ایمنسٹی یا ریفرنڈم

وزیراعظم عمران خان نےتین مختلف ٹیلی ویژن خطابات کے ذریعےلوگوں کوایمنسٹی سکیم میں حصہ لینے کی ترغیب دے کر اپنی اس سکیم کو اپنی حکومت کے اگلے مالی سال کے ٹیکس پلان پر رفرینڈم میں تبدیل کر دیا۔

یہ اگلے ماہ ٹیکس کلیکشن کے سلسلے کا پہلا قدم ہے جو جولائی کے آغاز سے شروع ہو گا۔ اس دوران ہم بہت سے چھاپے، اکاونٹ فریزنگ، ٹیکس نوٹسز اور ریفنڈ بلاک ہونے کی خبریں سنیں گے۔ حکومت کی فائننس ٹیم کی مشترکہ طاقت کو کچھ دن قبل ٹی وی پر لوگوں کو اپنے خفیہ اثاثے ڈیکلیر کرنے اور رجسٹر کروانے پر آمادہ کرتے دیکھا گیا۔ انکے ساتھ کچھ دیر تک وزیر اعظم خود بھی  پروگرام میں شریک ہوئے ۔

حکومت کا پیغام ہے کہجن لوگون کے پاس خفیہ پراپرٹی اور اثاثے ہیں ان کے لیے یہ مہلت کچھ عرصہ کے لیے دی گئی ہے تا کہ وہ اپنے اثاثے ڈیکلیر کریں اور ٹیکس نیٹ میں شامل ہو کر قانونی کاروائی سے بچ سکیں۔ ایک دفہ جب یہ کھڑکی بند ہوجائے گی تو مزید اس طرح کا اچھا موقع نہیں ملے گا۔ اس کے بعد ‏غیر اعلان شدہ اثاثوں کی کھوج کی جائے گی۔ کچھ مواقع پر حکومت کی طرف سے مال قبضہ میں لینے اور قانونی کاروائی کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

اسکو ریفرینڈم میں تبدیل کرنے کی وجہ ہہ ہے کہ اگر تو ایمنیسٹی سکیم کی اپیلوں کا جواب کمزور ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ٹیکس جمع کرنے کی اس کاوش کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کمزور ریسپانس کا مطلب یہ ہو گا کہ حکومت کی طرف سے ان سب اقدامات کو عوام نے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے۔ اس کا مطلب عوام حکومت کو دھمکی دے رہے ہیں کہ آ کر ٹیکس لے کر دکھاو۔ اس معاملے میں حکومت کو سخت سبکی ہو گی۔ حکومت کو اگلے سال کا مالی خسارہ ختم کرنے کے لیے بہت بڑی تاریخی جمپ لگانی ہو گی اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت  ہونے کی وجہ سے  ادھار لے کر شارٹ فال کو ختم کرنا آسان نہیں ہوگا۔

اگرچہ ایک حقیقی ریفرینڈم کے برعکس یہاں پر کوئ بھی'ہاں' یا 'نا' میں نتیجہ واضح نہیں ہے۔ کوئ کس طرح ایمنیسٹی سکیم کے کامیاب ہونے یا ناکام ہونے کا تعین کرسکتا ہے؟ یہاں پرکم ازکم چار نہیں تو تین نہیں معیار ہیں جن پر انحصار کیا جاسکتا ہے۔ آپ  فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد دیکھ سکتے ہیں، یا سکیم کے ذریعے جمع ہونے والے ٹیکس کی رقم دیکھ سکتے ہیں یا پھر اثاثوں کی رقم کی قیمت کا اندازہ لگا سکتے ہیں، اور یا پھر فارین ایکسچینج  کی رقم جو بیرون ملک سے بھیجی گئی ہو  کو دیکھ کر اس سکیم کی کامیابی یا ناکامی کا تعین کر سکتے ہیں۔

تو اس معاملے میں اچھی تعداد کیا ہوگی؟ ہم جون اور جولائ 2018 کی ایمنسٹی سکیم کو ایک معیار کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ سکیم 10 اپریل کو شروع ہوئ اور یہ فرض کیا گیا کہ  یہ 30 جون تک چلے گی پھراسکو ابتدائیطورپر11 جولائ تکتوسیع  دی گئی۔ پھر دوبارہ بزنسکمیونٹی کے مطالبے پر 30 جولائ تک توسیع دی گئی 10 جون  تک اس سکیم کو بہت کمزور رد عمل دیکھنے کو ملا اور رپورٹ کے مطابق صرف کچھ سو لوگوں نے اس سکیم کا فائدہ اٹھایا اور جمع ہونے والی رقم محض کچھ کروڑ روپے تک محدود رہی۔ سپریم کورٹ سکیم پر سماعت کر رہی تھی جب کہ فائدہ اٹھانے والے عدالتی حکم کا انتظار کر رہے تھے۔ 12 جون کو عدالتی حکم آیا اور پھر ٹیکس جمع کروانے والوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔

ایک مہینے بعد 11 جولائی  کو حکومت نے عوامی رد عمل کے بارے میں پہلی رپورٹ جاری کی۔ تب تک 55000 سے زا‎ئد لوگوں نے اپنے اثاثے ڈیکلیر کر لیے تھے اور 577 ارب روپے مالیت کے غیر ملکی اثاثوں اور 1192 ارب گھریلو سطح پر اثاثوں پر ٹیکس ریونیو جمع ہوا۔ 36 ارب روپے صرف غیر ملکی اثاثوں پر ٹیکس کی صورت میں اس سکیم کے ذریعے آئے۔ تاہم غیرملکیزرمبادلہ کی بھیجی ہوی رقم محض 40 ملین ڈالر تھیعبوری حکومت کی طرف سے جاری کیے جانے والے بیان میں لکھا ہے کہ " ایمنسٹی سکیم کا یہ ریسپانس بےمثال ہے"۔ جب 30 جولائی کو سکیم ختم ہوئی تو ڈیکلیر کرنے والوں کی تعداد 80 ہزار جب کہ جمع شدہ رقم 124 ارب روپے تک پہنچ چکی تھی۔

سپریم کوٹ کے12 جون کو دیے گئے حکم اور 11 جولائی کو جاری کیے گئے کوائف کےدرمیان ایک مہینہ   کا دورانیہ اس اس سکیم کی کامیابی کے لیے ایک معیار کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے۔ دوسرا معیار حکومت کی اپنی توقعات کا ہوسکتا ہے۔مثال کے طور پر، محمد اشفاق احمد جو کہ FBR میں چیف آف انٹرنیشنل ٹیکسیز ہیں کے 26 جون کو خلیج ٹائمز میں شائع کیے گئے مضمون کے مطابق حکومت سکیم کے ذریعے ایک کھرب روپے سے زائد ‏‏غیر ملکی اثاثوں کی مالیت کے اعلان کی توقع کرتی ہے۔

سکیم کے تحت اکٹھی کی جانے والی ٹیکس کی رقم ایک دوسرا معیار ہو سکتا ہے۔ حکومتی وزراء کا کہنا ہے کہ آمدنی مقصد نہیں ہے لیکن اس بات پر یقین صرف ایک سادہ لوح انسان ہی کر سکتا ہے۔ حکومت سے توقع کی جا رہی تھی کہ نئے ٹیکسس سے آمدنی کا ہدف 700 ارب روپے کے قریب رکھے جائیں گے لیکن اس کے بجا‎‎ۓ بجٹ میں نئے ٹیکس پروپوزلز کی مالیت 550 ارب روپے کے قریب تھی۔یہ ممکن ہے کہ حکومت150 ارب کے  اس فرق کو ایمنسٹی سکیم سے حاصل ہونے والی آمدنی سے پورا کرنا چاہتی ہو۔ شائد یہی وجہ ہے کہ انہوں نے لوگوں کو آج ڈیکلیر کرنے اور بعد میں ادائیگی کرنے کی اجازت دی ہے تا کہ حاصل ہونے والی آمدنی اگلے سال کے خسارہ میں شامل کی جا سکے۔

تو اگر سکیم میں ڈیکلیر کرنے والوں کی تعداد 55000 سے کم ہوئی، اورآمدنی 150 ارب روپے سے کم رہی ، اور غیرملکی اثاثوں میں ایک کھرب سے کم مالیت کے اثاثے ڈیکلیر ہوئے تو اس کا مطلب ہے عوام نے حکومت کی اس پالسی کو مسترد کر دیا ہے۔   اس تعداد سے جتنی بھی رقوم کم ہوں گی اتنا ہی زیادہ حکومت کی شکست کا مارجن ہو گا۔ ایمنسی سکیم فلاپ ہونے کی صورت میں پی ٹٰی آئی کی ریونیو جمع کرنے کی کوشش بے کار قرار پائے گی اور اسے اپنے پہلے سال کے آئی ایم ایف پروگرام میں بہت مشکلات کا سامنا رہے گا۔ اب ہمیں یہ امید رکھنی چاہیے کہ  حکومت درست اعداد و شمار سامنے لائے تا کہ ہم تصویر کا اصل رخ دیکھ سکیں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *