فاشزم کی ایک مفید چیک لسٹ

ایک طرف بھارت کے کمیونسٹ  بڑے عزم کے ساتھ اس حقیقت کو قبول کر رہی ہے کہ بھارت میں فاشزم سرایت کر چکی ہے ، تو ویسٹ بنگال  کی ترینامول کانگریس سے تعلق رکھنے والی خاتون ایم پی نے لوک سبھا میں ہنگامہ مچاتے ہوئے   ملک کو اس خطرے سے آگاہ کرنے کی بھر پور کوشش کی۔ماہوا موئیترا  نے سخت مزاحمتی لہجہ اختیار کرتے ہوئے  ایوان میں بیٹھے تمام لوگوں کو بہت درست طریقے سے خبردار کیا۔ اپوزیشن بینچز سے یہ بات سننے کو ملتا بہت غیر معمولی بات ہے کیونکہ اپوزیشن ابھی تک مئی کے الیکشن کے دھچکا سے باہر نہیں آئی ہے۔ اپنی اس تقریر کی وجہ سے یہ خاتون میڈیا کی تنقید کا  مرکز بنتے ساتھ ساتھ ملک بھر میں ایک سٹار بھی بن گئیں۔ ماہوا نے امریکہ میں ایک بہترین بینک کی نوکری چھوڑی  تا کہ وہ اپنے گاوں بنگال میں ترقیاتی کام کروا سکیں۔ جب انہیں بائیں بازو کے طبقہ سے جوڑا گیا تو انہوں نے بہت قوت سے اپنا موقف پیش کیا۔ اپنے تجزیہ میں انہوں نے اس دور کا ذکر کیا جب بھوپیش گپتا اور ہیرن مکھرجی ان کی طرح دبنگ لہجے میں بولا کرتے تھے اور کروڑوں لوگوں کی امید بن چکے تھے ۔ وہ بھی ماہوا مترا کی طرح عوام کو خبر دار کیا کرتے تھے۔ بھارت کی جمہوری  ٹریک سے علیحدگی کی علامات  پر بات کریں، ہمیں ان تمام خالی خانوں کو پر کرنا ہے جو ماہوا مترا نے اپنی اس تقریر میں خالی چھوڑ دیے تھے۔

یہ 90 کی دہائی کے شروعات کی بات ہے جب میں نے شرد پاور کے ساتھ کچھ مواقع پر گفتگو کی اور بہت اہم معلومات حاصل کیں۔ اس وقت شرد پاور مہاراشٹرا کے چیف منسٹر تھے۔ وہ  لاتور میں آنےو الے زلزلے کی تباہی سے متاثرہ لوگوں کے لیے قائم ایک کمیپ سے ریلیف آپریشنز کی نگرانی کر رہے تھے ۔ مجھے گراونڈ زیرو سے رپورٹ کرنے کا کہا گیا تھا ۔ پاور نے مجھے بتایا کہ وہ جب وزیر دفاع تھے تو ان کی ملاقات چینی صدر لی پنگ سے ہوئی جنہوں نے بھارت کی  ریاستی میعشت کی بجائے فری مارکیٹ معیشت کی طرف بغیر پلاننگ کے تبدیلی پر سخت تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ایم پی ممبران کو  یا تو رشوت دی گئی یا  پھر فری مارکیٹ سسٹم کی مخالفت کرنے پر جیل کی ہوا کھلائی گئی۔

لی نے میخال گورباچو کا حوالہ دیا جو اس وقت کمیونسٹ ریاست کے صدر تھے جب مغرب کو متاثر کرنے کے لیے انہوں نے ایک نیا ملک بنانے کی کوشش کی  جو کمیونسٹ سٹیٹ کے زوال  کا باعث بنی  گئی۔ اگر گورباچو نے  تعمیر  نو  اور  دوستانہ طریقہ اپنایا ہوتا تو نقصان کو محدود کیا جا سکتا تھا۔ لیکن انہوں نے جمہوریت اور معیشت دوونوں پر ایک ہی وقت میں کام شروع کر دیا۔ لی کا اشارہ گور باچو کی سوویت یونین  میں جمہوریت روایات اور معیشت پر پالیسی متعارف کروانے کے اقدامت کی طرف تھا۔ انہوں نے کیپٹلازم کی پسندیدگی کی سطح کا اندازہ نہیں لگایا  ۔ لی نے پاور کو خبردار کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے تمام لوگوں کا اعتماد میں نہیں لیا ۔ یہ معاملہ چین کے ماوسٹ سوشلزم سے دوری اختیار کرنے جیسا نہیں تھا۔ لیکن اس کے اندر اس قدر سیاسی قوت موجود تھی  جو عوام کی تکلیف کو جذب کر سکے۔

کئی سال بعد میں  راہول گاندھی سے ایک ملاقات کے لیے گیا۔ تب منموہن سنگھ وزیر اعظم تھے  اور میں نے انہیں خبردار کیا کہ وہ اپنی ترجیحات کے بارے میں محتاط رہیں۔ وہ بات چیت جاری رکھنے سے بھی کترا رہے تھے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا میں جسونت سنگھ کی بات کر رہا ہوں؟ ان کا اشارہ بی جے پی کی ایک ایم پی کی طرف تھا۔ میں نے کہا میرا اشارہ منموہن کی طرف ہے۔ نرم مزاج معاشی ماہر منموہن سنگھ  کو آئی ایم ایف کی مرضی کے مطابق مارکیٹ دوست معاشی پالیسیاں متعارف کروانا تھیں۔  لیکن انہوں نے سب سے غریب طبقہ کو لائن میں سب سے پیچھے رکھا ۔

اسی طرح کا مسئلہ چین کو بھی پیش آیا جب ڈینگ شیو پنگ نے 70 کی دہائی میں سٹیٹ کیپٹلزم کو فروغ دیا۔ لیکن اس وقت چین کو پارٹی کے متحد ہونے کی وجہ سے فائدہ حاصل ہوا  اور ریاست نے پوری قوت کے ساتھ تبدیلیوں کو سسٹم میں شامل کیا۔ جب چین نے  کسی بھی طرح کی مشکلات کا سامنا کیا تو انہوں نے بزور طاقت ایسی رکاوٹوں پر قابو پانے کی حکمت عملی اپنائی ۔ سوویت یونین اور چین کے بر عکس  بھارت کا ہٹ دھرم طبقہ ریاستی مداخلت کا سامنا کبھی نہیں کرتا  اور کرپشن کو بڑھاوا دیا جاتا ہے۔ سنگھ نے جو نظریہ پیش کیا تھا اس کے راستے میں اندرا گاندھی نے روڑے اٹکائے جس کی انہیں بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ ایل کے ایڈوانی کے نسلی تعصب کے عزائم اور سنگھ کے معاشی عزائم  کی وجہ سے لی پینگ کی تشویش میں اضافہ ہوا۔ اس کی قیمت بھارت کو سوشل فیبرک کے ٹوٹنے کی صورت میں ادا کرنا پڑی۔

اگر کوئی ثبوت چاہتا ہے کہ وہ 28 فروری 2002 کے دن کا مشاہدہ کرے جب  وزارت خزانہ بجٹ پیش کر رہی تھی اور باہر لوگوں کو تشدد سے قتل اور عصمت دری کا سامنا تھا۔ نیو لبرل اکنامکس  ایک اوپن سوسائٹی میں ناکام ہو گا اس کا ثبوت ویسٹ بنگال  سے مل سکتا ہے جب لیفٹ فرنٹ کو اقتدار ملا تھا۔ بڑے بزنس اہلکاروں کو زمینیں دی گئیں  اور لی پینگ کی وارننگ کو نظر انداز کر دیا گیا  جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جمہوریت اور نیو لبرلازم مکس نہیں ہو سکتے ۔ بائیں بازو کے لوگوں کو ایسی سیاسی  قیمت چکانا پڑی کہ وہ ابھی تک اس مشکل سے نکل نہیں پائے۔

کمیونسٹ طبقہ  ممتا بینرجی کی طرف سے مسلم کمیونلزم کی حمایت کو بی جے پی کے عروج کا ذمہ دار قرار دیتا ہے۔ لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ انہیں دیانتداری سے یہ بتانا چاہیے کہ انہوں نے حال ہی میں کیوں عوام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ کانگریس کو شکست دیں اور بی جے پی کو تنہائی کا شکار کر دیں۔ یہ مطالبہ  کیسے اس بات کا  غماض تھا کہ اس مقابلے کو کانگریس اور بی جے پی کے بیچ میچ جیسی صورتحال تک محدود کر  دیں۔ کانگریس کو شکست دینا تو  ممکن تھا لیکن بوتھ میں بی جے پی کو تنہا کرنے کا کیا مطلب تھا؟

اگر وہ یہ دیکھ لیں کہ کیسے نیو لبرل  طبقہ کی طرف سے بھارت میں فاشزم کو پروموٹ کیا جا رہا ہے تو ماہوا موئترا کے نکات زیادہ موثر نظر آئیں گے۔ انہوں نے جو نکات پیش کیے ان میں مضبوط اور مستقل نیشنلازم، انسانی حقوق کے لیے نفرت، دشمنوں کی شناخت کو اتحاد کی علامت بنانا، بڑھتی ہوئی سیکسزم، کنٹرولڈ میس میڈیا، نیشنل سکیورٹی پر حد سے زیادہ فوکس،  مذہب اور حکومت کا آپسی گٹھ جوڑ، کارپوریٹ پاور پروٹیکشن،  لیبر پاور کو دبایا جانا،  فنکاروں اور دانشوروں کے لیے نفرت،  جرائم اور سزاوں پر حد سے زیادہ توجہ،  امتیازی سلوک اور کرپشن شامل ہیں۔ ان میں سے آپ خود  پوائنٹس کا انتخاب کر لیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *