امریکی صدر کا جنگی جنون اور پاکستان کے لیے چیلنجز

دنیا ایران میں شروع ہونے والی جنگ کا مشاہدہ کرنے سے 10 منٹ  کے فاصلے پر تھی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پسندیدہ فوکس نیوز ٹیلی ویژن کے میزبان  اور کچھ دوسرے لوگوں کے مشورے  پر غور کیا اور سٹرائیک کا ارادہ ترک کر دیا ۔جارحانہ مزاج رکھنے والے لیڈر کی طرف سے  فیصلہ بدلنے کی کچھ اور بھی وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن یہ فیصلہ یقینا انسانیت کی تباہی کے خدشات کی وجہ سے نہیں روکا گیا جیسا کہ ٹرمپ نے دعوی کیا ہے۔

ٹرمپ کی ایران کوختم کرنے کی دھمکی مبالغہ آمیز ہوسکتی ہے لیکن کشیدگی کے قابو سے باہر ہوجانے  کا خطرہ کم نہیں کیا جاسکتا۔ جنگ کے بادل ابھی بھی خلیج کے اوپر چھائے ہوئے ہیں۔ بڑے پیمانے پر اس علاقے میں  فوجی قوت کا مظاہرہ، اور ایران کے خیاف پابندیو‏ں کا نیا دور خطرناک حد تک  غیر معمولی علامات ہیں۔یہ آگ محدود نہیں رہے گی بلکہ  خطے کے اہم ترین حصوں تک پھیل سکتی ہے  ۔

ٹرمپ کے جنگی جنون نے  علاقائی سیاست کو مخمصے میں مبتلا کر دیا ہے ۔مشرق الوسطی میں نئی امریکی جنگ عراق پر حملے سے بھی زیادہ تباہ کن ہوگی۔یہ دوسری بڑی طاقتوں کو بھی لڑائی میں شامل کردےگی۔اور یہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے بہت بڑا اور مہنگا جوا ہوگا۔ٹرمپ نے بھلے  ہی  آخری وقت میں ایران پر حملہ کرنے سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا ہو ۔ لیکن اسکے غیر متوقع رویے  کی وجہ سے کوئی نہیں جانتا کہ آگے کیا ہونا ہے۔دونوں ممالک کی قیادت کے  لہجے میں کوئی  نرمی نہیں آئی  ہے۔

ایران کے خلاف کوئی بھی فوجی مہم جوئی واشنگٹن کوانکے مغربی اتحادیوں سے مزید الگ کردے گی جوکہ پہلے ہی ٹرمپ انتظامیہ کےایرانی ایٹمی معاہدے پر لی گئی پوزیشن سے مایوس ہیں۔ یورپی ٹرمپ پر الزام لگاتے ہیں کہ اس نے  ایران کو اس رویہ پر مجبو ر کرنے کے لیے ایک ایسے معاہدے کی تنسیخ کر دی جو فائدہ مند ثابت ہو رہا تھا اور یہی موقف  چین اور روس  کا بھی ہے۔

اس تنازعہ کی وجہ سے سعودیہ اور ایران کے بیچ پراکسی وار میں شدت آ جائے گی۔ اور نتیجہ کے طورپر مڈل ایسٹ میں ایک اور  خانہ جنگی شروع ہو سکتی ہے۔ چونکہ سعودیہ اور دوسرے خلیجی ممالک ایران کے خلاف امریکہ  کے اتحادی ہیں اس لیے  صورتحال بہت نازک ہو چکی ہے۔ ایران کے خلاف مہم کے طور پر سعودیہ کی طرف سے امریکہ کو کاروائی پر ابھارنا  صاف نظر آتا ہے۔

جب بات ایران کی ہوتو سعودی عہدیدار ہمیشہ کھرا اور واضح موقف اپناتے ہوئے ایران کو خطرناک ترین مخالف قرار دیتے ہیں۔ ان کی ایران مخالف مہم  نے سعودیہ اور اسرائیل کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے۔ دونوں ممالک نے ٹرمپ کی طرف سے   ایران کے ساتھ نیو کلیر معاہدہ کی تنسیخ کے   یکطرفہ فیصلے کو سراہا تھا۔ انہیں ٹرمپ کی صورت میں بہترین اتحادی مل چکا ہے۔

اس صورتحال سے پاکستان کے لیے حالات کافی پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ ہمارے ان دونوں ممالک کے بیچ  توازن کے معاملہ کی  وجہ سے  ہمارے لیے مشکل ہو گا کہ اپنے ہمسایہ پر چڑھ دوڑیں۔ مڈل ایسٹ کی ہمیشہ کی بدلتی سیاست کو سمجھنا اتنا آسان نہیں ہے اور  سعودی ایران پراکسی جنگ میں شدت کی وجہ سے صورتحال پاکستان کے لیے زیادہ بڑے چیلنج کا بیش خیمہ ثابت ہو رہی ہے۔

پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج یہ ہو گاکہ یہ ایران مخالف امریکی جارحیت کے خلاف ایک واضح اور سخت موقف اختیار کرے  اور سعودیہ اور ایران کے بیچ طاقت کے حصول کی چپقلش میں خود ایک توازن برقرار رکھے ۔ یہ یقینا پاکستان کے لیے ایک آسان بات نہیں ہو گی اور انگاروں پر چلنے جیسا کام ہو گا۔ ہم 1980کی دہائی  ایران عراق جنگ کے دوران، اور حال ہی میں یمن  میں ہونے والی خانہ جنگی کے دوران ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرچکے ہیں

لیکن اس بار صورتحال کچھ زیادہ ہی پیچیدہ ہے جس کی وجہ پاکستان کی مالی سپورٹ کی وجہ سے گلف ممالک پر زیادہ انحصار ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان سعودی عرب کی رہنمائی میں قائم ہونے والے اسلامی اتحادی افواج کا بھی حصہ ہے۔ اگرچہ اسے کاونٹر  ٹیررازم فورس کا نام دیا گیا ہے لیکن زیادہ تر یہی خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ایران مخالف سنی ممالک کا فوجی اتحاد ہے۔  اس لیے امریکہ ایران تنازعہ میں پاکستان کا شامل ہونا ملک کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

اگرچہ یہ تنازعہ کافی عرصہ سے بڑھتا جا رہا تھا  اور خاص طور پر ٹرمپ کی طرف سے معاہدے کی منسوخی کے بعد اس میں تلخی آ رہی تھی  لیکن آبنائے ہرمز پر  آئل ٹینکرز پر حملوں  کے بعد  اورا ایرانی سکیورٹی فورسز کی طرف سے امریکی ڈرون گرائے جانے کے بعد  تلخی میں ایک خاص شدت آئی ہے۔

ایران کو دباو میں لانے کی کوشش میں ٹرمپ انتظامیہ نے اس سال وہ تمام پابندیاں بحال کر دی تھیں جو 2015 میں اوبامہ  انتظامیہ نے نیو کلیر ڈیل کے تحت اٹھائی تھیں۔ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے  واشنگٹن نے ایران کے ایک ایلیٹ سکیورٹی فورس  پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔

شاید یہ پہلی بار ہے کہ کسی ملک کی سکیورٹی فورس  پر پابندی لگائی گئی ہے۔ ایرانی ملٹری لیڈرز پر سفری پابندیاں شاید ان پر زیادہ اثر انداز نہ ہوں لیکن   سکیورٹی فورس پر پابندی ان کے سکریوز کو مزید سخت کرنے کے لیے لگائی گئی ہے۔ ان سب پابندیوں کے باوجود  ایران کو ٹرمپ کی شرائط پر مذاکرات پر آمادہ نہیں کیا جا سکا ہے۔ مزاحمت کرنے والی ایرانی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ اپنے نیو کلیر ڈیل کی شرائط پر عمل جاری رکھے گی  اور یورینئیم کی تخلیق کا عمل روک دے گی۔

حال ہی میں  یمن سے ایرانی حوثی باغیوں کی طرف سے  سعودیہ پر راکٹ حملوں  نے بھی صورتحال پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ سعودیہ پہلے سے ہی یمن کی خانہ جنگی کا حصہ بنا ہوا ہے  جس کے نتیجہ میں بے شمار جانوں کا نقصان ہو چکا ہے۔ یمن کے مسئلہ کی وجہ سے سعودی عرب  نے ایران مخالف ایک اتحاد قائم کر لیا ہے۔ عرب ممالک کی طرف سے یمن مسئلہ پر ضرورت سے زیادہ رد عمل  بھی ایران کی طرف سے خطرہ میں اضافہ کا باعث ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ایران حوثی باغیوں کو سپورٹ نہیں کر رہا  لیکن تہران ان حوثی باغیوں کو ابھارنے والا بھی نہیں ہے۔  یمن تنازعہ کی جڑیں اسی ملک کے اندر سیاسی  اور قبائلی تقسیم اور تاریخ میں مبنی ہیں۔ تہران کی طرف سے البتہ کچھ بیانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایران کو علاقہ میں طاقت کے توازن کے مسائل  کی تشویش ہے۔  سعودی عرب یمن کی خانہ جنگی میں براہ راست فوجی مداخلت کر رہا ہے ۔

حیرت انگیز طور پر اسرائیل نے بھی چوری چھپے یمن میں سعودی جارحیت کو سپورٹ کیا ہے۔ دونوں ممالک یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ یمن میں بے چینی پیدا کرنے میں ایران کا ہاتھ ہے جو اس علاقے میں  اپنا تسلط قائم کرنے کے طور پراس چیز کو ایک سٹریٹجی کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

امریکہ کی ایران کے خلاف جارحیت  افغانستان امن عمل پر بھی اثر انداز ہوں گی۔ ایران کا افغانستان  سے کافی گہرے فوائد وابستہ ہیں  اور کسی بھی امن عمل کی کامیابی کے لیے ایران کی سپورٹ بہت ضروری ہے۔امریکی عہدیدار اکثر ایران پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ وہ افغانستان میں شدت پسندوں کو  لاجسٹک سپورٹ فراہم کرتا آیا ہے۔

ان تضادات کے معمہ کو سمجھنے کی کوشش کرنا بلکل ایسا ہے جیسے ایک ایسے الجھے ہوئے راستے میں سے باہر کی راہ تلاش کرنا ، ایک ایسے  بیابان سے جہاں سے زیادہ تر راستے موت کی طرف لے جاتے ہیں۔ مڈل ایسٹ میں نئی جنگ بہت جارحانہ اور بد صورتی کا مظہر ہو سکتی ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *