مجرم ثابت ہونے سے قبل ہر کوئی معصوم ہوتا ہے

پاکستان میں بہت قابل رائٹرز موجود ہیں ۔ اس قابلیت کی حد اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اب یہاں لاء انفورسمنٹ ایجنسیوں میں بھی  تخلیقی تحریریں لکھنے کی قابلیت رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔  ن لیگی رہنما رانا ثناءاللہ کی گرفتاری کے بعد جو فرسٹ انفارمیشن رپورٹ تیار کی گئی  میرا اشارہ اس کی طرف ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ رپورٹ لکھنے  والے نے ، جاسوسی ، تھرل اور فکشن کی بہت سی  کی کتابوں کی ایک بڑی ورائٹی پڑھ رکھی ہو گی۔ ملٹری کے تحت قائم  ادارے اے این ایف کی طرف سے رجسٹر کی گئی ایف آئی آر میں لکھا ہے کہ کیسے رانا ثنا اللہ کی کار کو روکا گیا  جب وہ فیصل آباد سے لاہور جا رہے تھے ۔  خبر ملی تھی کہ وہ اپنی گاڑی میں منشیات کی بھاری مقدار لے کر جا  رہے تھے۔روکے جانے کے بعد  جب  رانا ثنا اللہ کو ان کے پاس موجود منشیات کے بارے میں  پوچھا گیا تو انہوں نے پچھلی سیٹ پر موجودد ایک بیگ کی طرف اشارہ کیا  اور پھر خود ہی وہ بیگ اٹھا کر اس کی ذپ  کھولی ، ایک پلاسٹک شیٹ کو پھاڑا اور  اس بند پیکٹ کی طرف  اشارہ کیا جس میں ہیروئن رکھی تھی۔ اے این ایف کے مطابق جو معلومات ملی تھیں ان کے مطابق بھی رانا ثنا اللہ ہیروئن کی سمگلنگ کر رہے تھے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی  کچھ کالعدم تنظیموں کو مالی مدد کے لیے خرچ کی جاتی تھی۔ ا ے این ایف کے الزامات کا یہ سب سے چالاک نکتہ تھا۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے ن لیگی لیڈر سپاہ صحابہ جیسے گروپوں سے تعلقات کی وجہ سے ایک خاص پہچان رکھتے ہیں  (اس کا وہ خود اقرار کر چکے ہیں ) ۔ اسی طرح وہ پی ٹی آئی  پر سخت اور ناقابل برداشت تنقید کی وجہ سےبھی ایک خاص پہچان رکھتےہیں۔

کچھ خاص گروپوں کا نام  اس ایف آئی آر میں ڈالنے کا مطلب سمجھنا کچھ زیادہ مشکل نہیں تھا۔ سیاسی پارٹیاں ہمیشہ اپنے لیڈر کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں  چاہے ان پر کوئی بھی الزام کیوں نہ لگ جائے۔ لیکن غیر سیاسی لبرل طبقہ  جب کسی رہنما کے لیے آواز اٹھائے تو اس کی گونج بیرون ملک بھی سنائی دیتی ہے۔

ن لیگی رہنما اس سے قبل پی پی کے رہنما بلاول بھٹو زرداری کے بارے میں بھی قابل مذمت بیانات دے چکے ہیں لیکن اب بلاول نے رانا ثنا اللہ کا دفاع کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کو سیاسی انتقام قرار دیا۔ ن لیگی قیادت نے بھی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فاشسٹ قرار دے دیا۔ایسا لگتا ہے کہ ایف آئی آر کے ذریعے دو مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پہلی یہ  کہ انہیں ایسے کیس میں پھنسانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اگر انہیں سزا ملے تو یا انہیں پھانسی کی سزا ملے یا کم از کم عمر قید کی سزا سنائی جائے اور دوسرا یہ کہ لبرل اور بائیں بازو کے لوگ ان کی گرفتاری پر واویلا نہ کر سکیں۔

اے این ایف واحد ایسی ایجنسی نہیں ہے  جسے  ملزم کی اپنے عہدیداران کی موجودگی میں  برآمد ہونے والے غیر قانونی مواد کے ساتھ فوٹو گرافنگ اور ویڈیو ٹیپنگ کا شوق ہو ۔ البتہ اس کیس میں تو اے این ایف کے پاس ہر وجہ موجود تھی کہ وہ پورے چھاپے اور مال کی برآمدگی کی ریکارڈنگ کرتے   تا کہ وہ یہ ثابت کر سکیں کہ وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں  ۔ کسی بھی سیاسی لیڈر کی گاڑی سے منشیات کی اس قدر بڑی مقدار برآمد ہونا کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں تھا۔ واقعہ کے تیسرے دن  نارکوٹکس کنٹرول منسٹر  اے این ایف کے سربراہ میجر جنرل عارف ملک کے ساتھ میڈیا کانفرنس کے لیے آئے لیکن انہوں نے  واقعہ کے بارے میں   کوئی اضافی معلومات نہ دیں اور صرف یہی بتایا کہ گرفتاری کئی ہفتے نگرانی کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔

اگرچہ وزیر چاہتے تھے کہ ن لیگی لیڈر کی گرفتاری   کی مزید تفصیلات دینے سے گریز کریں  اسلیے ان کا کہنا تھا کہ سازش کرنے والے ن لیگی رہنماوں کے ساتھی  بھاگ سکتے تھے، گواہوں کی زندگیوں کو خطرہ ہو سکتا تھا۔ اے این ایف کے سربراہ نے بتیاا کہ را نا ثنا اللہ کا ریمانڈ اتنا نرم اور معمولی نہیں ہے اور یہ ان تمام ثبوتوں کو پیش کر کے لیا گیا ہے جو اس وقت ہمارے پاس موجود تھے۔

حیرت کی بات ہے کہ جس چیز کے بارے میں پہلے کہا گیا تھا کہ وہ ایک سوٹ کیس تھا جس میں ہیروئن رکھی گئی تھی وہاں میڈیا کے سامنے بریف کیس   بنا دیا گیا۔ جب ایک صحافی نے پوچھا کہ چھاپے کی اس کاروائی کی ریکارڈنگ کیوں نہ کی گئی تو میجر جنرل عارف ملک نے بتایا کہ وہ ایک جنگی صورتحال تھی اس لیے نہ کی جا سکی ۔ مزید وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک لائیو چھاپے کے دوران  جب رانا ثنا اللہ اور ان کے مسلح    گارڈز کے ساتھ مقابلہ کرتے وقت ہمارے نوجوانوں نے (جو غالبا مسلح ہی تھے) جو طریقہ اپنایا اس کی داد دینی چاہیے اور یہ ایک فلم  کی شوٹنگ نہیں چل رہی تھی جب آس پاس ہزاروں لوگ کھڑے تماشا دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے کہا: ہم وہاں ری ٹیک کی آپشن  استعمال نہیں کر سکتے تھے کہ بریف کیس ہاتھ میں رکھ کر اس کی دوبارہ فلم بنائیں۔

موٹر وے پر واقعہ کے وقت تماشا دیکھنے والے ہزاروں لوگ موجود تھے لیکن کسی ایک کو بھی گواہ نہیں بنا کر پیش کیا گیا۔ لیکن اس بات کو بھی چھوڑیے۔ ہم نے اردو محاورہ سنا ہوا ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس جس کا مطلب ہے جس کے پاس گن ہو گی مرضی اسی کی چلے گی۔ یہ بھی حیرت کی بات ہے کہ ثنا اللہ خود ایک وکیل ہیں  جنہوں نے صحافیوں کو پچھلے کئی ہفتے سے بتا رکھا تھا کہ انہیں بہت جلد گرفتار کر لیا جائے گا یا ان پر حملہ ہو گا  اور پھر بھی وہ اپنی گاڑی میں اتنی بڑی تعداد میں ایک ایسی چیز رکھ لیں جس کی سزا موت ہے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ بلکل ممکن نہیں لگتا کہ وہ ایسا کوئی اقدام کر سکتے ہیں۔

کئی ہفتے سے رانا ثنا اللہ جس طرح پی ٹی آئی حکومت اور ریاستی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے وہ ان پارٹی لیڈرز مین شامل ہو چکے تھے جو نواز شریف  اور مریم نواز کے بیانیہ کو پروموٹ کرتے نظر آتے ہیں اور جارحانہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔ وہ شہباز شریف کے مصالحانہ اور نرم مزاج کا پرچار نہیں کرتے۔

یہ سب کچھ فیصلہ سنانے کے لیے نہیں ہے۔ اس کا مقصد ایک سیاست دان کی گرفتاری  پر نظر ڈالنا ہے جو مشرف دور میں ریاستی جبر کا شکار ہوا ہے اور اپنے خاص بیانیے کی وجہ سے آج بھی طاقتور حلقوں کو قبول نہیں ہے۔ میں مانتا ہوں کہ میں تخلیقی تحریر کے سلسلے میں کمزور ہوں  اور اس طرح تمام سوالات کی تفصیل بیان نہیں کر سکتا جس طرح کوئی اچھا   اور ماہر رائٹر بیان کر سکے۔ شاید اے این ایف کے بارے میں لکھنے والا کوئی ماہر رائٹر یہ کام زیادہ بہتر طریقے سے کر پائے گا۔ لیکن مجھے کوشش کے نمبر ضرور دیجیے گا۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *