اعلی عہدوں پر موجود حساس لوگ

جب میں سکول پڑھتا تھا  توبد تمیزی کے جواب کے معاملے میں یہ اصول سمجھا جاتا تھا کہ  چھڑی اور پتھر سے  ہڈیاں ٹوٹ سکتی ہیں لیکن الفاظ سے کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔

لیکن ظاہری طور پر ایسا  معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسا کرتے ہیں۔ آپ قاسم خان سوری کی طرف سے نیشنل اسمبلی میں اپوزیشن کی طرف سے سلیکٹڈ لفظ استعمال کرنے پر پابندی کے معاملے سے ہی اندازہ لگا لیجیے۔ یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس لفظ کے استعمال سے ناگواری محسوس کرتے تھے کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ ان کے لیڈر کے دیانتدارانہ انتخاب پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

اپوزیشن کی طرف سے پارٹی کو غیر قانونی قرار دینے  اور پچھلے سال کے الیکشن کی  غیر جانبداری اور درست ہونے پر سوال اٹھا کر  واضح طور پر حکومتی گروپ کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی نے سیاسی عدم برداشت کے کلچر کو فروغ دیا ہے  جو  کنٹینر سے ٹی وی سٹوڈیوز اور اب قومی اسمبلی تک پہنچ چکا ہے۔ حال ہی میں میں نے ایک پی ٹی آئی منسٹر کو ٹی وی سٹوڈیو میں کراچی کے ایک صحافی پر حملہ آور ہوتے دیکھا تو بہت دکھ ہوا۔ یہ کوئی انہونی چیز نہیں تھی۔ اس سے قبل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی  کے وزیر نے ایک اور صحافی کو  ایک سماجی تقریب میں تھپڑ مار دیا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ پیمرا جو کہ الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹ کرنے کا ادارہ ہے وہ بھی ڈپٹی سپیکر کی طرح  ہے۔ ایک دو ہفتے قبل اس نے ٹی وی چینل پر طنز یہ پروگراموں پر پابندی لگا دی۔ ایک بار پھر یہ ثابت ہوا کہ ہمارے حکمرانوں کی چمڑی بہت پتلی ہےاس لیے وہ  یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ان کا مذاق اڑایا جائے۔

لیکن خود پی ٹی آئی اپنے مخالفین کے خلاف فحش ترین اور گالی گلوچ کی زبان آئے روز استعمال کرتی ہے۔ عمران خان نے وزرات عظمی کی دوڑ کے لیے کی گئی مہم کے دوران مخالفین کے خلاف سخت اور ہٹ دھرمی سے بھر پور زبان استعمال کر کے اپننے پارٹی ممبران اور سپورٹرز کے لیے مثال قائم کر چکے ہیں۔ یہ ان کے ان تمام دعووں کے بر عکس ہے جو انہوں نے برطانوی پارلیمنٹ ممبران کے بارے میں تعریفی کلمات کے طور پر کہے ہیں کہ وہاں مخالفین پر کیچڑ نہیں اچھالا جاتا  اور تشدد کاتو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بلکہ وہاں تو مخالف جماعتوں کے ممبران ویسٹ منسٹر بار میں اکھٹے کھاتے پیتے نظر آ تے ہیں۔ ویسٹ منسٹر کی پارلیمانی جمہوریت کے حامل ہونے کے باوجود ہم ان لوگوں کی طرح کی برداشت اور تحمل کی خوبیاں نہیں اپنا سکے۔ یہ بات بجا ہے کہ ہر ملک کے خاص سیاسی منظر نامہ کی بنیادد اس کے کلچر اور رسم و رواج میں ہی پوشیدہ ہوتی ہے۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارے ملک کے بیشتر منتخب نمائندے اپنے جاہلانہ بیک گراونڈ کو اسمبلی تک لے آتے ہیں۔ غرور و تکبر یہاں سنجیدگی اور تہذیب کی جگہ لے چکا ہے۔ پارٹی لیڈر ایسے کوئی اقدام نہیں اٹھاتے کہ ان کے ممبران کی مسلسل بد تہذیبی کے رویہ پر باز پرس ہو  اور وہ آئندہ کے لیے محتاط رویہ رکھیں۔ اور جب عمران خان جیسے لیڈر نیشنل اسمبلی پر خود اپنی زبان سے لاکھ بار لعنت بھیجتے نظر آئیں  تو صورتحال کو سمجھنا اتنا مشکل نہیں رہتا۔ ان کا ایک سٹنگ ممبر کے طور پر اور اب پرائم منسٹر کے طور پر رویہ بہت قابل رحم ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ کرسی پر موجود رہ کر وقت کے ساتھ سیکھ جائیں لیکن مجھے ایسا ممکن نہیں آتا۔

اس طرح کے ہٹ دھرمی اور بد معاشی کا رویہ سمجھنے کے لیے ہمیں اپنے کلچر میں غیرت اور عزت  کے مسئلے کو سمجھنا چاہیے جہاں کوئی بھی بے عزتی برداشت نہیں کی جاتی اور ذمہ داروں کو لازمی سزا دی جاتی ہے۔یہ قبائلی  رسم   غیرت کے نام پر بہت کے قتل کے واقعات کا سبب بن چکی ہے۔ اس لیے کسی بھی قسم کی تنقید چاہے وہ اخبار میں ہو، ٹی وی چینل میں ہو یا قومی اسمبلی میں کی جائے  اسکا مقابلہ  پوری قوت کے ساتھ  کیا جاتا ہے۔ جمہوریت  اصل میں اس قابلیت کا نام ہے کہ آپ مخالفین کے نقطہ نظر کو سننے کا حوصلہ دکھا سکیں چاہے وہ آپ کے نظریہ کے بر عکس ہی کیوں نہ ہو۔ پاکستان میں اوردوسری ایکس کالونیز میں ہم نے پارلیمنٹ کی بلڈنگ اور الیکشن کی صورت میں کچھ  پارلیمانی جمہوریت کے شکنجے ایجاد کر رکھے ہیں۔  لیکن عقل اور برداشت ہمارے سیاستدانوں کو چھو کر نہیں گزری۔

اس مسئلہ کی بڑی مثال عمران خان خود ہیں۔ مجھے یاد نہیں میں نے کب انہیں عوام کے اندر ہنستے مسکراتے دیکھا تھا۔ وہ ہمیشہ سنجیدہ اور اپنے مخالفین  کے خلاف بپھرے نظر آتے ہیں۔ کپتان جی، تھوڑا  مسکرا لیا کریں۔ زندگی اتنی بُری بھی نہیں ہے۔ پاکستانی سیاست میں مخالفین کی آوازوں کو دبانا ا ور تنقیدی آوازوں کو سینسر کرنا ایک عام روایت رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ فوجی حکومتوں کے پاس طاقت ہوتی ہے کہ وہ میڈیا کو بھی پابندیوں کے ذریعے کنٹرول کر سکیں  لیکن منتخب سیاستدانوں بھی اپنے کارنامے عوام کے سامنے آنے اور مذاق اڑائے جانے کے معاملے میں بہت  حساس ہوتے ہیں۔

تکنیکی طور پر پیمرا ایک خود مختار ادارہ ہے اورڈپٹی سپیکر سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ  ‏غیرجانبداررہیں اور اسمبلی معاملات میں اپنی پارٹی کے اثر و رسوخ کو نظرانداز کریں ۔ لیکن جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ ان دوںوں میں سے اک نے بھی غیر جانبداری نہیں دکھائی۔ ۔اسمبلی کے ممبران کواظہاررائے کا حق حاصل ہوتا ہے اور میڈیا بھی شائستگی اور تہذیب کی حدود کے اندر رہتے ہوئے قانونی طور پر کسی بھی معاملے پر پروگرام کرنے کا حق رکھتا ہے۔

تاہم، جیسا کہ ہم اکثر یہ سب کچھ بھی دیکھ چکے ہیں کہ ، زیادہ تر ہمارے ٹی وی چینل بے بنیاد الزامات اور خطرناک حد تک غلط تجزیات پیش کرتے ہیں ۔لیکن جب تک یہ سلسلہ اپوزیشن کے خلاف اپنایا جاتا ہے، پیمرا خاموش رہتا ہے۔ ۔ یہ تبھی حرکت میں آتا ہے جب یہ سلسلہ حکومتی پارٹی کے خلاف اپنایا جائے۔ تب پیمرا کو اظہار رائے کی آزادی کے خطرات نظر آنے لگتے ہیں۔

سوشل میڈیا نے بھی سینسرشپ کا دباؤ محسوس کیا ہے۔ بلاگرز کو اغوا کیا گیا ہے اور مبینہ طور پر گمنام غنڈوں کی کی طرف سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ریاست نے ایسے سوفٹ وير تیار کر رکھے ہیں جن کے ذریعے انہیں عوام کے ای میلز اور موبائل فونز تک رسائی حاصل ہے۔ستم ظریفی یہ ہے یہ سب کچھ اس وقت ہورہا ہے جب منتخب حکومتیں اقتدار میں ہیں اگرچہ وہ مکمل طور پر با اختیار نہیں ہیں۔

جب تک یہ غیر جمہوری رویے قائم رہیں گے تو وزیر اعظم کو سلیکٹڈ قرار دینے والوں کی زبان بندی کیسے کی جائے گی؟

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *