندنی سے دیا جلاتے ہیں از طرف خالد عنبر بیزار
خالد عنبر بیزار ایسے شاعر ہیں جنھیں غم ِدوراں اور غم ِ ہجراں نے اپنے حواس سے بے گانہ کر دیا۔ یہ اٹک کی ذرخیز نے جہاں بہت سے عظیم شعرا کو جنم دیا وہاں خالد بھی ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ ادبی محفلوں کی جان بنے رہنے والا خالد جب بیمار ہوا تو مالی حالات نے اسے اس نہج پر پہنچا دیا کہ اس کے حواس اس کا ساتھ چھوڑ گئے۔
غمِ دوراں کے ساتھ غم ِ جاناں بھی ہو تو زندگی کسی اذیت سے کم نہیں ہوتی۔اسی غم ِ دوراں میں خالد نیم جاں ہوئے جاتے ہیں۔ غمِ جاناں کی تفسیر بنے بیزار کچھ اس طرح سے رطب الرساں ہوتے ہیں

عشق دونوں نے کیا دونوں رہے جان بہ لب
درد دل کی نہ ہوئی دوا دونوں سے

دنیا کی بے ثباتی جب خالد کی نظروں میں عیاں ہوتی ہے تو وہ الم و کرب کا استعارہ بن جاتے ہیں۔ دنیا کی اسی بے ثباتی کو وہ اپنے شعر میں لکھتے ہیں کہ دنیا کی نظر سے دیکھو تو ہر چوٹ ہی نہاں لگتی ہے۔ اس لیے مسیحا پر لازم ہے کہ اپنے غموں کو ملحوظِ خاطر نہ رکھتے ہوئے دوسروں کے غموں پر مرہم کے پھاہے رکھتا رہے۔ مسیحا کے زخم بھی عموما دوسروں کی نظروں سے غافل رہتے ہیں اور یہی غم خالد عنبر بیزار کا بھی ہے۔ وہ بھی خود کو مسیحا کہتے ہیں جو دوسروں کے الم پر الفا ظ کے پھاہے رکھتے نظر آتے ہیں۔

تو مسیحا ہے تجھے زیب کہاں ہے غفلت
چشم ِ دنیا سے تو ہر چوٹ نہاں لگتی ہے

اپنے خوابوں کے پورا نہ ہونے کا دکھ بھی ان کے دکھوں کا حصہ ہے۔ یہ خواب بھی ان کے محبوب کے گرد گھومتے ہیں۔بس وصل ِ محبوب ہی ن کی واحد اور آخری خواہش ہے۔ یہی خواب تمام خوابوں پر حاوی ہے۔ وہ اپنے خوابوں کے پورا نہ ہو نے کا دکھ بھی اپنے اشعار میں بیان کرتے ہیں۔

افسوس کوئی ایک بھی پورا نہ ہو سکا
آنکھوں نے کتنے خواب سجائے تھے عید پر

انسان محبت میں مبتلا ہو جائے اور محبوب کی تعریف نہ کرے یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ محبوب کی ہر ادا عاشق کے دل میں جل ترنگ بجاتی ہے۔محب کی ہر ادامحبوب کی آنکھوں میں بے مثال ہوتی ہے۔ہر محبت کرنے والا اپنے محبوب کی مدح سرائی ضرور کر تا ہے۔ خالد عنبر بیزار اپنے محبوب کی مدح سرائی اس انداز سے کرتے ہیں کہ پڑھنے والے کا دل جھوم اٹھتا ہے۔ ہر حساس اور محبت کرنے والا انسان اس محبت کو محسوس کرتا ہے اور ان کے اشعار کو بے اختیار اپنے پیاروں سے منسوب کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ مدح سرائی کا اگر کو ئی پیمانہ ہوتا تو خالد اس پیمانے پر نہ صرف پورے اترتے بلکہ اس سے کہیں آگے بڑھ جاتے۔ اس خوبی کا اظہار ان کے اس شعر سے ہوتا ہے۔

پھول ہر شاخ سے گر پڑے جھوم کر
تیری ظالم حسیں ایک انگڑائی سے

شاعر اور حساسیت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ شاعر حساسیت ہی کی زبان بولتا ہے تو کچھ بے جا نہ ہو گا۔ محبت ہو اور فراق ِ یار نہ ہو یہ ممکن ہی کس طرح ہے۔ایک حساس شاعر جب فراق ِ یار کو لفظوں میں سموتا ہے تو وہ لہو کو اپنی قلم میں سمو کر شعر کا روپ دیتا ہے۔ یہ اشعار ہیروں کی طرح جگمگانے لگتے ہیں۔ اسی فراق ِ یار کو یوں لفظوں میں سمونے کی کوشش کی۔

قتل کے بعد جلائے ہیں مرے خوں سے چراغ
دست تقدیر بھی کانپ اٹھا جفا سے تیری

غم ِدوراں ایک ایسا غم ہے کہ جو اس کا اثیر ہو جائے اس کے لیے ہجوم میں بھی تنہائی کا احساس حاوی رہتا ہے۔یہ احساس ِ تنہائی انسا ن کو اندر سے کاٹتارہتا ہے۔ ایسا انسان دن بدن اپنے حال سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ وہ اپنی ایک دنیا بسا لیتا ہے۔اسے نہ صرف اپنی دنیا سے نکلنے کو جی کرتا ہے اور نہ ہی اس عارضی دنیا میں عام لوگوں کی مانند اپنے مفاد ات کا احساس رہتا ہے۔ احساسِ تنہائی کا شکار انسان اپنے اندر ایک درویش صف اختیار کر لیتاہے۔ایک جگہ اسی غم ِ جاناں اور تنہائی کا نوحہ کچھ یوں بیان کیا۔

الگ یہ بات کہ ہے ساتھ کارواں میرے
سفر سے لوٹ کے آنا ہے میرے ساتھ کسے

غم جاناں تو ایک طرف انھیں غم ِدوراں بھی بے دم کیے دیتا ہے۔ اسی غم کو وہ اپنی قلم کی روشنائی میں یوں بگھوتے ہیں۔

ہرایک شخص کا مجھ سے سلوک تاجر سا
میں جیسے شہر کی کوئی دکان ٹھہرا ہوں
صرف یہی نہیں انسان کی اور زمانے کی بے ثباتی ان پر عیاں ہوتی ہے جب وہ حادثے کا شکار ہو کر بستر پر پڑ جاتے ہیں۔ عرصہ حیات تنگ ہونے لگتا ہے اور مالی حالات زکوٰۃ اور فطرانہ تک محدود ہونے لگتے ہیں۔

زہرِ مہرہ کیا کرے گا، ہے سپیرا سوچ میں
آدمی کی ذات کو جب آدمی نے ڈس لیا

بلاشبہ خالد عنبربیزارایک بہترین شاعر ہیں۔ ان کی شاعری میں فطری سادگی اور اداسی رقصاں ہے ۔ان کی شاعری اورادب کے لیے خدمات انھیں ادیبوں اور شاعروں کے لیے مختص شدہ فنڈز کا حقدار بناتی ہیں۔ مخیر حضرات اور دیگر اداروں کو خالد عنبر بیزار کی بحالی کے لیے کوششیں کرنی چاہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *