مکان نمبر 6

رات کے وقت اچانک فائرنگ کی تیز آواز سے آنکھ کھل گئی۔ باہر آیا تو گلی میں بہت سے لوگ موجود تھے۔ سب نے فائرنگ کی آواز سنی تھی لیکن سمجھ نہیں آرہی تھی کہ فائرنگ ہوئی کس طرف ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ مکان نمبر6 میں فائرنگ ہوئی ہے۔ عموماً محلے والوں کو کچھ نہ سمجھ آرہا ہو تو مدعا مکان نمبر6 پر ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ پورے محلے کا واحد مکان ہے جو انتہائی پراسرار ہے۔ یہاں کے مکین بہت کم باہر نکلتے ہیں۔ کسی ہمسائے سے سلام دعا نہیں رکھتے۔ یہاں ایک پچاس سالہ مرد اور چالیس پینتالیس سالہ خاتون رہتی ہیں جو یقیناً ان کی اہلیہ ہیں۔ محلے والوں کی پرتجسس نگاہیں ہر وقت اسی گھر پر ٹکی رہتی ہیں۔ سب جاننا چاہتے ہیں کہ یہ کون ہیں، کیا کرتے ہیں اور محلے والوں سے کیوں نہیں ملتے۔ یہ اگر کرائے دار ہوتے تو شاید کچھ معلومات مل جاتیں لیکن مصیبت ہے کہ گھر بھی ان کا اپنا ہے۔ اِن کے گھر کوئی ملازم نہیں، کوئی ماسی نہیں۔ ایک پرانے ماڈل کی گاڑی ہے جس میں اکثر یہ دونوں سوار ہوکر نکلتے ہیں اور پھر کچھ دیر بعد واپس آجاتے ہیں۔ دوسری دلچسپ بات یہ ہے کہ مکان نمبر 6کے مکین کبھی دروازہ نہیں کھولتے۔ یہاں رہنے والے مرد سے میری کئی دفعہ ملاقات ہوتی ہے لیکن جونہی میں سلام کرتا ہوں، وہ سر کے اشارے سے جواب دیتا ہے اور اس سے پہلے کہ کوئی اور بات کروں، وہ تیزی سے آگے بڑھ جاتا ہے۔ کبھی کبھار اسٹور پر اُس سے سامنا ہو جاتا ہے۔ وہ گھریلو استعمال کی چیزیں خریدتا ہے اور خاموشی سے واپس چلا جاتا ہے۔ میں اس سے پوچھنا چاہتا تھا کہ وہ اتنا مردم بیزار کیوں ہے لیکن اس کی طرف سے لگ بھگ ناگواری جیسے تاثرات کے بعد کبھی ہمت نہ پڑی…اور اسی دوران یہ فائرنگ والا واقعہ پیش آگیا۔ میں نے کچھ محلے داروں سے پوچھا کہ آپ کو کیوں لگتا ہے کہ فائرنگ مکان نمبر6 میں ہوئی ہے؟ جواب ملا کہ وہیں سے فائرنگ کی تیز آواز آئی ہے۔ ایک محلے دار نے مشورہ دیا کہ پولیس کو فون کر دیتے ہیں وہ خود ہی پتا چلالے گی۔ صائب مشورہ تھا لہٰذا ون فائیو پر کال کی گئی۔ تھوڑی دیر میں پولیس آگئی۔ اُنہیں صورتحال بتائی گئی تو وہ پوچھنے لگے کہ آپ کے خیال میں کہاں سے فائرنگ ہوئی ہوگی؟ یہ ایک ایسا سوال تھا جس نے سب کے لبوں پر تالے لگا دیے۔ وہ جو بڑے یقین سے مکان نمبر6 کی بات کر رہے تھے وہ بھی گڑبڑا گئے۔ لوگوں کا خیال تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ فائرنگ کی جگہ کوئی اور نکل آئے اور بعد میں بلاوجہ مکان نمبر6 کے مکینوں سے تعلقات خراب ہو جائیں حالانکہ تعلقات تھے ہی کب۔ بہرحال پولیس والوں کو اشارتاً بتادیا گیا کہ گلی کی اِس جانب سے فائرنگ کی آواز سنی گئی ہے۔ ایک پولیس والے نے حکم دیا کہ اس طرف والی گلی کے سارے گھروں سے مردوں کو باہر بلا لیا جائے۔ مرد تو پہلے ہی باہر نکلے ہوئے تھے، صرف مکان نمبر 6سے کوئی باہر نہیں آیا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں پولیس کو بھی پتا چل گیا شاید گڑبڑ مکان نمبر 6میں ہے۔ اتنے میں وائرلیس پر کال چلی، سب نے آواز سنی، کنٹرول روم کو بتایا جارہا تھا کہ دو موٹر سائیکل سوار گرفتار ہوئے ہیں جنہوں نے ہماری گلی میں فائرنگ کی تھی لیکن فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ بات تو کلیئر ہوگئی کہ فائرنگ مکان نمبر6سے نہیں ہوئی۔ لیکن موقع اچھا تھا اس لئے سب محلے دار چاہتے تھے کہ لگے ہاتھوں یہاں کے مکینوں کی معلومات ہی لے لی جائیں۔ پولیس افسر بھی شاید عوام کی رائے بھانپ چکا تھا لہٰذا اُس نے آگے بڑھ کر مکان پر بیل دی۔چھ سات دفعہ بیل دینے کے باوجود بھی جب دروازہ نہ کھلا تو پولیس افسر نے محلے داروں سے پوچھ لیا کہ یہاں کون رہتا ہے؟ بتایا گیا کہ ایک مرد اور ایک عورت۔ سوال ہوا کہ چال چلن کیسا ہے؟ محلے والوں نے سچ سچ بتا دیا کہ یہ لوگ کسی سے نہیں ملتے جلتے۔ پولیس کیلئے اتنی سی بات ہی کافی تھی۔ فوراً حکم ہوا کہ دروازہ پھلانگ کر اندر داخل ہوا جائے۔ دیکھتے ہی دیکھے چار پانچ سپاہی مین گیٹ پھلانگ کر مکان نمبر6 میں داخل ہوگئے اور اندر سے گیٹ کھول دیا۔ سامنے گیراج نظر آرہا تھا جس میں گاڑی کھڑی تھی۔ ایک طرف ایک چھوٹا سا خالی پنجرہ لٹک رہا تھا اور دائیں جانب لکڑی کے موٹے سے میز پر یو پی ایس اور بیٹری رکھی تھی۔ پولیس افسر نے اشارہ کیا اور ایک سپاہی نے آگے بڑھ کر اندر والے لکڑی کے دروازے پر زور سے دستک دی۔ کسی کے چلنے کی آواز آئی اور پھر دروازہ کھل گیا۔ سامنے وہی پچاس سالہ شخص کھڑا تھا۔ باہر کی صورتحال دیکھ کر اس کی آنکھوں میں شدید حیرت نمودار ہوئی۔ پھر سنبھل کر بولا’جی فرمائیے‘۔ پولیس افسر آگے بڑھا ’آپ کا نام کیا ہے اور کیا کرتے ہیں؟‘ سارے محلے دار ہمہ تن گوش ہو گئے، وہ سننے کیلئے بے تاب تھے کہ آخر یہ پراسرار شخص کام کیا کرتا ہے۔ پچاس سالہ شخص ایک قدم آگے بڑھا اور دروازہ بند کرتے ہوئے اطمینان سے بولا’بات کیا ہے آخر؟‘۔ پولیس افسر قدرے سخت لہجے میں بولا ’جو پوچھا ہے وہ بتائو‘۔ یہ سنتے ہی پچاس سالہ شخص نے ایک گہری سانس لی، پولیس افسر کے قریب ہوا اور اُس کے کان میں کچھ کہا۔ پتا نہیں اُس نے کیا کہا تھا لیکن بات سنتے ہی پولیس افسر کا رنگ اڑ گیا۔ اس نے پچاس سالہ شخص کو سیلوٹ کیا اور فوری طور پر سپاہیوں کو ساتھ لے کر مکان سے باہر نکل آیا۔ ہم سب حیران تھے کہ یہ سب کیا ہے۔ باہر آتے ہی سب نے پولیس افسر کو گھیر لیا کہ پچاس سالہ شخص نے اس کے کان میں کیا کہا تھا۔ پولیس افسر نے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کیا اور دھیرے سے بولا ’’وہ اپنی بیوی کے ساتھ یہاں رہتا ہے لیکن نہیں چاہتا کہ کسی سے سلام دعا رکھے‘‘۔ سب چلا اٹھے ’کیوں، آخر کیوں؟‘۔ پولیس افسر کے لب کپکپائے ’وہ کہتا ہے اگر عدالت میں کوئی اُس کا جاننے والا سامنے آگیا تو فیصلہ کرتے وقت اس کا قلم لڑکھڑا نہ جائے‘۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *