گلے لگانے اور دور بھگانے کی رسم

ایک ماہ تک حکومت  کو اسلام آباد سے نکال باہر کرنے کے بلند و بانگ دعوے کرنے کے بعد رواں ہفتے بدھ کے دن جب آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی تو اس میں محض چند چھوٹی موٹی پارٹیاں جمع ہوئیں اور بمشکل کچھ چھوٹے بڑے معاملات پر اتفاق رائے پیدا کر سکیں اور حکومت گرانے کا خواب پورا  نہ ہو سکا۔ سچ یہ ہے کہ اس سے زیادہ اس اپوزیشن سے توقع بھی نہیں کی جاسکتی تھی۔ ہر کسی کو ن لیگ کے بیچ اختلافات کا علم ہے کہ مریم نواز اور نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سخت موقف رکھنے کے حامی ہیں جب کہ شہباز شریف مفاہمتی سیاست چاہتے ہیں۔ جیسے جیسے اے پی سی کا وقت قریب آ رہا تھا ، یہ حقیقت تکلیف دہ طریقے سے عیاں ہو رہی تھی کیونکہ ایک طرف شہباز شریف چارٹر آف اکانومی کی دعوت دے رہے تھے  اور دوسری طرف مریم نواز ایسی کسی بھی تجویز کو مذاق قرار دے کر مسترد کر رہی تھیں۔ اے پی سی میں ان دونوں رہنماوں سے ایک نے بھی اپنی بات پر زیادہ زور نہیں دیا  اور  بات بے معنی ہو کر رہ گئی۔

پی پی ہمیشہ  نتائج پر نظر رکھتی ہے۔ پی پی کے شریک چئیرمین آصف زرداری نے ملی ٹیبلشمنٹ کے ساتھ الیکشن سے قبل ڈیل کی تھی  جس انہوں نے سندھ حکومت لی اور بلوچستان حکومت ملی ٹیبلشمنٹ کی پارٹی کو دلوائی  اور سینیٹ چئیرمین شپ بھی قربان کر دی۔ اب وہ  کیسے اپنی کشتیوں کو آگ لگا کر اپنی پارٹی کی صوبائی کامیابی کو کیسے اپنے ہاتھوں سے کھو سکتے ہیں   جب کہ ان کے پاس ایک دو کارڈز ایسے موجود ہیں  جو وہ استعمال کر سکتے ہیں اور ساتھ ساتھ اپنے پارٹنر سے کچھ ریلیف بھی حاصل کرنے کی توقع رکھتے ہوئے انتظار کر سکتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے نوجوان بلاول کو آگے کیا ہے تا کہ وہ پی ٹی آئی حکومت پر سخت تنقید کا رویہ اختیار کیے رکھیں  جب کہ وہ خود خاموشی سے وقت گزاری کر رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان کا معاملہ مختلف ہے۔ وہ یقین رکھتے ہیں کہ  ان کی جماعت کو قیمتی انتخابی سیٹوں سے جان بوجھ کر محروم کیا گیا ہے  اور کے پی کے میں ان کی اپنی سیٹ بھی دھاندلی سے ہروائی گئی ہے  کیونکہ ملی ٹیبلشمنٹ ان کو کنٹرول میں رکھنا چاہتی ہے۔ اس لیے اگر نئے الیکشن ہوتے ہیں یا مرکزی حکومت میں کچھ تبدیلیاں کر کے انہیں پارلیمنٹ تک راستہ دیا جاتا ہے  تو سب سے زیادہ فائدہ مولانا کو پہنچے گا ۔ اسی لیے مولانا فرنٹ فٹ پر کھیل رہے ہیں  اور پارلیمان سے تمام اپوزیشن جماعتوں کو استعفی دینے کی ترغیب دیتے اور مرکزی حکومت کو گرانے کے لیے اسلام آباد  کی طرف ملین مارچ کی دھمکی دیتے نظر آتے ہیں۔ انہیں یہ دیکھ کر مایوسی ہوئی ہو گی کہ یہ سب کچھ کرنے کے باوجود انہیں صرف اتنا فائدہ ہوا ہے کہ انہیں سینیٹ کے ڈپٹی سپیکر کی سیٹ کی پیشکش ہوئی ہے  جو اگلے ماہ سینیٹ چئیرمین اور ڈپٹی چئیرمین کو ہٹانے کے عد ممکن ہو گا۔

باقی لوگوں کا کوئی خاص کردار نہیں تھا ۔ جو دو پارٹیاں جو سڑکوں پر احتجاج اور حکومت کے خلاف مزاحمت میں مدد کر سکتی تھیں وہ  جماعت اسلامی اور بلوچ نیشنل پارٹی تھیں جنہوں نے اس اے پی سی میں شرکت کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ جماعت اسلامی  پی پی اور ن لیگ کے ساتھ سڑکوں پر نکلنے کو برا سمجھتی ہے ۔ بی این پی کو وزیر اعظم نے خود ہی آخری لمحے اے پی سی میں شرکت نہ کرنے پر قائل کر لیا۔ اختر مینگل جو اس پارٹی کے لیڈر ہیں  کو لگتا ہے کہ پی ٹی آئی اور ملی ٹیبلشمنٹ کو فی الحا ل  کسی صورت کمزور نہیں کیا جاسکتا  اس لیے اے پی سی میں شرکت بے معنی ہے۔

اب ہمارے سامنے مستقبل کا چارٹر ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں اب یہ سوچ بچار کریں گی کہ سینیٹ چیئرمین کو خود ہی عہدہ چھوڑنے پر کیسے  آمادہ کیا جائے کیونکہ وہ ایک معقول انسان ہیں ۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو پارٹیوں کو نوٹس جاری کرنا ہوگا کہ سینیٹ چئیرمین یا خود ہی استعفی دیں یا  تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔ اگر سینیٹ ان کے ھاتھ میں آ جاتا ہے تو  وہ پی ٹی آئی حکومت  کو ہٹا نہ بھی سکیں تو اس کے لیے بہت سی مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ  اگلے ماہ کی پچیس تاریخ کو یوم سیاہ منانے  کی بات ہوئی ہے  اور دوسرے بہت سے مطالبات کیے گئے ہیں  جن کو پی ٹی آئی ماضی کی طرح آسانی سے نظر انداز کر سکتی ہے۔

اس معاملے میں ایک لازمی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے۔ آصف زرداری، نوازشریف اور دوسرے بڑے سیاستدان لمبے عرصے کے لیے گرفتاریوں کا سامنا کرنا نہیں چاہتے۔ سب کو یہ امید ہے کہ انہیں ملی ٹیبلشمنٹ کی طرف سے ذاتی طور پر ریلیف مل سکتا ہے۔ اگر ریلیف مل گیا تو ٹھیک ورنہ کشتیاں جلا دینے کا آپشن موجود ہے اور یہ آپشن تب استعمال کیا جائے گا جب  عمران حکومت عوام میں اپنی مقبولیت کھو چکی ہو گی  اور عوام پی ٹی آئی کی حکومت سے اکتا کر بغاوت کے لیے تیار ہو چکے ہوں گے۔

کیا اس کا مطلب ہے کہ سٹیٹس کو اگلے پانچ سال تک برقرار رہے گا؟ نہیں ایسا بلکل نہیں ہے۔کوئی بھی بشمول ملٹیبلشمنٹ یہ نہیں سمجھتا کہ عمران میں اتنی قابلیت ہے کہ وہ پانچ سال تک اتنے چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے ڈیلیور کر سکتے ہیں۔  لیکن آراء اس معاملے میں بہت زیادہ تقسیم ہیں۔ پچھلے پانچ سال تک دو بڑی پارٹیوں کو توڑنے کی ہر کوشش کرنے کے بعد وہ کیسے کسی پارٹی کو کہہ سکتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ حکومت کریں اور ان کے سامنے سرنڈر کر دیں۔ ایک قومی حکومت  کا آپشن بھی ہے لیکن اس کا وقت نہیں آیا  کیونکہ ہو سکتا ہے عمران کے ووٹرز  مایوس ہوئے ہوں لیکن معیشت اتنی کمزور نہیں ہوئی کہ  انہیں اس قدر ناراض کر دے کہ وہ عمران مخالف اقدامات کو تسلیم کر لیں۔ اسی طرح بہت سے بڑے معاملات بھی ہیں جن پر توجہ دینا  لازمی ہے جن میں اہم عہدوں پر تعیناتی،  ٹرانسفرز اور توسیع وغیرہ شامل ہیں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *