عمران خان ۔۔۔ ایک خوش قسمت وزیراعظم

مجھے اس تجزیے سے سو فی صد اتفاق ہے کہ موجودہ حکومت کو اپوزیشن سے کوئی خطرہ نہیں ۔ لیکن اس کی وجہ یہ نہیں سمجھتا کہ کہ " حزبِ اختلاف کے پاس ویسے بھی کیا ہے سوائے دوپٹہ پھیلا کے ’سلیکٹڈ‘ کو کوسنے دینے کے؟"
نہیں ، یہ کوسنے اصل میں محض دکھاوا ہے ، منافقت ہے ۔ ورنہ یہ اپوزیشن حقیقی جمہوریت کی اولاد ہوتی توکبھی کی عدم اعتماد کی تحریک لا چکی ہوتی ۔ کیا اس سے بڑھ کر حکومت پر کوئی پریشر ہو سکتا تھا؟ کیا زرداری جو سب پر اتنے بھاری ہونے کا معلوم نہیں کس جگہ پر تمغہ سجائے پھرتے ہیں،اور مولانا فضل الرحمان جیسے کاریگر سیاست دان اس دائو سے اس قدر نابلد کیسے ہو سکتے ہیں ؟ لیکن ان کی ساری کاری گری شاید حکومت میں شامل ہونے کے لیے ہے نہ کہ اپوزیشن کے کردارکو کارگر کرنے میں۔۔۔
کیا یہ ایم پی اے اور ایم این اے کسی بھی درجے میں جمہوریت پسند قرار دیے جا سکتے ہیں جو اس حکومت کی لونڈیاں بننا قبول کر لیں جن کے کوڑوں سے ان کے اصل آقاووں کی کھال ادھیڑی جا رہی ہو ؟
کیا یہ مینگل شینگل اپنی قوم کے بہی خواہ ہو سکتے ہیں جو ہر آن نوٹوں میں اضافہ دیکھ کر اپنا موڈ بدل لیتے ہوں ؟
آخر زرداری صاحب اپنی مکار قسم کی ہنسی کے درمیان جب یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ ہم "ان " سے مک مکائو کیوں کریں ، کیونکہ ان کے خیال میں عمران حکومت کا نکھٹو قراردے کر راندہ درگاہ ہو جانا اب چند دنوں کی دوری پر ہے ، اس لیے وہ " بات " ان سے کریں گے جو اصل ہیں ، تو وہ کس جمہوریت کی بات کر رہے ہوتے ہیں ؟
کاش اس سارے جمہوری تماشے کی کٹھ پتلیوں میں کوئی حقیقی کردار ہوتا ۔۔۔۔ کاش راکھ کے اس ڈھیر میں کوئی چنگاری بچی رہ گئی ہوتی۔۔۔ کاش سیاست کے میدان میں کسی نے خواہشوں کےخچروں کے بجائے شعور وآگہی کے گھوڑے پر سوار ہو کر قدم رکھا ہوتا۔۔۔۔
اس لیے سچی بات یہی محسوس ہوتی ہے اس اپوزیشن میں موجود ہر بڑی یا چھوٹی پارٹی کی حیثیت ایک ایسی مطلقہ کی سی ہے جو یہ چاہتی ہے کہ اب حلالہ ہو چکا ہے اس لیے مجھ سے عقد ثانی کیوں نہیں کیا جاتا؟
نواز شریف سے ضرور امید ہو چلی تھی کہ وہ یہ جان چکے ہیں کہ پیا ہرجائی ہے ۔ امید ہو چلی تھی کہ وہ سارے راز قوم کو بتا دیں گے جس کی وجہ سے ان کومعلوم ہوا تھا کہ پیا ہر جائی ہے ۔ مگر شاید وہ آدھے سچ سے ڈرتے ہیں ۔۔۔۔ وہ اپنے حصے کی غلطیوں کو ماننے پر آمادہ نہیں ہیں ۔ ورنہ کمیونیکیشن کے اس دور میں کیا کیا نہیں ہو سکتا ۔۔۔
اور مزید حیرت اس وقت ہو تی ہے جب شہباز شریف جیسے شرارتی بچوں کی " حرکتوں " سے بھی وہ بدمزہ نہیں ہوتے ۔ ایسے میں یہی محسوس ہوتا ہے کہ یہ طلاق اصل میں نان نفقہ کے کم یا زیادہ ہونے کی وجہ سے ہوئی تھی۔ اس میں اگران کی مرضی کے مطابق کمی بیشی کر لی جاتی یا اب بھی کرلی جائے تو انھیں اصلاً پیا کی بے وفائی سے کوئی زیادہ شکایت نہیں۔
اوریہ کوئی ان ہی کا معاملہ نہیں ، ساری اپوزیشن ہی کا یہی خیال ہے کہ ان کے نان نفقے کے جھگڑے میں پسند کا تصفیہ ہو جائے تو وہ تیسری یا چوتھی یا باندی بننے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے ۔
اس لیے لگے رہو منا بھائی خوشبو لگا کے

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *