افغانستان بمقابلہ پاکستان: کرکٹ کے میدان میں پاکستان کا روایتی حریف کون؟

کرکٹ کے میدان میں پاکستان کا روایتی حریف کون؟

اس سوال کا جواب دینے کے لیے کسی کو ذرا دیر بھی سوچنا نہیں پڑتا کیونکہ ذہن میں فوراً انڈیا کا نام آتا ہے۔

لیکن آخر کیا وجہ ہے کہ جب پاکستانی کرکٹ ٹیم بنگلہ دیش اور افغانستان کے مدِمقابل آتی ہے تو جذبات کی شدت اور ماحول کی گرمی پاک بھارت کرکٹ کی طرح نہ سہی لیکن کچھ کم بھی نہیں ہوا کرتی۔

دراصل یہ رقابت کھیل سے زیادہ سیاسی پسِ منظر رکھتی ہے۔

سنہ 1971 میں مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش میں تبدیل ہونے کے بعد وہاں پاکستان کے بارے میں جو عمومی منفی ردعمل اور فضا قائم ہوئی اس کے اثرات کرکٹ کے میدان میں بھی دیکھے گئے۔ اور جب بھی یہ دونوں ممالک کرکٹ کے میدان میں آمنے سامنے آئے یہ رقابت کھیل پر حاوی رہی ہے۔

بنگلہ دیش کے شائقین

بنگلہ دیش کی طرح افغانستان کی کرکٹ کے بھی قدم جمانے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی کوششیں شامل رہی ہیں

اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرے گا کہ بنگلہ دیش کو آئی سی سی کی ٹیسٹ رکنیت دلانے میں پاکستان کی کوششیں بھی شامل رہی ہیں لیکن یہ بات بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ بنگلہ دیش کا جھکاؤ ہمیشہ سے انڈیا کی طرف رہا ہے اور وہ کوئی بھی ایسا قدم نہیں اٹھاتا جو انڈیا کی ناراضگی کا باعث بنے۔

کچھ یہی صورتحال افغانستان کے ساتھ بھی درپیش ہے۔

وہ بھی دیگر تمام شعبوں کی طرح کرکٹ میں بھی انڈیا کے زیر اثر دکھائی دیتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان نے جس انداز سے کرکٹ میں ترقی کی منازل طے کی ہیں وہ مثالی ہیں لیکن یہ بات یاد رکھنے والی ہے کہ افغان کرکٹ پاکستان میں قائم جلوزئی، کچہ کارا اور دیگر کیمپوں میں پروان چڑھی ہے۔

یہ اور بات ہے کہ آج افغان کرکٹرز پاکستان میں اپنے قیام کا ذ کر کرتے ہوئے کچھ کتراتے ہیں۔

انڈیا کے شائقین

بنگلہ دیش کی طرح افغانستان کی کرکٹ کے بھی قدم جمانے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی کوششیں شامل رہی ہیں۔ پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹرز راشد لطیف، کبیر خان اور انضمام الحق افغان ٹیم کی کوچنگ کر چکے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ متعدد بار افغانستان کی ٹیم کو پاکستان کے دورے کی دعوت دیتا رہا ہے لیکن جس طرح بنگلہ دیش سکیورٹی کو جواز بنا کر پاکستان اپنی ٹیم بھیجنے سے انکار کرتا رہا ہے اسی طرح افغانستان کی ٹیم بھی ابھی تک پاکستان کا دورہ نہیں کر پائی ہے۔

دو سال قبل افغانستان کے کرکٹ بورڈ اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین عاطف مشال اور شہر یار خان نے لاہور میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں لاہور اور کابل میں دو ٹی 20 میچز کی نوید سنائی تھی۔

لیکن افغانستان میں فوری طور پر اس کا شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور سوشل میڈیا پر یہاں تک کہا گیا کہ کرکٹ میچز دوست ممالک کے ساتھ کھیلے جاتے ہیں دشمنوں کے ساتھ نہیں۔

افغانستان کے شائقین

افغانستان نے پہلے ٹی 20 میچز کھیلنے کی ہامی بھری پھر انکار کر دیا

اس ردعمل پر افغان کرکٹ بورڈ کے ترجمان کو یہ کہنا پڑا تھا کہ پاکستان کے ساتھ کھیلنے کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے اور اگر ایسا کوئی معاہدہ ہو گا تو اس میں افغان عوام کی خواہشات کو مدِنظر رکھا جائے گا۔

افعان کرکٹ بورڈ کے عبوری چیف ایگزیکٹیو آفیسر اسد اللہ خان کے حالیہ ٹی وی انٹرویو کو پاکستانی کرکٹ حلقوں میں پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا گیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ افغانستان اس وقت کرکٹ میں پاکستان سے کئی اعتبار سے بہتر ہے اور پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی کرکٹ کی بہتری کے لیے افغانستان کی مدد حاصل کرے۔

افغانستان نے ورلڈ کپ کے وارم اپ میچ میں پاکستان کو شکست دے کر اپنے خطرناک عزائم ظاہر کر دیے تھے لیکن اس کے بعد خود اس کی اپنی کارکردگی مایوس کن رہی ہے اور اب تک کھیلے گئے ساتوں میچوں میں افغانستان کو شکست ہوئی ہے۔

پاکستان نے افغانستان کے خلاف اپنے تینوں میچز جیت رکھے ہیں لیکن گذشتہ سال ایشیا کپ میں افغانستان کی ٹیم جیت کے قریب آ کر دور ہوئی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *