وکی پیڈیا کے شریک بانی کا دو دن کے لیے سوشل میڈیا ہڑتال کا اعلان

سوشل میڈیا صارفین پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ رواں ہفتے 48 گھنٹوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا استعمال نہ کریں تاکہ صارفین کے ذاتی ڈیٹا پر کنٹرول کو بحال کرانے لیے نیٹ ورکس پر دباؤ ڈالا جا سکے۔

اس ہڑتال کا اعلان آن لائن انسائیکلوپیڈیا وکی پیڈیا کے شریک بانی ڈاکٹر لیری سینگر نے کیا ہے۔

ڈاکٹر سینگر کا کہنا ہے کہ چار اور پانچ جولائی کو ہونے والی یہ ہڑتال تبدیلی کے لیے ’بڑے مطالبے‘ کو پیش کرے گی۔

تاہم اس ہڑتال میں بڑھتی دلچسپی کے باوجود بھی کچھ لوگوں کی جانب سے اس کے اثرات کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

اس ہڑتال میں حصہ لینے والے لوگ دو دن سوشل میڈیا کا استعمال نہیں کریں گے تاکہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کی جانب سے فراہم کردہ سروسز کے خلاف ’سنجیدہ برہمی‘ کا اظہار کیا جا سکے۔

سوشل میڈیا ہڑتال

ہڑتال میں حصہ لینے والوں کو ڈیجیٹل آزادی کے اعلامیے پر دستخط کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے

بڑی تبدیلیاں

ڈاکٹر سینگر نے اس دو روزہ ہڑتال کی وجوہات کے بارے میں ایک بلاگ پر لکھا ہے ’ ہم بہت زیادہ شور مچانے والے ہیں۔‘

انھوں نے کہا ’ہم اپنی اجتماعی طاقت کا مظاہرہ کریں گے اور مطالبہ کریں گے کہ بڑی اور ساز باز کرنے والی یہ کارپوریشنز ہمارے ڈیٹا، پرائیویسی(نجی معلومات کے بارے میں رازداری) اور صارف کے تجربے کا کنٹرول ہمیں واپس لوٹا دیں۔‘

ڈاکٹر سینگر کا کہنا ہے کہ اس ہڑتال میں جتنے زیادہ افراد حصہ لیں گے اس سے اتنا زیادہ ظاہر ہو گا کہ لوگ موجودہ صورتحال سے کتنے غیر مطمئن ہیں۔

ڈاکٹر سینگر کو امید ہے کہ اس ہڑتال کے ذریعے سماجی رابطوں کے نیٹ ورکس میں تبدیلی آئے گی اور لوگوں کو ان کے ذاتی ڈیٹا پر زیادہ کنٹرول دیا جائے گا۔

انھیں یہ بھی امید ہے کہ اس ہڑتال سے نیٹ ورکس مزید قابل عمل بنیں گے اور کسی ایک سروس پر کی گئی ایک پوسٹ کو دوسری سروس پر بھی دیکھا جا سکے گا۔

انھوں نے کہا ’شروع سے ہی سوشل میڈیا کو اسی طرح ہی تیار کیا جانا چاہیے تھا بجائے اس کے، کہ ایک الگ دیوار کھڑی کر لی جائے اور نیٹ ورکس ایک دوسرے کا مقابلہ کریں۔‘

ہڑتال میں حصہ لینے والوں کو ڈاکٹر سینگر کی جانب سے تیار کردہ ڈیجیٹل آزادی کے اعلامیے پر دستخط کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

ہڑتال کا اعلان ریڈ اٹ، ٹوئٹر اور دیگر نیٹ ورکس پر کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر سینگر نے اپنے حامیوں کو فیس بک پر بھی یہ پیغام پھیلانے کی ہدایت کی ہے کیونکہ وہ خود فیس بک اکاؤنٹ نہیں رکھتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *