استنبول سے پیغام

ٹرافلگار سکوئیر میں ڈونلڈ ٹرمپ  کے لندن کے دورہ پر ان کے  خلاف احتجاج  ایک تاریخی لمحہ تھا۔ مجھے احتجاجی مظاہرین کی تعداد دیکھ کر وہ دن یاد آگئے جب  ہم بھارت میں  دنیا بھر کی طرف سے غلط اقدامات کے خلاف مظاہرے کیا کرتے تھے  ایک ایسی دنیا کے خلاف جس کا حصہ بھارت بھی تھا۔ مظاہرین کا یہ جذبہ  کسی قسم کا دکھاوا نہیں تھا۔ طلبا نے ضیا الحق کی طرف سے بھٹو کو پھانسی دیے جانے اور سی آئی اے کی طرف سے الینڈے  کے خلاف  بغاوت  جیسے معاملات  پر احتجاج کے لیے بازو پر پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔  امریکہ کیطرف سے عراق پر حملے کے موقع پر بھی احتجاجی مظاہرین کو پولیس  کے ڈنڈے برداشت کرنا پڑے تھے۔ یہ رسم کو  بہت نئی نہیں ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میرے خاندان کے سینئیر افراد اور دوست مجھے  دائیں دائیں پھو کے بارے میں بتایا کرتے تھے  جو ایک مقام کا نام تھا جہاں ویت نامیوں نے فرانسیسی قابض افواج کے خلاف بہادری سے جنگ لڑی تھی اور یہی وہ علاقہ ہے جہاں میری پیدائش ہوئی تھی۔

کچھ دن قبل لندن میں ایک گروپ موجود تھا جو بریگزٹ کی مخالفت کے لیے لوگون کو تیار کرنے میں مصروف تھا۔ ایک اور گروپ تھا جسے جلدی الیکشن  کروانے تھے۔ کچھ لوگ ایران مخالف امریکی  جارحیت کے خلاف بینرز اٹھائے کھڑے تھے جن میں خواتین بھی شامل تھیں  اور کچھ ایسی خواتین بھی تھیں  جن کے ڈریس کوڈ کی وجہ سے کسی ملک میں داخلہ کے لیے مشکل پیش آ رہی تھی۔

کیا اس کا کوئی فائدہ تا؟ ظاہری طور پر تو کوئی فائدہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ ٹرمپ کی شکل کا ایک شخص جس کے پاس سکیورٹی سے متعلق اپنی کہانیاں تھیں ، چہرے پر غصہ کے آثار تھے  اور کان میں آلات سماعت لگارکھے تھے، والک پر آیا ہو۔ وہ کچھ عجیب و غریب جملے بول رہا  ہو جیسے یہ فیک نیوز ہے، میں سب سے بہترین لیڈر ہوں، ہیلری شیطان ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اس کے علاوہ ٹرمپ کی پلاسٹک کی گڑیا بھی  اہمیت کی حامل تھی۔اسے کموڈ پر بٹھایا گیا تھا جہاں یہ واہیات جملے بول رہی تھی۔

کچھ ایسے لوگ بھی موجود تھے جو فلسطین کی آزادی کے حق میں مظاہرے کر رہے تھے۔  جیوز فار لیبر نامی ایک گروپ ٹرمپ کو حکومت سے برطرف دیکھنا چاہتا تھا۔ ٹرمپ کے دورہ کے خلاف جرمی کوربن نے ایک شاندار تقریر کی ۔ جب ہوم سیکرٹری ساجد جاوید ، وزیر اعظم تھریسا مے کے ساتھ گیسٹ لسٹ سے ٹرمپ کو ہٹانے کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے  تو جرمی کوربن اس کی مخالفت کر رہے تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ دنیا میں جمہوریت اور انسانی روایات ابھی ختم نہیں ہوئی ہیں۔

تلفگار سکوئیر سے  عوام کے فیصلے کو جسے دنیا بھر نے دیکھا  ، اردگان حکومت کے لیے ایک نوٹس کے طور پر لیا جا سکتا ہے ۔ اس واقعہ سے لوگوں کو ہمت ملتی ہے کہ وہ ڈکٹیٹر شپ کے خلاف آواز اٹھا سکیں۔ اس واقعہ میں بھارتی وزیر اعظم مودی کے کمیونل اقتدار کو بھی ایک وارننگ ملتی ہے۔ لیکن جب تک اپوزیشن کی طرف سے عوامی آواز کا ساتھ نہیں ملے گا، تب تک  ملک میں جمہوری روایات کی بحالی تقریبا ناممکن  چیز بنی رہے گی۔

وزارت خارجہ کے ترجمان کی طرف سے امریکی رپورٹ کو مسترد کرنے کے بیان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بھارت  کی موددی حکومت بھارت کو تباہی کے راستے پر قائم رکھنے پر بضد ہے۔ امریکی  سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ میں بھارت میں مذہبی آزادیوں پر ہندوتوا حکومت کی طرف سے قدغنو ں پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔  1992 میں معاملات اس سے کہیں زیادہ مختلف تھے  جب جے این ڈکشت ملک کے خارجہ سیکرٹری تھے۔ ایودھیا میں بابری مسجد مسمار کر دی گئی تھی  اور دنیا بھر میں بھارتی سفارت خانے شرمندگی سے دو چار تھے۔ انہوں نے نئی دہلی سے مدد مانگی کہ وہ کیسے دنیا کو اس تکلیف دہ واقعہ کے بارے میں بریف کر سکتے ہیں۔

ڈکشٹ ایک کھلا دماغ رکھنے والے سیکولر سفارتکار ہیں۔ انہوں نے اپنے سفارت خانوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ  اپ فرنٹ رہیں۔ انہیں بتائیں کہ ہمارے پاس کچھ رائوڈیز ہیں  جنکا کام ہی ہمارے ملک کی سیکولر آئین کو نقصان پہنچانا ہے۔ ہم ایودھیا واقعہ کی مذمت کرتے ہیں اور  بھارتی جمہوریت میں اقلیتوں کو ان کے حقوق دلوانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہی اپنے ساتھیوں کو بتایا تھا۔

بھارت کا امریکی رپورٹ کے بارے میں جواب دی ہندو اخبار میں اتوار کے روز شائع ہوا۔ اس میں وزارت خارجہ کے ترجمان کا بیان  نقل کرتے ہوئے لکھا گیا کہ  غیر ملکی حکومتون کو حق حاصل نہیں کہ وہ بھارت  کی محرک جمہوریت اور قانون کی حکمرانی سے جڑے رہنے کے عزم پر تنقید کر سکیں۔

امریکی کانگریس کی طرف سے مذہبی آزادیوں کے بارے میں رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے بھارتی ترجمان نے کہا کہ  امریکہ کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس طرح کی رپورٹ جاری کرے۔ ایک غیر ملکی حکومت کو کوئی اختیار نہیں کہ وہ  ہمارے  ملک کے شہریوں کے آئینی طور پر محفوظ حقوق پر سوال اٹھائے۔ یہ تبصرہ اتنا ہی احمقانہ تھا جتنا حال ہی میں اقوام متحدہ میں بھارتی نمائندے نے بھارت کو ایک جمہوری معاشرہ قرار دیتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ بھارت میں ٹارچر کی گنجائش ہی نہیں ہے۔

امریکی رپورٹ  منگل کے روز شائع ہوئی جب امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ مائیک پومپیو بھارت کے دورے پر پہنچنے والے تھے ۔ مائیک پومپیو نے یہ رپورٹ خود ریلیز کی  اور مذہبی آزادی کے مسئلہ کو ایک  اہم نوعیت کی ذاتی ترجیحی پریشانی قرار دیا ہے۔ سٹیٹ ڈیپارمنٹ کی 2019 کی رپورٹ میں ایسی کئی مثالیں دی گئی ہیں جن میں مودی حکومت  اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایسے اقدامات کیے  جن سے مسلمان اور عیسائی طبقہ کو سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔

بھارت کے سرکاری ترجمان نے البتہ بھارت کو ایک سیکولر ریاست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ  دنیا بھر میں یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ بھارت ایک واضح طور پر محرک جمہوری معاشرہ ہے جہاں آئین شہریوں کو مذہبی آزادی  کی ضمانت دیتا ہے اور  جمہوری حکومتیں اور قانون کی حکمرانی  بھی بنیادی شہری حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتے ہیں۔ڈکشٹ یہی الفاظ ادا کر کے خلاصی پا سکتے تھے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ تب اور آج میں یہی فرق ہے۔

گاو رشکوں کی طرف سے شہریوں کو تشدد کر کے مار ڈالنے  کے واقعات کے علاوہ امریکی رپورٹ میں یہ بھی  لکھا ہے کہ ایسی کئی کوششیں کی گئی ہیں کہ اقلیتی اداروں  کو کمزور کیا جائے اور ایسے شہروں کے نام تبدیل کیے گئے  جو ایک پلورسلٹک بھارت کی علامت ثابت ہوتے تھے۔ اس معاملے میں  الہ آباد کے نام کو تبدیل کر کے پرایاگ راج رکھنے کے واقعہ کا خصوصی طور پر ذکر کیا گیا۔ یہ بات کہ یہ رپورٹ رائٹ ونگ امریکی انتظامیہ کی طرف سے تیار کی گئی تھی بہت مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے۔ یہ ایسا ہے جیسے شکست خوردہ اردگان اپنے مخالفین سے ہاتھ ملانے پر مجبور ہو، ایک ایسے فیصلے پر جس کی انہیں کوئی توقع نہیں تھی۔

ایک پرانی ہندی فلم کا گانہ جو فیض کے شعر پرمبنی ہے کچھ یوں ہے: ؎

رات بھر کا ہے مہمہ اندھیرا                 کس کے روکے رکا ہے سویرا

رات اندھیر ی ہے لیکن رات ہی تو ہے۔ استنبول سے ہمارے لیے یہی پیغام ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *