مرتضیٰ علی کا افغانستان سے جان بچانے کے بعد انگلینڈ میں کرکٹر بننے تک کا سفر

چودہ سالہ مرتضیٰ علی کے خاندان کو جب طالبان نے قتل کر دیا تو وہ افغانستان سے بھاگ نکلے اور انگلینڈ میں پناہ لی، جہاں ان کی ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جس نے ان کی زندگی بدل دی۔

انگلینڈ کے شہر آکسفورڈ کے مضافات میں قائم کردہ کمنر کرکٹ کلب کے چئیرمین راجر مِٹی نے اس نوجوان کو خوش آمدید کہا اور مرتضیٰ کو پویلین لے گئے جہاں ان کے لیے کرکٹ کِٹ کا کچھ سامان رکھا ہوا تھا۔

راجر مٹی نے یہ منظر یاد کرتے ہوئے بتایا 'مرتضیٰ نے مجھے ایسے دیکھا جیسے میں نے انھیں لاٹری کا انعام دے دیا ہو۔ یہ ایک انتہائی خوشگوار احساس تھا۔

'اس وقت وہ زیادہ انگریزی نہیں بول سکتے تھے لیکن ادھر آنے پر کافی خوش تھے۔'

مرتضیٰ علی ایک سال کے طویل اور خطرناک سفر کے بعد انگلینڈ پہنچے اور ایک دور کے کزن کے ساتھ آکسفورڈ میں رہنے لگے۔ وہ اپنے ملک میں تو کرکٹ کے بہت شوقین تھے اور اکثر جھاڑو کو بیٹ بنا کر گھنٹوں کھیلتے رہتے تھے لیکن انگینڈ میں انھیں ایک کرکٹر بننے کا موقع ملا۔

راجر مٹی کے لیے علی اب بھی وہی کرکٹ کا ’دیوانہ مگر شرمیلا لڑکا‘ ہے کیونکہ علی کو دیکھ کر ان کا پہلا تاثر یہی تھا۔

وقت کے ساتھ ساتھ علی اور راجر مٹی کا تعلق گہرا ہوتا گیا۔ راجر مٹی کے تین بچے ہیں اور انھوں نے نوجوان افغان کو اپنے چوتھے بچے کی طرح پالا۔

وہ علی کی سالگرہ مناتے، تعلیم حاصل کرنے میں ان کی مدد کرتے اور کرسمس کا تہوار انھی کے ساتھ مناتے۔

اس طرح وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ مٹی کے خاندان اور کمنر کلب کے ممبران نے ٹکڑوں میں مرتضیٰ علی کی کہانی کو جاننا شروع کیا کہ کس طرح یہ دلکش مسکراہٹ والا نوجوان افغانستان سے آکسفورڈ پہنچا۔

راجر میٹی

اس وقت وہ زیادہ انگریزی نہیں بول سکتے تھے لیکن ادھر آنے پر کافی خوش تھے: راجر مٹی

علی کو آکسفورڈ سمگل کر کے لایا گیا کیونکہ افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں ان کی جان کو خطرہ تھا۔ انھوں نے یورپ میں پیدل چل کر مشکل سفر طے کیا۔ اس سفر کے دوران کئی بار ان کی طبیعت خراب ہوئی۔

علی نے بتایا 'میں بس دعا کر رہا تھا کہ میں مر جاؤں کیونکہ مجھ سے پیدل نہیں چلا جا رہا تھا۔ لیکن کسی طریقے سے مجھ میں اتنی طاقت آجاتی تھی کہ میں رینگ لیتا تھا۔ میرے پاس صرف ایک جینز اور شرٹ تھی اور میں برف میں رینگ رہا تھا۔ مجھے لگا کہ میں مرجاؤں گا۔‘

لیکن وہ بلآخر کسی طرح فرانس کے ساحلی شہر کیلے میں قائم پناہ گزین کیمپوں تک پہنچ گئے اور وہاں سے ایک لاری کے پیچھے بیٹھ کر برطانیہ آگئے۔

مرتضیٰ علی نے کہا 'مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ سفر مجھے کہاں لے جائے گا۔ اب میں خود یہ سوچتا ہوں کہ اتنی ٹھنڈ میں ایک شرٹ اور جینز پہن کر میں نے یہ سب کیسے کیا۔ یہ حیرت انگیز تھا۔ اس دوران میں نے لوگوں کے بارے میں بہت کچھ سیکھا۔‘

راجر مٹی نے مرتضیٰ کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'افغانستان سے انگلینڈ تک ان کا سفر غیر معمولی تھا اور میں بس یہ کوشش کرنا چاہتا تھا کہ میں انھیں اپنا پیار، ہمدردی اور حوصلہ دوں۔ انھوں نے ہم سب کے دل میں گھر کر لیا تھا۔‘

کرکٹ

افغانستان کے صوبہ غزنی میں ایک لڑکا کرکٹ کھیل رہا ہے۔ یہ وہی صوبہ ہے جہاں سے علی کو اپنی جان بچانے کے لیے بھاگنا پڑا تھا

علی نے اگلی ایک دہائی کمنر میں کرکٹ کھیلتے گزاری۔ انھوں نے بتایا 'دنیا میں ایسا گراؤنڈ کہیں بھی نہیں۔ یہ گراؤنڈ میرے دل میں بستا ہے۔'

جب کم عمری کا سفر طے کر کے وہ ایک مرد بنے تو ان کی پرکشش بیٹنگ اور خطرناک بولنگ نے لوگوں کو کافی متاثر کیا اور آل راؤنڈر کی حیثیت سے وہ کلب کے بہترین کھلاڑیوں میں سے ایک بن گئے۔ چاہے فیلڈ پر ان کی مہارت ہو یا فیلڈ کے باہر کی زندگی، وہ جنگ کے لیے ہمیشہ تیار رہے۔

لیکن علی کو اس وقت ایک مرتبہ پھر اپنی اندرونی قوت کو استعمال پڑا جب برطانیہ کے دفترِ داخلہ نے انھیں ملک بدری کی تنبیہ کی۔

جب سنہ 2002 میں وہ برطانیہ آئے تھے تو انھیں دو سال کا ایمرجنسی ویزا دیا گیا تھا لیکن جب وہ اپنی اٹھارویں سالگرہ کے نزدیک پہنچے تو علی کو بتایا گیا کہ انھیں واپس افغانستان بھیج دیا جائے گا۔

اس فیصلے نے راجر مٹی اور کمنر کے رہائشیوں کی جانب سے ایک مہم کو جنم دیا جس میں لابی کرنے والوں میں ممبرانِ پارلیمان بھی شامل تھے اور یہ کوشش کی جا رہی تھی کہ مرتضیٰ علی کو افغانستان میں لاحق خطرات کے بارے میں افغان رہنماؤں سے ثبوت مانگے جائیں۔

مٹی نے کہا کہ انھیں اس بات میں کوئی شک نہیں تھا کہ اگر مرتضیٰ علی کو واپس افغانستان جانا پڑا تو ان کے لیے سب ختم ہو جائے گا۔

’مجھے یاد ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو شاید کسی مشکل لمحے کے دوران، جب کچھ بھی ٹھیک نہیں لگ رہا تھا، کہا کہ اگر میں اسے نہ بچا سکا تو میں خود کو کبھی معاف نہیں کر پاؤں گا۔'

مرتضیٰ کے لیے مہم چلانے والے گروپ کو اس وقت ایک بڑی کامیابی ملی جب انھوں نے بلآخر کابل سے ایک فیکس وصول کر لیا۔

مٹی نے کہا کہ یہ فیکس 'مرتضیٰ کے گاؤں میں تمام بڑوں کا دستخط شدہ اقرار نامہ تھا کہ اگر وہ واپس آیا تو اسے مار دیا جائے گا۔ یہ بہترین ثبوت تھا جو سیدھا ان لوگوں کی طرف سے آیا تھا جو ایسی معلومات سے آگاہ تھے۔'

اور آخرکار برطانوی حکومت کی جانب سے علی کو ایک خط دیا گیا جس میں ان کی 'آزادی کا پاسپورٹ' تھا۔

برطانیہ میں جب علی کا مستقبل غير يقينی تھا تو اس دوران انھوں نے انگریزی سیکھی، ثانوی تعلیم کے امتحانات دیے اور آکسفورڈ بروکس یونیورسٹی میں اکاؤنٹنگ پڑھنے کے لیے داخلہ لیا۔

راجر مٹی، جو اب کمنر کرکٹ کلب کے صدر ہیں، کہتے ہیں کہ علی کی قابل تعریف بات یہ ہے کہ انھوں نے کبھی اپنے آپ کو مظلوم پیش نہیں کیا۔

راجر مٹی نے بتایا کہ علی اکثر انھیں کہا کرتے تھے کہ 'آپ اور کمنر کے دوسرے لوگ ہمیشہ مجھ سے پیار، ہمدردی اور خلوص سے پیش آتے ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ میرا تعلق ایک الگ ثقافت، پس منظر، نسل اور مذہب سے ہے۔'

افغانستان ٹیم

افغانستان کی ٹیم اس وقت اپنے دوسرے ورلڈ کپ میں حصہ لے رہی ہے

مٹی کے مطابق علی کرکٹ کی مدد سے 'متحرک' ہوئے اور ان کے پاس اس کھیل کے لیے 'قدرتی قابلیت' تھی، جہاں بچپن میں ایک جھاڑو سے کھیلنے سے ان کی تکنیک بہتر بن گئی۔

علی کی عمدہ کارکردگی سے متاثر ہو کر آکسفورڈ مرلیبون کرکٹ کلب نے اپریل سنہ 2009 میں انھیں آل راؤنڈر کے طور پر ورسٹر شائر کے خلاف ایک میچ کے لیے منتخب کیا۔

اس طرح وہ سال 2007 میں افغانستان کے معروف کرکٹر محمد نبی کے بعد انگلینڈ میں فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے والے دوسرے افغان کھلاڑی بن گئے۔

آسٹریلیا کے شہر میلبرن کے ایک دورے کے بعد علی کو سنہ 2013 میں وہاں کلب کرکٹ کھیلنے کی پیشکش کی گئی۔ یہ ایک ایسی پیشیکش تھی جو ٹھکرائی نہیں جاسکتی تھی۔

انگینڈ میں 11 سال گزارنے کے بعد علی کو کمنر میں اپنے لے پالک خاندان کو چھوڑنا پڑا اور پھر انھوں نے آسٹریلیا میں اپنی ایک ہم وطن خاتون سے شادی کر لی۔

اپنے دو بچوں کے لیے انھوں نے 'سٹیرنگ ایٹ ڈیتھ' یعنی موت کو گھورنا نامی ایک کتاب لکھی تاکہ وہ ماضی کی اپنی داستان سنا سکیں۔

32 سالہ علی نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ افغانستان سے باہر گزارا ہے لیکن وہ ابھی بھی پرامید ہیں کہ کبھی نہ کبھی غزنی صوبے میں واقع اپنے گاؤں دہ مردہ جا سکیں گے، حالانکہ انھیں بتایا جاچکا ہے کہ یہ جگہ ان کے لیے ابھی بھی بہت خطرناک ہے۔

علی نے آسٹریلیا میں اپنی زندگی بنا لی ہے لیکن اب بھی وہ کمنر کو اپنا گھر سمجھتے ہیں۔

'راجر میرے والد کی طرح ہیں۔ میں یہ ہمیشہ یاد رکھوں گا کہ انھوں نے میرے لیے کیا کیا۔'

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *