گروتھ کی سیاسی معیشت

رانا ثنا اللہ جو مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر ہیں اب اینٹی نارکوٹکس فورس کی تحویل میں ہیں ۔ انہیں سزائے موت یا عمر قید کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ ان کی فیملی کی کار سے 15 کلو ہیروئن برآمد کی گئی ہے۔ عمران خان نے سر عام اعلان کیا تھا کہ رانا ثنا اللہ کو مونچھوں سے پکڑ کر جیل میں ڈالیں گے۔ اگلی باری احسن اقبال کی ہے جو ن لیگ کے وزیر داخلہ رہ چکے ہیں ۔ ان کی کار میں سے بھی میزائل برآمد کر لیے جائیں گے۔ وہ بھی حکومت کے لیے سر درد بنے ہوئے ہیں کیونکہ وہ اعداد و شمار کا حوالہ دے کر پی ٹی آئی حکومت کی قلعی کھولتے رہتے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی  کو بھی مت بھولیں جو ن لیگ کے سابقہ وزیر اعظم تھے انہیں یہ بتانا ہو گا کہ کیسے ان کی چار بکریاں وزیر اعظم عمران خان کے علاقے میں گھس کر گھاس چرنے لگیں ۔ اور پھر مریم نواز کی باری آئے گی  کیونکہ ہو سکتا ہے ان کے چینل بیگ میں سے آئی فون کی شکل میں ایک ایٹم بم بھی بر آمد کیا جا سکتا ہے  جب وہ منڈی بہاوالدین میں  عمران خان کے خلاف خطاب کرنے جا رہی ہوں گی۔

حنیف عباسی جو ن لیگ کے رالپنڈی کے صدر تھے  کو بھی اے این ایف کے ذریعے کئی ماہ تک جیل میں رکھا گیا کیونکہ  انہوں نے عمران خان کی ذاتی زندگی کے بارے میں عدالت میں پٹیشن دائر کرنے کی ہمت دکھائی تھی۔ رانا ثنا اللہ بھی اسی طرح کے معاملات میں عمران خان پر تنقید کرنے پر سزا بھگت رہے ہیں۔ کچھ ضدی صحافی اب بھی پرائم منسٹر کے بنی گالہ کی ملکیت میں کچھ مسائل  پر سوال اٹھانے میں ہچکچاتے نہیں ۔ اس معاملے میں ایک تضاد پایا جاتا ہے کیونکہ پی ٹی آئی نے ابھی گزشتہ روز سابق صدر آصف زرداری اور ن لیگ کے سینیٹر چوہدری تنویر کی ذرعی زمین کے بڑے حصے کو بے نامی جائیداد قرار دے کر  قبضہ میں لے لیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے حزب اختلاف کے لوگ ٹارگٹ پر ہیں۔ ایک اور صحافی کو آصف زرداری کا انٹرویو نشر کرنے سے روک دیا گیا جس میں سابق  صدر نے کہا تھا کہ امریکہ اور برطانیہ میں ایک بڑا سکینڈل عمران خان کے خلاف آ رہا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ حکومت ریاستی اداروں اور نیشنل سکیورٹی کے اداروں کو استعمال کر کے اپوزیشن اور میڈیا  پر دباو ڈال رہی  ہے اور کورٹس اور کمشینز پر بھی دباو ڈالنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ نتیجہ کے طور پر یہ قومی ادارےآئینی طور پر حاصل شدہ سیاسی غیر جانبداری کی حیثیت کھو رہے ہیں  جو کہ بہترین کارکردگی اور قابل اعتماد  کاروائی کے لیے لازمی جزو ہے۔  ریاست مخالف نعرے اور  جذبات کا اطہار فاٹا اور بلوچستان میں اکثر سننے کو ملتا ہے جس میں لوگ ریاستی جبر کے خلاف  غم و غصہ کا اظہار کرتے ہیں۔ اب تو ایسے واقعات پنجاب  جو ملک کا دل ہے اور ملک کے 70 فیصد سرکاری ملازمین جہاں سے تعلق رکھتے ہیں وہاں بھی اس طرح کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔ چاہے آپ اس کو کسی بھی زاویے سے دیکھ لیں، ریاست کے اس سٹیل فریم ورک کو پگھلنے دینا کسی بھی صورت میں پاکستان کے استحکام  اور اس کی طوالت کا ضامن قرار دنہیں دیا جا سکتا۔ اس سے بھی بڑی ٹریجڈی یہ ہے کہ سیاسی مخالفین پر جبر کا یہ عالم اور صحافیوں اور سول سرونٹس کے خلاف یہ مخاصمانہ کاروائیاں پی ٹی آئی حکومت کی معاشی اصلاحات کے راستے میں رکاوٹ بن سکتی ہیں ، وہ اصلاحات جو ملک کو واپس ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے ناگزیر ہیں۔

آئی ایم ایف اور انٹرنیشنل ڈونرز کا سہارا لینے  کا قدم جو اگرچہ متنازعہ قدم تھا لیکن ناگزیر تھا کیونکہ ملک کی معاشی حال مسلسل ابتر ہوتی جا رہی تھی۔ ٹیکس ریفارمز  بھی لازمی ہو چکی ہیں۔ اگرچہ ہم اس کی تفاصیل اور ٹائمنگ سے اختلاف کر سکتے ہیں۔ ریفارمز کا مقصد گورنمنٹ اور ریاست کو دیوالیہ ہونے سے بچانا ہے۔ پی ٹی آئی کی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کو بھی خوش آمدید کہا گیا باوجود اس بات کے کہ جب 2018 میں ن لیگ نے ایمنسٹی کا اعلان کیا  جس سے 90000  پرانے اور نئے ٹیکس فائلرز سے  140 ارب روپے جمع ہوئے  کی عمران خان نے سخت مخالفت کی تھی۔

اس پی ٹی آئی ایمنسٹی سکیم سے پچھلے سال کی سکیم کے مقابلے میں آدھی رقم جمع کی جا سکی ہے۔ دونوں سکیموں کو ملا کر دیکھیں تو تقریبا ایک لاکھ لوگوں نے  6 ہزار ٹریلین کی مالیت کے اثاثوں کی ڈیکلیریشن کے ذریعے  قومی خزانہ میں اضافہ کیا۔ بینامی اثاثوں کے بارے میں جو قانون لایا گیا وہ بھی بہت اچھا ہے۔ یہ ایک خطرناک   چیز تھی جس کے ذریعے امیر لوگ منی لانڈرنگ کر رہے تھے۔ یہ البتہ افسوس کی بات ہے کہ اس پراسیس میں روپے کی قیمت بہت گر گئی ہے جس کی وجہ سے بہت عوامی  حلقوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا جن کا تعلق سستی کھانے کی اشیا ء، دوائیوں کی خرید و فروخت اور صنعتی اشیا کی تجارت سے ہے۔ لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ہمیں غیر ملکی امداد اور وسائل پر گزارہ کرنے کی بجائے اپنے ہی ذرائع کا استعمال کر کے اپنے ملک کو پاوں پر کھڑا کیا جائے۔

سچ یہ ہے کہ سیاسی اور معاشی اصلاحات ہمیشہ کچھ طاقتور لوگوں کو قابل قبول نہیں ہوتی کیونکہ اس سے ان کی عیاشیاں اور سہولیات جاتے رہنے کا خدشہ موجود ہوتا ہے۔ اس طرح کے  لوگ اپنے آپ کو پہنچنے والے نقصان کو دیکھتے ہوئے مزاحمتی راستہ اختیار کرتے ہیں اور احتجاج، ہڑتالیں اور لاک آوٹ کے ذریعے مسائل پیدا کرتے ہیں۔ غریب کو خاص طور پر مجبور کر دیا جاتا ہے کہ وہ اپنا سر پانی سے باہر رکھے۔ یقینی طور پر غریب لوگ مشتعل، ناراض اور بپھرے ہوئے ہوتے ہیں۔اس طرح کی صورتحال میں ایک چھوٹی سی چنگاری بھی  بہت بڑی آگ میں بدل سکتی ہے اور حکومت  کو باہر نکلنے پر مجبور کر کے ریفارم پروگرام کا ستیاناس کر سکتی ہے۔

قومی اتفاق رائے ، سیاسی استحکام، میڈیا کا احتساب اور معاشی غیر یقینی کی صورتحال کا خاتمہ ملک کی معاشی ترقی کے لیے بہت لازمی اجزا ہیں   جن کی بدولت ہم بیرونی دباو اور اندرونی  بے انتظامی جیسے مسائل سے نمٹ سکتے ہیں۔ اسی لیے  اپوزیشن کو بچھاڑنے پر سارا زور لگانے، تنقید کرنے والوں کی زبانیں بند کرنے اور ریاستی  اداروں کا نام خراب کرنے کی بجائے  وزیر اعظم کو چاہیے کہ  وہ قومی مفاد میں تمام  پارٹیوں سے صلح صفائی کا ماحول بنائے رکھیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *