’خواتین کمر کی چربی گھلائیں، ٹانگوں کی خیر ہے‘

ایک نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پیٹ کی بہ نسبت خواتین کی ٹانگوں پر زیادہ چربی انھیں مینوپاز یا حیض کا عمل رک جانے کے بعد دل کی بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے۔

یورپین ہارٹ جرنل نامی جریدے میں شائع شدہ تحقیق کے مطابق صحت مند وزن کی ایسی خواتین جن کے جسم میں زیادہ تر چربی پیٹ پر تھی اور کولہوں اور ٹانگوں پر کم چربی تھی، اُن میں سٹروک اور دل کی بیماریوں کے قدرے زیادہ خطرات دیکھے گئے۔

سائنسدانوں کے مطابق ’ایپل شیپ‘ یا ’گول مٹول‘ خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنی کمر کے گرد چربی کم کریں اور انگریزی محاورے کے مطابق 'پیئر شیپ' یا ناشپاتی جیسی جسامت بنانے کی کوشش کریں۔

لیکن دل کی بیماریوں کے خلاف سرگرم ایک خیراتی ادارے کے مطابق خواتین میں پیٹ کے ارد گرد چربی اور دل کی بیماریوں میں تعلق پر مزید تحقیق ہونی چاہیے۔

اس تحقیقی رپورٹ کی تیاری میں دو ہزار چھ سو ایسی خواتین کا اٹھارہ برس تک جائزہ لیا گیا جن میں جسمانی چربی، وزن اور قد کا تناسب یا باڈی ماس انڈیکس اٹھارہ تا پچیس تھا جو بہت صحت مند سمجھا جاتا ہے۔

یہ خواتین انیس سو نوے کی دہائی میں شروع ہونے والی ایک بڑی امریکی تحقیق میں شامل تھیں جس کے دوران اُن کے مستقل سکین ہوتے تھے تاکہ جسمانی چربی، پٹھوں اور ہڈیوں کی مضبوطی کو جانچا جاسکے۔

تحقیق سے پتہ چلا کہ کولہوں اور ٹانگوں پر زیادہ چربی والی خواتین کی بہ نسبت ’گول مٹول‘ جسامت کی خواتین کو دل کی بیماریوں کا تین گنا زیادہ خطرہ درپیش تھا۔

سائنسدانوں کو پہلے سے ہی یہ بات معلوم تھی کہ پیٹ کے اعضا کے گرد جمع ہونے والی چربی سے صحت کے مسائل بڑھنے کا خطرہ زیادہ ہو جاتا ہے مثلاً دل کی بیماریاں اور ٹائپ ٹو ذیابیطس وغیرہ۔

دورانِ خون اور دل کی بیماریاں برطانیہ میں ایک چوتھائی اموات کی وجہ بنتی ہیں۔

یہ بات کہ ٹانگوں کی چربی فائدہ مند ہے، بہت زیادہ سمجھی نہیں جاسکی ہے لیکن یہ چربی جسم میں کسی دوسری خرابی کا باعث بہرحال نہیں بنتی۔

بدقسمتی سے ادھیڑ عمری میں غیرصحت مند طرزِ زندگی پیٹ کے اردگرد چربی جمع کرنے کا باعث بن جاتا ہے۔

یہ تحقیق کرنے والے نیویارک کے ایلبرٹ آئن سٹائن کالج سے وابستہ پروفیسر چبن چی کہتے ہیں کہ اِس تازہ تحقیق سے پہلے ساری ریسرچ زیادہ وزن والے بہت بھاری بھرکم لوگوں پر کی گئی تھی۔

اُن کا کہنا ہے کہ تازہ تحقیق میں تمام شرکا عام وزن والی خواتین تھیں اور اِس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ صحت مند وزن والی خواتین کے لیے بھی یہ بات اہم ہے کہ چربی اُن کے پیٹ کے اردگرد ہے یا ٹانگوں اور کولہے پر۔

ایسے میں سوال یہ ہے کہ خواتین کیا کریں؟

پروفیسر چبن چی کے مطابق گُر کی بات یہ ہے کہ ٹانگوں اور کولہے کی بہ نسبت پیٹ کے اردگرد چربی کم کی جائے۔ اِس مقصد کے لیے خوراک کیا ہونی چاہیے، اِس بارے میں وہ کہتے ہیں کہ گو ابھی تو ایسی کسی مخصوص خوراک کا علم نہیں ہے لیکن وہ اور اُن کے ساتھی اِس موضوع پر کام کر رہے ہیں اور امید ہے کہ جلد اِس کا جواب مل جائے گا۔

تب تک، پروفیسر چبن چی کا مشورہ ہے کہ ورزش اور صحت بخش غذا پر ہی توجہ دی جائے۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر سونیا بابو نرائن کہتی ہیں کہ اِس تازہ تحقیق نے جسم کی چربی کہاں جمع ہوتی ہے اور سٹروک اور دل کی بیماریوں کے درمیان ایک دلچسپ تعلق دریافت کیا ہے۔

’لیکن اِس موضوع پر ابھی مزید تحقیق ہونی چاہیے تاکہ اِن بیماریوں کے تدارک اور اِن کے علاج کے نئے طریقے دریافت کیے جاسکیں۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *