جولائی 86ء کے دنوں کی یاد

محمد خان جونیجو اور عمران خان کے درمیان کوئی مماثلت ڈھونڈنا میری دانست میں ایک احمقانہ کوشش ہے۔ بنیادی فرق ان دونوں میں یہ ہے کہ 1985کے غیر جماعتی انتخابات سے قبل جونیجو مرحوم تقریباََ ایک گمنام شخص تھے۔ جنرل ضیاء نے انہیں پیر پگاڑا کی سفارش پر وزیراعظم ’’نامزد‘‘ کیا تھا۔ عمران خان سیاست میں آنے سے قبل ہی ایک کرکٹر کے طورپر مشہور ہو چکے تھے۔ 1992کا ورلڈ کپ جیتنے کے بعد انہوں نے اپنی شہرت کو لاہور میں ایک جدید ترین طرز کا کینسر ہسپتال بنانے کے لئے بھرپور انداز میں استعمال کیا۔ ان کی شہرت کے اثر کو دیکھتے ہوئے کئی لوگوں نے انہیں عملی سیاست میں دھکیلنے کی کوشش کی۔ وہ اجتناب برتتے رہے۔ بالآخر قائل ہو گئے کہ معاشرے میں حقیقی تبدیلی لانے کے لئے ان کا سیاست میں آنا ضروری ہے۔

22سال کی جدوجہد کے بعد بالآخر جولائی 2018کے انتخابات کے ذریعے ان کی جماعت کو وفاق کے علاوہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں حکومت بنانے کے لئے اکثریت کی حمایت ملی۔ انہیں کسی نے ’’نامزد‘‘ نہیں کیا۔ آئین میں طے شدہ قواعد کے مکمل اطلاق کے ذریعے قومی اسمبلی میں ہوئی رائے شماری کے ذریعے پاکستان کے وزیراعظم ’’منتخب‘‘ ہوئے۔ ’’منتخب‘‘ کا لفظ لکھتے ہوئے میں اس حقیقت کو ہرگز نظرانداز نہیں کر رہا کہ عمران خان صاحب کے مخالفین نہایت شدت سے یہ دعویٰ کرتے رہے کہ انہیں اکثریت ’’دلوائی‘‘ گئی تھی۔ اسی لئے Selectedکا لفظ استعمال ہوا۔ قومی اسمبلی کے سپیکر نے ایوان میں اس لفظ کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔ یہ لفظ مگر سیاسی لغت کا حصہ بن چکا ہے۔ اکثریت ’’ملنے‘‘ یا ’’دلوانے‘‘ کی بحث میں لیکن میں وقت ضائع کرنے کو تیار نہیں۔ اصولی طور پر مجھے یہ حقیقت بھی نگاہ میں رکھنا ہے کہ اکثریت ’’دلوانے‘‘ کا دعویٰ کرنے والے سیاست دانوں نے بھی جولائی 2018کے انتخابات کے ذریعے قائم ہوئی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی رکنیت کا حلف اٹھایا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو ان انتخابات کی بدولت سندھ میں 2008سے مسلسل تیسری بار صوبائی حکومت قائم کرنے کا موقعہ ملا۔ شہباز شریف صاحب قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد ہیں۔ اس منصب کی بدولت ان کے چند حقوق ہیں۔ حکومت ان حقوق کا احترام کرنے کو مجبور ہے۔ اپوزیشن کے جو رہ نما نیب کی حراست میں ہیں یا ان دنوں جیل بھیج دئیے گئے ہیں ’’پروڈکشن آرڈر‘‘ کی بدولت ایوان کے اجلاسوں میں شریک ہوتے ہیں۔ مختصراََ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ عمرن خان کے شدید ترین سیاسی مخالفین نے بھی عملی اعتبار سے 2018کے انتخابات کو تسلیم کر لیا ہے۔ اس کے سوا تقریریں ہیں۔ یاوہ گوئی ہے۔ عمران خان صاحب کو میسر ہوئی حقیقی یا مصنوعی اکثریت ویسے بھی آج کے کالم کا موضوع نہیں۔ حیرانی تو اس بات پر ہو رہی ہے کہ پیر کی صبح اُٹھا تو ذہن میں یہ سوال اٹھا کہ محمد خان جونیجو مرحوم وزیراعظم ’’نامزد‘‘ ہونے کے بعد امریکہ کے دورے پر کب تشریف لے گئے تھے۔ ذہن میں یہ سوال کیوں اُٹھا اس کی وجہ بخدا ہرگز سمجھ نہیں آئی۔ انسانی ذہن میں غیب سے سو طرح کے خیالات آتے رہتے ہیں۔ غالبؔ جیسے تخلیقی ذہن میں اٹھیں تو وہ حیران کن شعروں کی صورت کلاسک کا درجہ پا لیتے ہیں۔ میرے جیسے کم نصیبوں کے ذہن میں آئیں تو زیادہ سے زیادہ ایک ’’ڈنگ ٹپائو‘‘ کالم کا موضوع۔ بہرحال پیر کی صبح اٹھا تو ذہن میں نجانے کیوں سوال امڈ آیا کہ جونیجو مرحوم امریکہ کے دورے پر کب تشریف لے گئے تھے۔ ذاتی طورپر میرے لئے وہ دورہ اس لئے بھی اہم تھا کیونکہ میری صحافتی زندگی میں وہ پہلا دورہ تھاجب کسی سربراہِ حکومت کے ساتھ میں سرکاری جہاز میں وفد کے ہمراہ کسی غیر ملکی دورے پر گیا تھا۔ وزیراعظم کے ہمراہ کسی دورے پر جانے کے لئے ان دنوں شیروانی پہن کر جہاز میں بیٹھنا ضروری تھا۔ میری تنخواہ ان دنوں 1808روپے ماہوار تھی۔ جیب میں اتنی رقم ہی نہیں تھی کہ فوری طورپر کسی درزی سے ایک شیروانی سلوا لیتا۔ فیصلہ کیا کہ اس دورے پر جانے سے معذرت کر لی جائے۔ میرے ساتھیوں نے یہ ارادہ سنا تو بہت مخالفت کی۔ میرے کئی مہربان سینئرز نے بہت خلوص سے سمجھایا کہ صحافی غیر ملکی دوروں پر سربراہان حکومت کے وفود کے ہمراہ جائے بغیر خارجہ امور کے پیچیدہ ترین مسائل کو سمجھ ہی نہیں سکتا۔ پی پی آئی نیوز ایجنسی کے ایک بہت ہی شفیق ایڈیٹر ابصار رضوی صاحب ہوا کرتے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ میرا قد کاٹھ ان کے برابر ہے۔ اپنے گھر لے گئے اور اپنی تین سے چار شیروانیاں لے آئے۔ مجھے مجبور کیا کہ انہیں ٹرائی کروں۔ ایک شیروانی مجھے تقریباََ Fitآ گئی۔ میں شیشے کے سامنے اسے پہن کر کھڑا ہوا تو خود کو مسخرہ لگا۔ ان سے شیروانی تو لے آیا مگر وزیراعظم کے پریس سیکرٹری نثار چنہ مرحوم کو فون کر کے معذرت چاہی۔ وہ حیران ہوئے اور بہت پریشان بھی۔ ان سے بات کرنے دو دن بعد میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں گیا تو جونیجو مرحوم نے اپنے چیمبر میں بلا لیا۔ میں نے شیروانی کا عذر پیش کیا تو انہوں نے فوراََ کہا کہ آپ اخبار نویس ہیں سرکاری افسر نہیں جو کوٹ ٹائی پہن کر جہاز میں بیٹھیں۔ واقعہ یہ بھی ہوا کہ ان کے جہاز میں میں واحد شخص تھا جس نے شیروانی کے بجائے سوٹ بھی نہیں بلکہ کوٹ اور پتلون والا Combinationپہن رکھا تھا۔ ’’بنا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اِتراتا‘‘ والا معاملہ رہا۔ اپنے موضوع سے دوبارہ بھٹک گیا ہوں۔ فاسٹ ٹریک کرتے ہوئے بیان کرتا ہوں کہ محمد خان جونیجو مرحوم جولائی 1986میں امریکہ گئے تھے۔ ان کے دورئہ امریکہ کے دوران صدر ریگن نے ان کے اعزاز میں ایک عشائیہ بھی دیا تھا۔ ریگن نے وہاں علامہ اقبال کے ’’زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری‘‘ والے مصرعے کو انگریزی میں بیان کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔ اس دورے میں افغانستان سے جڑے معاملات باہمی مذاکرات پر حاوی رہے۔ اس زمانے کا سوویت یونین جو آج روس ہے افغانستان سے نکلنا چاہ رہا تھا۔ ریگن کی خواہش تھی کہ اسے نکلنے میں مدد دی جائے۔ پاکستان کے وزیراعظم سے اس ضمن میں تعاون کا طلب گار تھا۔ جونیجومرحوم آمادہ تھے۔ ان کی آمادگی نے اگرچہ بالآخر جنرل ضیاء کو مئی 1988میں جونیجو مرحوم کو فارغ کرنے کا بہانہ فراہم کر دیا۔ مہینہ اب بھی جولائی کا ہے۔ اس ماہ کی 22تاریخ کو پاکستانی وزیراعظم کی امریکی صدر سے ملاقات طے ہے۔ اب کے برس سوویت یونین یا آج کا روس نہیں بلکہ امریکہ افغانستان سے اپنی افواج کی ’’باعزت‘‘ واپسی کے لئے بہت عجلت میں راستے ڈھونڈ رہا۔ پاکستان سے ایک بار پھر اس ضمن میں تعاون درکار ہے۔ تعاون کی طلب میں ٹرمپ کی بہت خواہش تھی کہ عمران خان صاحب اس سے جون کے آخری ہفتے میں ملاقات کریں۔ ہمارے وزیراعظم نے مگر ملاقات کا پیغام لانے والے زلمے خلیل زاد کو بتایا کہ وہ جون میں بجٹ کی وجہ سے مصروف ہیں۔ جولائی کے مہینے میں ملاقات ہو سکتی ہے۔ زلمے خلیل زاد کے ہمراہ آئے ایک امریکی سفارت کار نے میرے قابل اعتماد ’’ذرائع‘‘ کو بہت فکر سے بتایا کہ ٹرمپ کے لئے عمران خان صاحب سے ملاقات کے لئے جولائی کی کوئی تاریخ نکالنا بہت مشکل ہو گا۔ شاید یہ ملاقات اب ستمبر 2019میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران ہی ہو پائے گی۔ ٹرمپ مگر جولائی کی 22کے لئے تیار ہو گیا۔ اس کی مذکورہ مہینے میں ملاقات پر آمادگی اس کے ذہن پر نازل عجلت کا واضح اظہار ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ پاکستانی وزیراعظم سے ملاقات کے دوران افغانستان سے جڑے معاملات ایک بار پھر ’’اصل موضوع‘‘ رہیں گے۔ عمران خان صاحب سے اس ضمن میں تعاون کی طلب ہو گی۔ پاکستان یہ تعاون کیسے فراہم کرے اور اس کے بدلے میں کیا ملے گا؟ ان سوالات پر غور کرنا ضروری ہے۔ عملی صحافت سے ریٹائر ہوا یہ کالم نویس مگر اپنے ذہن میں اُمڈتے سوالات کا جواب حاصل نہیں کر سکتا۔ بیکار ذہن جولائی 1986کے دنوں کی یاد میں بھٹکتا رہا۔
بشکریہ نوائے وقت

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *