بلا تبصرہ

اب پاکستان مستحکم ہو چکا ہے۔ معیشت کو ٹریک پر لانے کا پریشر اب کم ہو گیا ہے۔اب میں ان چوروں کا پیچھا کروں گا۔ یہ بات عمران خان نے حال ہی میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے مزید کہا: میں ایک ہائی پاور انکوائری کمیشن بنا رہا ہوں جس کا ایک ہی ایجنڈا ہو گا: پچھلی حکومتوں نے 10 سال میں ملک کا قرضہ 24 ارب تک کیسے پہنچا دیا؟

یہ خطاب وزیرا عظم نے بجٹ سیشن کے دوران کیا تھا  ۔ اب یہ سیشن ختم ہو گیا کیونکہ بجٹ اب پاس ہو چکا ہے۔ اب سب منتخب نمائندے سکون کا سانس لے سکتے ہیں کیونکہ اب انہیں مشکل اعداد و شمار بولنے  کی ضرورت نہیں ہے اور اب وہ ایک دوسرے کو گالی گلوچ، پروڈکشن آرڈر، کرپشن، اور نا اہلی جیسے مسائل پر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی معمول کی روش پر واپس آ سکتے ہیں۔ در حقیقت یہ ایک سچ ہے کہ اگرچہ سیاستدانوں نے عوام کے لیے اپنے احساسات  دکھانے کی کوشش کی لیکن پارلیمان نے عوام پر  کوئی خاص گہرائی میں جا کر توجہ نہیں دی۔ یہ بجٹ عوام دشمن تھا کیونکہ موجودہ حکومت نا اہل ہے یا پھر یہ بجٹ بہت مشکل تھا کیونکہ  جو لوگ پچھلی حکومت کر کے گئے انہوں نے پاکستان کو بہت مشکل میں ڈال دیا تھا ا س لیے کچھ مشکل فیصلے بہت ضروری تھے۔ بار بار کمر توڑ دینےو الے خرچے کرنا پڑے لیکن اس کی وجہ یہ تھی کہ اس سے حکومتی بینچز پر تنقید کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ اگر آپ کی دلچسپی غربت کے مارے عوام کے مسائل میں ہے تو اس کے لیے آپ کو پارلیمان کے علاوہ کسی جگہ دیکھنا ہو گا  اور کچھ بور کر دینےو الی  فائلیں کھنگالنا ہوں گی۔ مثال کے طور پر پالیمان میں جو بیانیہ نظر آتا ہے اس کے بر عکس  حکومتی اعداد و شمار کے مطابق جو ملک میں غذا کی سہولت کے بارے میں ایک سروے سے سامنے آئے وہ بہت خوفناک ہیں۔ پاکستان میں سے ہر 10 میں سے چار بچے جن کی عمر 5 سال ہے سٹنٹڈ گروتھ کا شکار ہیں جب کہ 17.7 فیصد بچے ویسٹنگ کا شکار ہیں۔  خوراک پورا نہ ہونے کا دہرا بوجھ  واضح طور پر نظر آنے لگا ہے جب کہ ہر 3 میں سے1 بچہ(28.9) مطلوبہ وزن سے کم وزن رکھتا ہے۔ پچھلے سات سال میں 5 سال کے  بچوں کے ضرورت سے زیادہ وزن کے کیسز میں 2 گنا اضافہ ہو چکا ہے ۔2018 کی رپورٹ کے مطابق  2011 میں یہ شرح 5فیصد تھی جو 2018 تک 9.5 فیصد تک پہنچ چکی ہے  ۔ دوسرے الفاظ میں ایسا لگتا ہے کہ ہمارے ملک کے 40 فیصد بچے محدود گروتھ کے مسئلے سے دو چار ہیں جب کہ 5 فیصد بچے موٹاپے کا شکار ہیں  اور مکمل طور پر صحتیاب بچے صرف 50 فیصد ہیں۔

اگر کسی کو معلوم نہیں کہ سٹنٹنگ کیا ہوتی ہے (جب وزیر اعظم برسر اقتدار آئے تو اس کا اکثر ذکر کرتے تھے لیکن اب نہیں کرتے) تو یہ بتاتی چلوں کہ اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن  کے مطابق  یہ بچوں کی نا مکمل گروتھ اور ڈویلپمنٹ  ہے جس کی وجہ  غذا کی قلت، بار بار انفیکشن کا سامنا اور نا مناسب سماجی و نفسیاتی  ترغیب ہے۔ اگر بچوں کے قد اور عمر میں مواقفت میں اقوام متحدہ کے معیار کے مطابق 2 پوائنٹس سے زیادہ کافرق ہو تو ایسے بچے کو سٹنٹڈ کہتے ہیں۔  اسی عالمی ادارے نے ویسٹنگ کی تشریح کچھ اس طرح کی ہے کہ بچے بہت تیزی سے اپنے جسم کا وزن کھو رہے ہوں  جس کا تعلق بھوک یا بڑی بیماریوں سے ہے۔

لیکن ہمارے لیڈرز کو دوسرے معاملات میں زیادہ دلچسپی رہتی ہے۔ 5 ہزار ارب تو صرف ہمارے  منصوبوں پر نام کی تختی لگانے پر خرچ کیے ہیں  جب کہ نواز شریف  کی سربراہی میں ن لیگ نے بجلی کے منصوبے، ایل این جی پراجیکٹس، بس ریپڈ ٹرانسپورٹ سسٹم ، روڈ پراجیکٹس اور دوسرے کئی منصوبے مکمل کیے۔ شہباز نے پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔

وزیر اعظم  عوام کو بتائیں کہ ان سے کس نے این آر او مانگا ہے؟ کیا اس بات کا کوئی گواہ ہے؟ ملک بہت پریشانی کی حالت میں ہے ۔ عمران خان کوئی بھی دعوی کرتے ہیں لیکن ثبوت سامنے نہیں لا تے۔ میں یہ بات اس ہاوس کے فلور پر آخری بار کہہ رہا ہوں  کہ بتائیں کہ کس نے آپ سے این آر او مانگا ہے، کب مانگا ہے اور کس گواہ کی موجودگی میں مانگا ہے؟   بجٹ سیشن کے دووران شہباز شریف گرجے۔

لیکن ایک طرف این آر او پر بحث جاری ہے تو  دوسری طرف ہم زیادہ اہم مسئلے پر رپورٹ کا اگلا حصہ پڑھتے ہیں جو ہمارے عوام کے بارے میں ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ ہمارے ملک میں سٹنٹنگ کی شرح 40 فیصد ہے  لیکن یہ علاقائی سطح پر مختلف  اوسط پر پہنچ چکی ہے۔ اسلام آباد میں یہ 32.6 فیصد، جب کہ خیبر پختونخواہ میں یہ 48.3 فیصد ہے۔ سندھ بلوچسان، کے پی اور گلگت بلتستان میں یہ قومی شرح کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

اور ہماری حکومت (جس پر  کچھ عرصہ قبل بہت بحث کی جاتی تھی)کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سٹنٹنگ کا مسئلہ 1994 کے بعد بگڑتا ہی جا رہا ہے ۔ 2001 میں یہ شرح 41.6 فیصد تھی جو 2011 میں 43.7 پر پہنچ گئی اور  2018 میں بھی یہ 40.1 فیصد رہی جو کہ عالمی معیار کے مطابق خطرناک حد شمار کی جاتی ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اوسط سالانہ  کمی  کی شرح صرف 0.5 فیصد ہے  جو پاکستان میں سٹنٹنگ کے مسئلہ پر قابو پانے کے لیے بہت محدود رفتار ہے۔ لیکن ایک بڑا سیاسی مباحثہ  جو سننے کو ملتا ہے وہ اگلے الیکشن ہیں۔ ایک ہفتہ قبل نواز شریف نے جیل میں بیان جاری کیا : "میں کوئی نجومی نہیں ہوں لیکن عمران خان بہت جلد اپنے انجام کو پہنچنے والے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت نے پچھلے 10 ماہ میں عوام پر جو قیامت ڈھائی ہے اس کا واحد حل مڈ ٹرم الیکشن ہیں۔ "

ہم الیکشن پر اس طرح بحث کرتے ہیں جیسے اس سے عوام کو کوئی  فرق  پڑتا ہو۔ اگر اس رپورٹ پر یقین کیا جاۓ تو ہماری حکومتیں پچھلے دس ماہ سے بھی کافی دیر پہلے کی ناکام ہورہی ہیں۔

1990 سے صورتحال مزید خراب ہوتی گئی ۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ 1997 سے جوان بچوں میں قد کے لحاظ سے کم وزن کا مسئلہ ‎ؤ بڑھتا رہا ہے،1997 میں pc8.6  سے 2011 میں15.1pc  اور 2018 میں  17.7pcتک پہنچ چکا تھا۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ " شدید ناقص غذائیت اب بھی غذائیت کی ایمرجنسی کی صورتحال سے دو چار ہے ۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں ویسٹنگ کی سب سے زیادہ شرح ہے۔"

سندھ 23.3pc  کے ساتھ سب سے بدترین صورتحال کا شکار ہے، یہی حالت کے پی کی ہے جہاں یہ شرح  23.1pcپرہے گلگت اور اسلام آباد میں اس مسئلے کا شکار بچوں کی شرح بالترتیب 9.4 اور 12.1فیصد ہے۔

لیکن یہ اعداد و شمار ہماری قومی سطح کی قیادت کی توجہ نہیں کھینچ سکتے کیونکہ ظاہر ہے کہ لیڈران  قومی مسائل میں مصروف ہیں جن میں بجٹ کے پیچھے بین الاقوامی سازش جیسے مسائل شامل ہیں ۔

11 جون کو بلاول بھٹو زرداری نے ٹویٹ کیا کہ " آج وزیراعظم پاکستان نےہاوس کے فلور پر ڈانس کیا جب جب ان کے وزراء نے  PTIMF  بجٹ پیش کیا جو صرف ٹیکس میں اضافی،  ، افراط زر کی شرح اور بے روزگاری کا ضامن ہے ۔ تاریخ میں یہ لکھا جائے گا کہ جب ملک کی معیشت تباہ ہو رہی تھی تب عمران ناچ رہے تھے۔ "

کبھی کبھار کسی بھی قسم کا تجزیہ یا راۓ فضول کی بات لگتی ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *