اقبال نسیم اور نیشنل زکوٰۃ فاؤنڈیشن کی خدمات

دنیا جب سے قائم ہوئی ہے زیادہ تر انسانوں میں سماجی خدمتگار یا ہمدردی کا جذبہ ہمیشہ پایا گیا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں بادشاہ سے لے کر عام انسان میں ہمدردی اور دان دینا کا جذبہ پایا جاتا رہا ہے۔ تاہم اس کے بر عکس چیریٹی کے نام پر غبن اور دھوکے جیسی باتوں کوسن کر یا جان کرہمیں تکلیف بھی پہنچتی ہے۔ مثلاً غریبوں کی مدد کرنے نام پر پیسے کو لوٹنا یا غریبوں کا استحصال کرنا۔ لیکن اب بھی زیادہ تر ممالک میں غریب اور بے سہارالوگوں کی مدد کے لئے بے شمار چیریٹی اور لوگ رات دن محنت کر کے ان کو مدد پہنچا رہے ہیں۔
برطانیہ میں زیادہ تر چیریٹی کا عمدہ کارنامہ اور بے مثال خدمات ہیں۔ جس کی ایک وجہ برطانوی لوگوں کی فراخ دلی اور ہمدردی ہے اور ساتھ ہی یہاں کی اچھی معاشی حالت بھی ہے۔ہر سال ا ربوں پونڈ چیریٹی کے لئے اکھٹا کئے جاتے ہیں اور جسے دنیا بھر میں ان لوگوں کے لئے بھیجا جاتا ہے جو بے حال اور بے یارو مدد گار ہیں۔
برطانیہ میں مسلمانوں کے نام پر کئی اعلیٰ اور معروف چیریٹی سرگرم ہیں۔ جن میں مسلم ایڈ، ہیلپنگ ہینڈ، اسلامک ایڈ، ریڈ فاؤنڈیشن، ہیومن اپیل، اسلامک ریلیف، یو کے اسلامک مِشن، مسلم ہیلپ،مسلم گلوبل ریلیف،نیشنل زکوۃ فاؤنڈیشن قابلِ ذکر نام ہیں۔ یہ چیریٹی کئی ملین پونڈ ہر سال جمع کرتی ہیں اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک میں جہاں مسلمان پریشانِ حال یا غربت کی زندگی گزار رہے ہیں ان کو امداد پہنچاتی ہیں۔
ان ہی چیریٹی میں سے ایک چیریٹی نیشنل زکوٰۃ فاؤنڈیشن ہے۔ نیشنل زکوٰۃ فاؤنڈیشن کا قیام 2011میں آیا۔ جب چند مسلم نوجوانوں کو اس بات کا خیال آیا کہ برطانیہ میں ہزاروں مسلم غربت یا خواتین گھریلو تشدد سے پریشان ہیں اور معتدد وجوہات سے حکومت سے امداد لینے سے محروم ہیں۔تاہم ایسے لوگوں کو دیگر برطانوی چیریٹی نہ تو کوئی امداد پہنچا رہی تھی اور نہ ہی انہیں ان لوگوں کی کسی کو پرواہ تھی۔ ممکن ہے لوگوں کو اس بات کی غلط فہمی ہو کہ برطانیہ کے ہر شہری کوملکہ برطانیہ کی خاص عنایت یا رعایت حاصل ہے۔ جو کہ سراسر غلط سوچ ہے۔ 2018میں نیشنل زکوٰۃ فاؤنڈیشن نے لگ بھگ 10,000لوگوں کی امداد کی اور 10ملین پونڈ سے زائد رقم کو پریشان حال لوگوں میں تقسیم کیا۔
نیشنل زکوٰۃ فاؤنڈیشن کے ایک اہم بانی ممبر اقبال نسیم ہیں جن کا تعلق انگلینڈ کے ویمبلڈن علاقے سے ہے۔ اقبال نسیم کے والد جناب سید محمد نسیم ساٹھ کی دہائی میں بہترروزگار اور بہتر زندگی کے لئے برطانیہ تشریف لائے تھے۔نسیم صاحب کا تعلق ہندوستان کے صوبے بہار کے آرہ ضلع سے ہے۔ والد زمینداروں میں شمار ہوتے تھے اور نسیم صاحب کی ابتدائی تعلیم برٹش راج میں آرہ میں ہوئی تھی۔ ہندوستان کے بٹوارے اور ہندو مسلم تناؤ نے نسیم صاحب جیسے ہزاروں مسلمانوں کو ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ تاہم نسیم صاحب کو اس بات کا کوئی ملال نہیں کہ انہوں نے ہندوستان کیوں چھوڑا۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ نسیم صاحب بچپن سے ہی کافی ذہین اور ہونہار تھے۔ تبھی تو وہ برطانیہ آنے کے بعد بھی خود تو اعلیٰ عہدے پر فائز رہے بلکہ اپنے بچوں کو بھی اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کیا۔

" اقبال نسیم "

اقبال نسیم نے انگلینڈ کی معروف (Cambridge University)کیمبرج یونورسٹی سے اکنامکس اور مینیجمنٹ میں ایم اے کی اعلی تعلیم حاصل کی اور ساتھ ہی انہوں نے قرآن کا حفظ بھی کیا۔ جو کہ الحمداللہ واقعی ایک فخریہ بات ہے۔ اقبال نسیم دینی معاملے میں تو علم رکھتے ہی ہیں اس کے علاوہ وہ برطانیہ کے مختلف بینکوں میں تحقیقاتی تجزیہ کار کی حیثیت سے اعلیٰ عہدے پر بھی فائز رہے۔
لیکن 2011میں جب نیشنل زکوٰۃ فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی گئی تو اقبال نسیم مکمل طورپر زکوٰۃ فاؤنڈیشن کے لئے اپنی ذہانت اور لیاقت کی بنا پر دن رات اس کام میں جٹ گئے۔ آج وہ نیشنل زکوٰۃ فاؤنڈیشن کے (Chief Executive)چیف ایکزیکیوٹو کے عہدے پر فائز ہیں۔
اقبال نسیم نے برطانیہ بھر میں گھوم گھوم کر زکوٰۃ کی ادائیگی اور اس کے مقاصد سے لوگوں کو آگاہ کیا اور اس بات کی بھی تلقین کی کہ کیوں کر برطانیہ کے ان لوگوں کے لئے زکوٰۃ اہم ہے جن کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔یوں تو اقبال نسیم نے دنیا کے مختلف ممالک میں نیشنل زکوٰۃ فاؤنڈیشن کی سربراہی کرتے ہوئے اپنی بات کو لوگوں تک پہنچایا ہے لیکن ان کا سب سے بڑا کارنامہ ورلڈ اسلامک اکنامک فورم کی کانفرنس میں شرکت کرنا تھا۔جو کہ ایک قابلِ تعریف بات ہے۔
عام طور پربرطانیہ میں سماجی پریشانیوں سے دوچار لوگوں کے لئے قانونی طور پر تمام کونسل میں ایک شعبہ ہوتا ہے۔ جس سے بچوں، نوجوان اور بوڑھے لوگوں کے لئے تمام تر سہولیات مہیا کرائی جاتی ہے۔لیکن پچھلے دس برسوں سے ایسی تمام سہولیات فنڈ کی کٹوتی اور آبادی کے بڑھنے سے دوچار ہیں۔ زیادہ تر لوگوں کو ان کی ضرورت کے مطابق سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں۔ فنڈ کی کمی کے باعث کونسل کے ان شعوبوں میں دن بدن گراوٹ ہورہی ہے۔ جس سے بچوں سے لے کر ضعیف اور مریض حالات سے دو چار ہورہے ہیں۔ تاہم پھر بھی کونسل کافی لوگوں کو تمام تر دشواریوں کے باوجودامداد پہنچا رہی ہے۔
نیشنل زکوٰۃ فاؤنڈویشن کا ایک سب سے اہم اور بڑا کام گھریلو تشدد سے پریشان مسلم خواتین کی امداد ہے۔ جو سماجی اور خاندانی بدنامی کے ڈر سے کسی سے مدد مانگنے سے گریز کرتی ہیں اور اپنی زندگی کو عذاب بنا لیتی ہیں۔ان مسلم خواتین کے ساتھ ان کے بچے بھی ہوتے ہیں جن کی پرورش کافی دشوار ہو جاتی ہے۔ نیشنل زکوۃ فاؤنڈیشن کا ایک سب سے اہم پروجیکٹ گھریلو تشدد سے پریشان خواتین کو عارضی طور پر پناہ دینا ہوتا ہے۔جس سے مقامی کونسل کو کچھ حد تک راحت مل جاتی ہے اور اس دوران کونسل سوشل ورکر کے ذریعے تشخیص کرو اکے ایسے لوگوں کو لمبی مدت کے لئے تمام چیزوں کا انتظام کرتی ہے۔جس میں رہائش سے لے کر تعلیم اور روزگار بھی شامل ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ نیشنل زکوٰۃ فاؤنڈیشن کمیونٹی کے سر گرم کارکن، مستقبل کے امام اور علماء کے لئے بھی فنڈ مہیا کرتی ہے۔ جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ برطانیہ میں مسلمانوں میں اسلام کی تعلیمات اور مذہب کے متعلق دیگر مذاہب میں جو غلط فہمیاں ہیں وہ دور کی جا سکیں۔
میں نے اس بات کو محسوس کیا ہے کہ اسلام کے بارے میں لوگ اپنے اپنے طور پر رائے دینے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں جبکہ ان کی معلومات قرآن اور حدیث کی روشنی میں نہ ہونے کی وجہ سے وہ لوگوں میں گمراہی پھیلا دیتے ہیں۔اس لئے نیشنل زکوٰۃ فاؤنڈیشن کا یہ اقدام قابلِ ستائش ہے۔ جس کے ذریعہ ہماری مساجد سے لے کر اسکول اور دیگر اداروں میں جہاں مسلم مسائل کو حل کرنے کی بات ہوگی تو ایسے علماء اور امام اپنی اعلیٰ تعلیم اور مطالعہ سے کسی بھی مسئلے کا حل بحسن و خوبی نکال لیں گے۔ جس سے دیگر مذایب میں بھی اسلام کے متعلق جو غلط فہمیاں ہیں وہ دور ہوں گی۔
اقبال نسیم کو حال ہی میں شاہی خاندان کی طرف سے (MBE-Member of British Empire)ممبر آف برٹش ایمپائر کے خطاب سے نوازا گیا ہے۔ جو کہ ایک قابلِ تعریف اور فخریہ بات ہے۔ نوجوان اقبال نسیم نے کچھ ہی سال میں اپنی صلاحیت اور محنت سے
اس اعزاز کو پانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ جس کے لئے میں اقبال نسیم کو تہہ دل سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
ہم سب کو اقبال نسیم کی صلاحیتوں کو دیکھ کر اس پر عمل اور کوشش کرنی چاہئے کہ ہماری کمیونٹی میں جو خامیاں اور پریشانیاں ہیں اس کا حل ہم اپنی ذات اور جیب سے کریں۔ تا کہ ہمارے مسائل حل ہوں اور ہم ایک باوقار قوم بن سکیں۔ میں علامہ اقبال کے اس شعر سے اپنی بات کو ختم کرتا ہوں کہ:۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ورپیدا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *