یادوں کے ستم

" غلام علی اخضر "

گزرے ہوئے دن میں کیا ہواتھا؛اسے میں نے بالکل بھلادیاتھا کہ پھر آج ایک دوست کے سوال نے مجھے رلادیا۔”آپ نے لکھنا کیسے سیکھا؟“میں نے جواب دیا:ابھی سیکھانہیں ہے، سیکھ رہا ہوں.....ہاں! میں نے خود حالات سے لکھنا سیکھاہے.....زیادہ تر زندگی کا حصہ میں نے ماما کے پاس گزارا۔۔کیوں کہ وہ مجھے پچپن سے ہی بہت چاہتے تھے اور مجھے بھی ان سے بہت لگاؤتھا۔ شاید میری عمر 6سال کی ہوگی تب سے میں ماما کے پاس ہی رہتا تھا۔گھر کبھی دو سال تین میں ایک دو روز کے لیے یازیادہ سے زیادہ پانچ روز کے لیے آجایا کرتا تھا......جب میں عمرکے 17برس کو پہنچا.........ممی کی طبیعت خراب ہوگئی اور یہ طبیعت کاخراب ہو نا،ان کا ہم سب سے جدائیگی کا سبب بن گیا......... گھر میں چھوٹا ہونے کی وجہ سے بھائی کی محبت۔ بہنوں کی مستی بھری شرارت،زبر دستی بٹھا کے بالوں کو دیکھنا۔جب کہتا کہ میرے سر میں جوں نہیں ہے.... تو کہتی اچھا سر دکھاؤ؛ابھی دکھاتی ہوں ……. وہ اپنے سر سے نکال کر خود میرے سر پر رکھ کر پھر ہاتھوں میں دے کر کہتی دیکھو چھوٹے میاں!بڑی صفائی دے رہے تھے......میں ہار جاتا،مگر ان دنون کی ہار میں مجھے معلوم نہیں تھا کہ بہنوں کے لیے بے پناہ مسرت و شادمانی چھپی ہے.....جب عقل مند ہوا اوربہنیں دور ہوگئیں،تب جانا کی بہنوں کی محبت میں کیا جادو ہے،ان کی شوخی میں کیسی محبت چھپی ہوتی تھی۔اے کاش! وہ دن پھر لوٹ آتے....پھر بہن پکڑکے اپنے بانہوں میں دباکر، زبردستی بٹھاتی اور میرے منھ سے:ہوں....ہوں....ہوں! کی آواز نکلتی رہتی۔ اوربہنوں کے موتی کے مانند چمکنے والے دات پردئے خفاسے عریاں ہوجاتے......میں اٹھ کے بھاگتا۔وہ دوڑکے پکڑتی......یوں ہی زندگی گزرتی....ایسی داستاں بنتی......اے کاش کہ ایسی زندگی ہوتی۔
ممی نے جس دن اس دار فانی کو الوداع کہا،اس دن میرے سر پر ہی سب کی ذے داری آگئی، کیوں کہ بڑے بھائی گھر پر نہیں تھے.....ابو جان ممی کی جدائی کے صدمے سے ناگفتہ بہ حالات میں مبتلا تھے.....بڑی بہن کا رو رو کر بے حال ہونا،اس سے چھوٹی بہن کا بار بار غش کھا کر بے ہوش ہونا پھر بار بار ان کے چہرے پر پانی مار کر ہوش میں لانا میرے لیے ایک عجیب لمحہ تھا.....کبھی بڑی بہن کو گردن پر سہارا دے کر ان کے بکھرے بالوں کو سنبھالتے ہوئے؛ان کو سمجھاتا،تو کبھی دوڑکر دوسری بہن کے ہاتھوں کو تھام کر چہرے پر بکھرے بالوں کو سنبھالتے ہوئے ان کے آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو روکنے کی کوشش کرنا.......نانی کابار بارشکوہ کلام کرنا”اے خدا!میں بوڑھی ہوچکی ہوں،تومجھے اٹھالیتا“....چھوٹی خالہ کی حالت بے قابوہوجانا،رونے کی آواز اور سینے پر ہاتھ مارنے کی وجہ سے بار بار چوڑیوں کے ٹوٹنے کی آواز کانوں میں آکر دل کے ہرہر وادی کو غم والم کی زخم سے لہولہوکردینا....آہ یہ قیامت سوزلمحہ...مگر کسے معلوم تھا کہ تھوڑی تھوڑی بات پر رودینے والالڑکا آج ایک سنگ دل نکلے گا.......شاید اس دن بہنوں کی شرارت بھری محبت کا قرض ادا کرنے کے لیے رب نے ٹوٹے دل کے پیر کو پھسلنے نہ دیا.....مگر میرے اندرکا حال..... میں ہی جانتا تھا.......
بالٹی میں پانی بھررہا تھا کہ چچا نے آوازدی۔گلفام!.....کفن کہاں ہے۔ جلدلاؤ! اب کیا تھا کہ میرے پاؤں میں ایک عجیب سی تھرتھراہٹ کی کیفیت پیدا ہوگئی..... اور لب ہلتے ہوے.....کیا اب امی جدا ہوجائیں گی؟.....کیا وہ اب کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گی؟....نہیں،نہیں! امی ہم سے جدا نہیں ہوں گی،ابھی تو چھوٹی بہن کے ہاتھوں میں مہندی لگتے انھیں دیکھنا ہے.....ابھی تو انھیں اپنی پیاری دلاری بیٹی کو آسمانی، زعفرانی،گلابی،رنگ برنگ چوریوں کی کھنک،پایلوں کی جھنکاراور لال موتی سے بنی بنارسی ساڑی میں گھر سے دلہن بناکر وداعی کرنا ہے...... نہیں،نہیں، ممی کہیں نہیں جائیں گی.........اتنے میں پھر،گلفام! کفن کہاں ہے....آنکھوں سے آنسوؤں کو پوچھ کر کفن ہاتھوں میں لاکر،ہاں!چچا لایا.....ماں بہن کو کو کیا دلہن بناتی آج خود سفیدکفن میں دلہن بن کر ایک بڑی جماعت کے کانڈھوں پر خاموش اب لوٹ کے گھر نہ آنے کی تیاری میں تھی.....وہ ماں جو خود بھوکے رہ کر بچوں کو کھلاتی پلاتی رہی،جو ذراسی بھی بچوں کے رونے پر بے چین ہوجاتی تھی.....آج نہ جانے وہ اس آہ وفغاں کے ماحول میں،جس میں سنگ سے سنگ دل تڑپ اٹھے بالکل کیسے خاموش تھی......
جب آنگن سے دلیچہ اٹھنے لگا......آہ!بہنوں کو سنبھالنا مشکل ہوگیا.....وہ دوڑ دوڑ کے بھیڑ میں آجاتیں اور کہتیں....امی کہیں نہیں جائیں گی،کہاں امی کو آپ لوگ لے کے جارہے ہیں.....تبھی دوڑی چچیاں آئیں اور بہنوں کو سنبھالا۔
جنازہ پڑھنے کے وقت والد سے اجازت نہ لے کرمجھ سے لی گئی.....قبر میں اتارتے وقت بھی مجھ سے ہی اجازت لی گئی..... مٹی مکمل ہونے کے بعد قرآن کی تلاوت اور دعائے مغفرت ہوئی......سب گھر لوٹے.....میں امی کے قبرکے قریب ادب سے جاکر کھڑا ہوا ور کہا:
آپ تو بہت ساری داستانیں سنانے والی تھیں،مگر آپ ہار گئیں.....ہم تو سننے کے لیے بے قرار ہیں.......آپ ہی سوگئی داستاں کہتے کہتے......اس کے بعد گھر واپس آیا........
ممی کے انتقال کے ۲/مہینے بعد چھوٹی بہن کی بھی شادی ہوگئی،اب گھر سونا،سونا ہوگیا......ابو جان ہر وقت کھوئے کھوئے سے، آنکھوں میں ٹوٹے خوابوں کے آنسوں لیے مایوس بیٹھے رہتے۔ میں ان کو سمجھاتا کہ بس ممی کو اتنی ہی زندگی ملی تھی.... اس میں ان کا کیا قصور ہے اور پھر ایک روز تو سبھی کو یہ دنیا چھوڑ دینا ہے.......اب سبھی کے درد کی دوا میں ہی تھا....اور میرے لیے کوئی گھر میں ایسا نہیں تھا جن کو میں اپنا درد سنا تاکہ اندر کا بوجھ کچھ ہلکا ہوتا۔ہر بار اپنے درد کے گلے کو گھونٹ کر بہنوں کی اور باباجان کے درد کا سہارا بنتا...... اب میرے لیے قلم ہی رہ گیا تھاجس کے سہارے میں اپنے دل کو مناتا؛ان حالات نے ہی ہمیں قلم پکڑنے کو سکھایا.........اے کاش!ساری حدیں توڑ کے تو لوٹ آتی، تیری آنچل کی پھرٹھنڈی ہواہوتی اور میں چین کی نیندسوتا۔ماں تیری یادیں تیری باتیں بہت ستاتی ہیں۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *