ٹک ٹاک انفلوئنسرز کا تحائف کے لیے بچوں اور نوجوانوں کا ’استحصال‘

ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ بعض بچوں اور نوجوانوں پر ایپ کے ذریعے اپنے پسندیدہ انفلوئنسرز کو پیسے بھیجنے کا دباؤ تھا۔

ٹک ٹاک مداحوں کو اپنی پسندیدہ ویڈیو بنانے والوں کو ’ڈیجیٹل گفٹ‘ بھیجنے کی سہولت فراہم کرتا ہے جس میں تقریباً 49 پاؤنڈ کے اخراجات آ سکتے ہیں۔

بی بی سی کی تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ انفلوئنسرز تحفے کے بدلے میں مداحوں سے اپنا فون نمبر شیئر کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔

ٹک ٹاک نے کہا ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں اور رہنما اصولوں کو مضبوط کرے گا لیکن اس نے یہ واضح نہیں کیا کہ آخر وہ کس طرح ایسا کر سکتا ہے۔

کلیئر (اصل نام نہیں) نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ انھیں اس بات کا افسوس ہے کہ انھیں اپنے پسندیدہ ٹک ٹاک سٹار کا فون نمبر حاصل کرنے کے لیے 100 پاؤنڈ خرچ کرنے پڑے اور اس نے کبھی بھی ان کے فون کا جواب نہیں دیا۔

کلیئر 12 سال کی ہیں اور وہ شمال مغربی انگلینڈ میں رہتی ہیں۔ انھوں نے ٹک ٹاک سٹار سیبسٹیئن موے کو 48.99 پاؤنڈ کا ’ڈرامہ کوئن‘ تحفہ ارسال کیا تاکہ ان کی ویڈیو کے لیے اپنی پسندیدگی کا اظہار کر سکیں۔

سیبسٹیئن موے

ٹک ٹاک پر سیبسٹیئن موے کے 38 لاکھ فالوورز ہیں

اور جب انھوں نے اپنے فون نمبر دینے کے بدلے مزید تحفے کی بات کہی تو وہ اس لمحے سوچ میں پڑ گئیں۔

امریکہ میں مقیم ٹک ٹاک ویڈیو بنانے والے موے کے 38 لاکھ مداح ہیں اور انھوں نے ایپ کے کسی ضابطے کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔

انھوں نے بی بی سی کی جانب سے کی جانے والی گزارشوں کا جواب نہیں دیا۔

تیزرفتار ترقی

ٹک ٹاک سب سے زیادہ تیزی سے ترقی کرنے والی سوشل میڈیا ایپ ہے اور اس کے 50 کروڑ مستقل صارف ہیں لیکن کمپنی اپنے صارفین کی تعداد نہیں بتاتی ہے۔ تاہم اندازہ لگایا جاتا ہے کہ ایپ سٹورس پر اسے ایک ارب سے زیادہ بار ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے۔

اس ایپ کے تحت صارف 15 سیکنڈ تک کے ویڈیو ڈال سکتے ہیں۔ یہ تازہ ترین ٹرینڈ کرنے والے گیتوں پر نوجوانوں کو گانے (لپ سنکنگ) اور رقص کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ 16 سے 24 سال تک کے نوجوانوں میں بے حد مقبول ہے لیکن اس بات کے بھی شواہد ہیں کہ ان کے صارفین میں 13 سال سے کم عمر کے بچے بھی ہیں جو کہ ایپ کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔

ڈرامہ کوئن

ٹک ٹاک کا ’ڈرامہ کوئن‘ نامی ڈیجیٹل تحفہ ایسا دکھائی دیتا ہے

اس کمپنی کو ایک امریکی ضابطہ کار پہلے ہی 13 سال سے کم عمر کے بچوں کی تفصیلات ان کے والدین کی اجازت کے بغیر حاصل کرنے کے لیے 57 لاکھ امریکی ڈالر کا جرمانہ کر چکا ہے۔ اور منگل کو برطانیہ کی انفارمیشن کمیشنر نے کہا ہے کہ انھوں نے بھی اس بات کی جانچ کا حکم دیا ہے کہ آيا کمپنی اپنے سب سے کم عمر صارفوں کی حفاظت کے لیے مناسب اقدام کر رہی ہے یا نہیں۔

انفارمیشن کمیشنر الیزیبیتھ ڈینھم نے کہا: ’یقینا ابھی ہم ٹک ٹاک کے متعلق جانچ کر رہے ہیں تاکہ آپ اسے دیکھ سکیں۔‘

جن ویڈیو میکرز کے ایک ہزار سے زیادہ فالوورز ہوتے ہیں وہ ٹک ٹاک کے پلیٹ فارم پر براہ راست نشریات بھی کر سکتے ہیں۔ براہ راست نشریات کے دوران مداح اپنی پسندیدگی کے اظہار کے لیے انھیں ڈیجیٹل تحفے بھیج سکتے ہیں۔

یہ تحفے سکرین پر اینیمیشن کے طور پر ظاہر ہوتے ہیں اور ان کی قیمت پانچ پینس سے لے کر 48.99 پاؤنڈ نتک ہو سکتی ہے۔ اس ایپ کے بڑے سٹار ایک ہی براہ راست نشریے میں ہزاروں پاؤنڈ کما سکتے ہیں۔

ٹک ٹاک نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ ان میں سے کتنے پیسے وہ اپنے پاس رکھتے ہیں لیکن بہت سے انفلوئنسرز نے بتایا کہ انھیں تحفے سے حاصل پیسوں کا 50 فیصد ملتا ہے۔

ٹک ٹاک

انعام کا وعدہ

دس ہفتوں تک بی بی سی نے درجنوں براہ راست نشریات کی نگرانی کی جن میں ایپ کے سٹارز نے مداحوں سے تحفے کی بات کہی۔

اس کے بدلے میں انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ اس کے بدلے میں انھیں سوشل میڈیا پر فالو کریں گے یا پھر ان کے ساتھ مل کر گانا بنائيں گے جس کے تحت ٹک ٹاک کے سپلٹ سکرین پر سٹار کے ساتھ اس کے مداح کا ویڈیو بھی شامل ہو سکتا ہے۔

ایک سٹار نے تو اپنے فین سے ’ایک ہفتے تک‘ انسٹا گرام پر بات کرنے کا وعدہ کیا اور اسے مجموعی طور پر 147 پاؤنڈ کے تین تحفے ملے۔

بعض ویڈیو بنانے والے مستقل طور پر تحائف کے بدلے میں اپنا فون نمبر اور میسیج کرنے کی تفصیلات شیئر کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔

بی بی سی نے اپنی تحقیق کے دوران یہ بھی دریافت کیا کہ ایک گروپ جو ایپ پر لوگوں سے تحفے دینے کی شفارش کرتا ہے، بعد میں ان سے براہ راست رابطہ کرکے 'لائیک' اور 'فالو' کرنے کے بدلے میں بھی پیسے مانگتا ہے۔

ٹک ٹاک

استحصال

ٹورنٹو کی سٹیفینی باربر کو پتہ چلا کہ ان کی 11 سالہ بیٹی نے 400 ڈالر کا بل بنا دیا ہے۔

انھوں نے بتایا: ’جب مجھے پتہ چلا کہ کس چیز پر پیسہ خرچ ہوا ہے تو مجھے گہرا صدمہ پہنچا۔‘

'میں نے اپنی بیٹی سے پوچھا کہ اس کے بدلے تمہیں کچھ نہیں ملا تو اس نے کہا کہ نہیں کچھ نہیں ملا۔‘

’بالغوں کو اچھی طرح پتہ ہونا چاہیے یہاں تک کہ دوسرے نوجوانوں کو بھی پتہ ہونا چاہیے کہ آپ بچوں سے پیسے نہیں مانگ سکتے۔'

ٹک ٹاک کی ایک دوسری مداح کیلی نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے ڈیجیٹل تحفے پر اپنے پانچ سو سے چھ سو ڈالر خرچ کر دیے۔ اب وہ تحفے نہیں بھیجتیں کیونکہ انھیں یہ لگتا ہے کہ ان کا استحصال کیا گیا ہے۔

کیلی نے کہا: ’مجھے احساس ہے کہ لوگ ان دنوں سوشل میڈیا سے پیسہ کمانا چاہتے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ اسے نوجوانوں کے حلق سے زبردستی نیچے اتارا جا رہا ہے کہ آپ کو توجہ حاصل کرنے یا قدردانی کے لیے پیسہ دینا ہوگا۔‘

20 سالہ رھیز کا کہنا ہے کہ انھیں پتہ بھی نہیں چلا کہ ان کے ایک ہزار پاؤنڈ سے زیادہ کیسے خرچ ہو گئے۔

انھوں نے کہا ’ٹک ٹاک پر تحفے دینا ایک طرح سے جوا کھیلنے جیسا ہے۔ اس کی لت پڑ جاتی ہے۔ اس وقت مجھے اس میں کوئی خامی نظر نہیں آتی تھی لیکن اب احساس ہوتا ہے کہ وہ اس قابل نہیں تھا۔‘

'مجھے اس کے بدلے میں دکھانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ میری اپنی پسند تھی لیکن میرے خیال میں کسی قسم کی عمر کی پابندی یا ٹائم آؤٹ فنکشن ہونا چاہیے۔‘

بی بی سی نے بہت سے ٹک ٹاک سٹار سے رابطہ کرنے کی کوشش کی جنھیں پیسہ کمانے کی اس تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا لیکن ان میں سے زیادہ تر نے جواب نہیں دیا۔

نیفاٹی برادران

نیفاٹی برادران کے ٹک ٹاک پر 25 لاکھ فالوورز ہیں

احساس جرم

نیفاٹی برادران نے اس پلیٹ فارم پر محض چھ مہینوں میں 25 لاکھ فالوورز بنائے ہیں۔

لنکا شائر کے علاقے بلیکبرن میں مقیم پولینڈ نژاد 25 سالہ جڑواں بھائی اپنے رقص اور کامیڈی سکیچز کے لیے معروف ہیں۔

49 پاؤنڈ قیمت کے ’ڈرامہ کوئن‘ تحفے کے بدلے وہ اپنے مداح کو فالو کرنے کا وعدہ کرتے ہیں اور اگر ان کے مداح انھیں زیادہ تحفے بھیجیں تو ان کے نام وہ اپنے سر پر لکھنے کا وعدہ کرتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ حال ہی میں انھوں نے تحفے کے بدلے میں مراعات بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا ہے کیونکہ ان کے مطابق انھیں تحفے باقاعدہ طور پر ملتے رہتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ اس پلیٹ فارم پر دوسرے اہم ویڈیو بنانے والوں کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور یہ کہ ان کو تحفے بھیجنے والے زیادہ تر افراد تقریباً 30 سال تک کی عمر کے ہیں۔

تاہم انھوں نے کہا کہ جب کوئی کم عمر مداح انھیں تحفے بھیجتا ہے تو انھیں احساس جرم ضرور ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا: ’جب ہمیں تحفہ دینے والا کوئی نو عمر ہوتا ہے تو ہمیں اچھا نہیں لگتا، ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ آیا ان کے والدین کو اس کے بارے میں علم ہے۔‘

’لیکن ہم انھیں روک نہیں سکتے۔ نہ ہم اس چیز کو روک سکتے ہیں۔ ہم لوگ براہ راست نشریات صرف پیسوں کے لیے نہیں کرتے بلکہ ایسا ہم زیادہ سے زیادہ ناظرین تک پہنچنے کے لیے کرتے ہیں۔‘

جنوبی ویلز کی رھیا کے 25 لاکھ فالوورز ہیں اور یہ ان کی ویڈیو کو ایڈٹ کرنے کی زبردست صلاحیت کا نتیجہ ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ان کے اوسطاً مداح 10 سے 14 سال کے ہیں اور وہ ہمیشہ تحفے کے بدلے میں ’پرکس‘ یعنی مراعات حاصل کرکے خوش ہوتے ہیں۔

لیکن وہ اس وقت اچھا محسوس نہیں کرتیں جب کوئی کم عمر فالوور انھیں کئی تحفے بھیجتا ہے۔

اس لیے وہ تحفے بھیجنے پر عمر کی سخت پابندی کی حامی ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’چیز تخلیق کرنے والے کی حیثیت سے اس سے ہمیں ذہنی سکون حاصل ہوگا۔‘

’اس سے آپ کو احساس ہو گا کہ آپ نے برا نہیں کیا کیونکہ حقیقت میں بچوں سے پیسے لینا روزی روٹی کمانے کا اچھا طریقہ نہیں ہے۔‘

رھیا

رھیا ٹک ٹاک پر تخلیقی ویڈیوز شیئر کرتی ہیں

گمراہ کن

لائیو سٹریمنگ کے دوران تحفے کا رواج پہلے پہل چین میں شروع ہوا جہاں یہ عمل بہت زیادہ مقبول ہے۔ پیشہ ور ’کیم گرلز‘ اپنے ناظرین سے بہت پیسے کماتی ہیں۔'

مغرب میں ’ٹوئچ‘ جیسے گیمنگ پلیٹ فارم پر ٹپ دینا بہت عام ہے۔

لیکن ٹک ٹاک کی تیزرفتار ترقی تجارت کے نئے ماڈل کو پہلے سے کہیں زیادہ چیلنج کر رہی ہے۔

ٹک ٹاک کی مالک چینی کمپنی ’بائٹ ڈانس‘ نے بی بی سی کے کچھ مخصوص سوالوں کا جواب دینے سے انکار کیا لیکن یہ ضرور کہا کہ وہ ڈیجیٹل طور پر تحفے دینے کے بارے میں تحقیقات کر رہی ہے۔

ایک بیان میں کمپنی نے کہا: ’ہم لوگ ایسے برتاؤ کو برداشت نہیں کرتے جو اپنی فطرت میں گمراہ کن ہو اور ہمیں بعض صارفین کے تجربات پر افسوس ہے۔‘

’ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ رہنما اصولوں اور معلومات تک زیادہ رسائی میں بہتری لانے کی گنجائش ہمیشہ ہوتی ہے جو کہ صارف کے سمجھنے کے لیے واضح اور صاف ہو۔‘

'ہم آپ کے ردعمل کی قدر کرتے ہیں اور ہم اپنی پالیسی اور مصنوعات کی خصوصیات میں مزید بہتری لائیں گے۔'

بہر حال کمپنی نے یہ تفصیل نہیں دی کہ وہ کن پالیسیوں اور ہدایات میں تبدیلی لائے گی۔

’انفلوئنسر مارکیٹنگ فیکٹری‘ کے الیزاندرو بوگلیاری نے کہا کہ ٹک ٹاک پر تبدیلیاں لانے کے لیے وسیع پیمانے پر دباؤ ہے۔

انھوں نے کہا: ’اس قسم کی باتیں کسی ایسے سوشل نیٹ ورک کے لیے اچھی نہیں ہیں جو کہ برانڈز اور مارکیٹ میں مقبول ہو رہا ہو۔‘

’اس ایپ میں بڑی صلاحیت موجود ہے لیکن اس میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’میرے خیال میں والدین کے کنٹرول والے زیادہ فیچرز کی موجودگی ایک اچھا خیال ہے اور لائیو سٹریمنگ یا ایک دن میں تحفے دینے کی قیمت پر ایک حد قائم ہونی چاہیے۔

’وہ اپنی گائیڈ لائنز کو مزید شفاف بنا سکتے ہیں اور بعض شرائط پر پابندی لگا سکتے ہیں جو صارفین میں زیادہ مقبول ہیں۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *