شکوہ نہیں کسی سے!

انسانی رشتے بھی عجیب ہوتے ہیں۔ جس میں پیار، نفرت، جھگڑا، روٹھنا، اور نہ جانے کیا کیا شامل ہوتے ہیں۔ دراصل پیار ایک ایسا فطری عمل ہے جس سے انسان اپنی زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے میں الجھ ہی جاتا ہے۔تاہم پیار کے الجھنے میں جس احساس اور درد کا مرحلہ ہوتا ہے اس سے متاثر ہو کر انسان اپنے آپ کو کبھی خوش قسمت اور بد قسمت کہنے لگتا ہے۔پیار کے اس فطری عمل کو ہم جتنا خوبصورت مانتے ہیں وہیں کبھی کبھار ہم اسے برے لفظوں سے کوستے بھی ہیں۔ شاید انسان اپنے مفاد اور نقصان کا غیر شعوری عناصر شعوری موازنہ پیار سے کرنے لگتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم حقیقت سے پرے ہو کر خاندان، سماج، ملک اور مذہب جیسی چیزوں کو پیار سے زیادہ ترجیح دینے لگتے ہیں۔ آخر کار انجام اتنا درد ناک ہوتا ہے کہ ہمیں پیار کے نام سے خوف بھی آنے لگتا ہے۔
بچپن سے ہندوستانی فلموں کو دیکھنے کا شوق رہا ہے۔اگر ایک ہندوستانی یہ کہے کہ اسے ہندوستانی فلمیں پسند نہیں ہے تو بات کچھ مضحکہ خیز لگتی ہے۔ بلکہ ہندوستانی فلمیں تو دنیا بھر میں دیکھی اور پسند کی جاتی ہے اور کئی ممالک کے لوگ تو ہندوستانی زبان نہ سمجھ کر بھی ہندوستانی فلموں کو دیکھنا خوب پسند کرتے ہیں۔ میں نے تو لندن میں بھی انگریزوں کو ہندوستانی فلموں کے متعلق بات کرتے ہوئے پایا ہے۔ صرف بات ہی نہیں وہ تو کبھی کبھی گانا بھی گا تے ہیں۔ زیادہ ترہندوستانی فلمیں پیار و محبت پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہندوستانی لڑکا یا لڑکی اوائل زندگی سے ہی عشق لڑانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ لیکن یہی عشق پروان چڑھتے چڑھتے جب جنون کی حد کو پار کر جاتا ہے تو خاندان، سماج، مذہب اور ملک آڑے آ جاتا ہے۔لازمی سی بات ہے کہ جو چیز پردے پر دِکھتی ہے شاید وہ اصل زندگی میں کبھی کبھی ای خواب بن جاتاہے۔
یوں تو ہندوستانی سنیما میں ہیرو اور ہیروئین کے علاوہ پیار بھرے گیت بھی لوگوں کو خوب لبھاتے ہیں۔ لیکن میں نے اپنی زندگی میں زیادہ تر ایسی فلمیں دیکھی ہیں جن کا انجام المناک ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ان فلموں میں پیار کی کہانی سماجی مسائل پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان فلموں کو پسند کرنے کا ایک سبب یہ ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں عام آدمی کی زندگی کوروز مرّہ کے مسائل سے قریب پایا ہے۔ 1985میں ہم نے ایک فلم ’پار‘ دیکھی تھی۔ اس فلم کو دیکھتے وقت مجھے یہ محسوس ہوا کہ سنیما ہال میں کچھ ہی لوگ موجود تھے اور کچھ لوگ نیند کی آغوش میں تھے۔ ظاہر سی بات ہے کہ فلم حقیقت پر مبنی تھی اور سنیما ہال میں موجود لوگ ایسی روز مرّہ کی باتوں کو شاید پردے پر دیکھنا ناپسند کرتے ہوں۔
پیار کرنا یا پیار کا ہونا ایک فطری بات ہے۔ اللہ نے ہر انسان کے اندر پیار کا جذبہ دے کر پیدا کیا ہے۔ چاہے وہ کسی ملک، نسل، مذہب یا ذات کا کیوں نہ ہو۔ اس کے علاوہ پیار کرنے کے لئے نہ تو کوئی وقت مقرر ہوتا ہے نہ تو کوئی خاص لوگ بنائے جاتے ہیں۔ نہ تو کوئی تقریب یا جگہ کا انعقاد ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ پیار کرنے یا ہونے کے لئے عمر کا بھی قید ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ تاہم خاندان اور روایت کی بنا پر ہم اکثر لحاظ کرتے ہوئے پیار کے فطری عمل سے گریز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
میں نے انسانوں کے علاوہ جانوروں میں بھی پیار کا فطری عمل پایا ہے۔ برطانیہ اور لندن میں انگریزوں کو میں نے جانوروں کے تئیں کافی ہمدرد اور پیار کرنے والا قوم پایا ہے۔ زیادہ تر گھروں میں کتے اور بلیوں کے علاوہ توتے، مختلف اقسام کے پرندے، گھوڑے اور یہاں تک کہ سانپ سے بھی پیارکا اظہار کرنے والے لوگ پائے ہیں۔ تاہم انگریز کتے کوسب سے زیادہ پیار کرتے ہیں۔ کتے کی دیکھ بھال،اعلیٰ رہائش، صحت کا خیال اور اپنے ساتھ چھٹیوں پر لے جانا عام ہے۔گویا کہ کتا ایک جانور نہیں ہے بلکہ وہ اس انسان کے خاندان کا ایک فرد محسوس ہوتا ہے۔تبھی کتے کی بیماری یا پریشانی کو دیکھ کر ایک انگریز آنسو بہانے کے علاوہ اپنی زندگی کو پریشان سمجھنے لگتا ہے۔کتے کی بھی وفاداری اور پیار عجیب ہوتا ہے۔ کیا مجال کے وہ اپنے مالک یا چاہنے والے کی نظر سے نظر نہ ملائے اور اپنی دم کو ہلا کر والہانہ پیار کا اظہار نہ کرے۔جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ ایک انگریز اور کتے میں کتنا گہرا پیار ہوتا ہے۔ تبھی تو کبھی کبھار انسان یا کتے کو جان دینے کی نوبت بھی آ جاتی ہے۔
ہم نے بھی پیار کے جذبہ اور احساسات کو محسوس کیا ہے۔ لیکن ہم نے اس بات کو سمجھ کر پیار نہیں کیا کہ ہمیں اس کے عوض میں وہ چیز حاصل ہو جائے۔ شاید اسی لئے زندگی بھر میں ایک ناکام عاشق ہی رہا۔ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ ہر انسان کسی کام میں اس لئے اتنی محنت کرتا ہے وہ اس چیز کو حاصل کر لے۔ مثلاً اچھی تعلیم، نوکری، دیانت داری، ایمانداری، عبادت وغیرہ ایسی باتیں ہیں جس سے انسان کو زندگی میں سکون سے جینے اور اور آرائش سے لیس تمام سہولتیں مہیا ہو جاتی ہیں۔ لیکن میں بنا کسی غرض کے پیار کرنا یا ہوجانا ایک ایسا فطری عمل مانتا ہوں جس کہ ہونے پر انسان ایک عجیب احسا س سے دوچار ہوتا ہے جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا ہے۔تاہم زیادہ تر لوگ ایسے انسان کو یا تو ’دیو داس‘ کا نام دے دیتے ہیں یا کوئی خامی بتا کر اس کے پیار کا مذاق اڑاتے ہیں۔
زندگی میں کئی تجربات ہوئے ہیں جسے آپ کے ساتھ شئیر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ مثلاً ایک لڑکی سے ملنا اور پیار کے احساس کو محسوس کرنا۔ پھر تھوڑے عرصے کے لئے اس کے ساتھ کچھ وقت گزارنا اور اس لڑکی کی اس بات سے حیران ہوجانا جب اس نے آخری دن یہ کہا کہ ’آئی لَو یو‘ لیکن یہ دوستی والا ہے؟ میں ان باتوں کو سمجھنے سے قاصر رہا اور اپنی نااہلی یا قسمت کو کوسنے لگا۔کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ زندگی اتنی پیچیدہ ہے کہ اس کی باریکیوں کو سمجھنا ناممکن ہے۔اب اگر اس لڑکی کی بات کو ہم تھوڑی دیر کے لئے سوچے تو ذہن الجھ جاتا ہے کہ آخر دوستی والا’آئی لَو یو‘ کیا ہوتا ہے۔ ممکن ہے اُس نے گھبراہٹ میں ایسی بات کہہ دی ہو یا پھر اس نے پیار کا اظہار اپنے منفرد انداز میں کرنا چاہا ہو یا وہ پیار محض دوستی کے لئے کرنا چاہتی ہو۔ گویا کہ ان باتوں کو سوچنے کے بعد انسان الجھ کر پیار کے مفہوم سے نا بلد ہوجاتا ہے۔اسی طرح ایک لڑکی کا پیار کا اظہار کرنا اور پھر کہنا کہ’میری دوستی اور تمہارا پیار‘۔ اب آپ ہی بتائے کہ یہاں بندہ کیا کرے۔ وہی پیچیدہ مسئلہ جو اپنی سمجھ سے دور ہے۔
مغربی ممالک میں پیار اب اس حد تک جا پہنچا ہے جس میں تمیز اور عزت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی ہے۔ تعلیم کا عام ہونا اور معاشرے میں جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی سے پیار اپنا اصلی وقار اور احساس کھو بیٹھا ہے۔جس کی وجہ سے برطانیہ سمیت دنیا بھر کے ممالک میں پیار میں ہر حد کو پار کر جانا ایک عام بات ہو گئی ہے۔تاہم کچھ لوگ اب بھی روایتی طور پر پیار کرنا انسانی فطرت کا ایک انوکھا احساس مانتے ہیں لیکن زیادہ تر لوگ پیار کی آڑ میں اپنی پیاس بجھا نا لازمی سمجھتے ہیں۔
برطانیہ میں پیار کرنا ہر نوجوان کی ایک پہچان ہے۔ اگر کوئی پیار کی باتوں میں ملوث نہ ہو تو اسے مشکوک نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد پیار نے’جپسی تحریک‘ کے بعد حیوانیت کا رخ اپنا لیا ہے۔پیار کی آڑ میں منشیات اور جسمانی رشتو ں کوترجیح دی جانے لگی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خاندان، نسل، سماج اور ملک تمام اس کی لپیٹ میں آکر اپنا وقار اور احساس کھو چکے ہیں۔ زیادہ تر شادیاں کچھ ہی عرصے میں ڈھیر ہو جارہی ہیں۔ برطانیہ میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ بیس برس تک ایک لڑکا اور لڑکی ساتھ رہنے کے بعد شادی کرتے ہیں اور بہت جلد ان کے درمیان بات طلاق تک پہنچ جاتی ہے۔ جس کی ایک وجہ شاید پیار کے احساس یا رشتے کا کوئی معنی نہ ہو۔
پیار کرنا ایک فطری عمل ہے جو زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر ہمیں نصیب ہوتی ہے۔ لیکن پیار کو اپنی ذات، سماج، خاندان، مذہب اور ملک کی خاطر قربان کرنا ایک بے معنی بات ہے۔ پھر بھی پیار کا احساس کہیں نہ کہیں ہمیں ستاتا یا رلاتا رہتا ہے۔ جو شاید پیار کے خوبصورت احساس کی ایک وجہ ہوتی ہے جسے ہم چاہ کر بھی بھلا نہیں پاتے ہیں۔اسی لئے سوچتا ہوں شاید جسے میں پیار مانتا ہوں، وہ آؤٹ ڈیٹیڈ out dated رویہ ہوگیا ہے۔ تو اس میں کسی سے شکوہ کیسا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *