خواجہ مسعود‘ گورڈن کالج اور میں

خواجہ مسعود کو میں نے پہلی بار گورڈن کالج میں دیکھا ۔ یہ سترکی دہائی کا آخر آخر تھا۔ میرا ایڈمشن گورڈن کالج کے ایم اے انگلش پروگرام میں ہوا تھا اور وہ میرا کالج میں پہلا دن تھا۔ میں کلاس کے وقت سے پہلے ہی کالج پہنچ گیا ‘کالج کی پرُ شکوہ عمارت کے ایک بلاک پر 1893 ء لکھا تھا۔ اس زمانے میں راولپنڈی کا گورڈن کالج اور لاہور کا گورنمنٹ کالج دو معروف تعلیمی ادارے تھے‘ جو قیامِ پاکستان سے پہلے وجود میں آئے تھے اور جہاں طلباکی ہمہ جہت شخصیت گری کا خاص اہتمام کیا جاتا تھا۔ کالج کے مین گیٹ سے داخل ہو کر میں دائیں بائیں کی عمارتوں کو حیرت سے دیکھ رہا تھا۔ کالج کے طلبا میرون رنگ کے کوٹ اور گرے ٹرائوزر میں ملبوس یہاں وہاں دکھائی دے رہے تھے۔ چلتے چلتے میں کالج کے وسط میں اس جگہ پہنچا‘ جہاں پرنسپل آفس کے سامنے ایک بلند قامت سایہ دار درخت تھا‘ درخت کے تنے سے اس کی قدامت کا پتا چلتا تھا۔ اسی قدیم سایہ دار درخت کے نیچے میں نے پہلی بار خواجہ مسعود کو دیکھا۔ میرے ساتھی نے اشارے سے بتایا وہ کالج کے پرنسپل ہیں۔ میں نے دیکھا ایک دبلا پتلا سا شخص‘ سیاہ رنگ کا گائون پہنے ہاتھ میں رجسٹر لیے‘ کچھ طالبعلموں سے باتیں کر رہا تھا۔اس کے سر کے بال کم تھے‘ لیکن بڑی نفاست سے ترشے ہوئے تھے۔ اس کے چہرے میں نمایاںچیز بڑی بڑی آنکھیں تھیں۔خواجہ مسعود کے بارے میں میرا پہلا تاثر ایک استاد کا تھا‘ جو طالب علموں کے ساتھ گہرا ربط رکھتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تاثر اور پختہ ہوتا گیا۔
گورڈن کالج کا زمانہ میری کتابِ زندگی کا ایک یادگار باب ہے۔ یہ محض کالج نہ تھا‘ ایک تہذیب‘ ایک ثقافت کا نام تھا۔ راولپنڈی اور اس کے گرد و نواح کی تاریخ اس کے بغیر نا مکمل ہے۔ کیسے کیسے اساتذہ تھے‘ جن کے علم اور تجربے سے ہم نے خوشہ چینی کی۔ پروفیسر وکٹر مل‘ سجاد شیخ‘ نصراللہ ملک ‘ سجاد حیدر‘ ملک‘ آفتاب اقبال شمیم ۔ان میں سے ہر شخص اپنی ذات میں ایک انجمن‘ ایک ادارہ تھا‘ لیکن ا س کہکشاں کا سب سے روشن ستارہ خواجہ مسعود تھے‘ جو اساتذہ اور طالب علموں کے لیے ایک انسپریشن تھے۔خواجہ صاحب کی زندگی کثیرالجہت تھی۔ وہ بیک وقت ایک استاد‘ ایک منتظم ‘ایک بے مثال مقرر ‘ ایک کالم نگار اور ایک سوشل اکٹیوسٹ تھے۔ ان کا مطالعہ وسیع تھا ۔ادب‘ فلسفہ ‘ سیاست‘ مذہب‘ تاریخ ‘ سائنس‘وہ کسی بھی موضوع پر بولتے تو یوںلگتا وہ اس موضوع کے ماہر ہیں۔ خواجہ مسعود صاحب بطورِ پرنسپل ہر وقت متحرک رہتے‘ جہاں کہیں دیکھتے کلاس میں ٹیچرموجود نہیں تو وہاں جا کر پڑھانا شروع کر دیتے ۔اس روز بھی ایسا ہی ہوا ۔ہماری ایم اے انگلش کی کلاس میں کوئی استادچھٹی پر تھا۔اچانک خواجہ صاحب ہماری کلاس میں آ گئے‘ ہمیشہ کی طرح سیاہ گائون میں ملبوس۔ ہم سے پوچھا کس سبجیکٹ کی کلاس ہے؟ ہم نے بتایا ہم Popeکی شاعری پڑھ رہے تھے۔ خواجہ صاحب نے بغیر کسی تامل کے پوپ کی شاعری پر بولنا شروع کر دیا۔چالیس منٹ کی کلاس کب ختم ہوئی‘ ہمیں پتا ہی نہ چلا۔ اس روز پوپ کی شاعری اور اسلوب کے بہت سے نئے گوشے ہمارے سامنے آئے۔ ہم سب حیرت کے عالم میں تھے کہ خواجہ صاحب یہ جا وہ جا ‘تیزی سے سیڑھیاں اترکے چلے گئے اور اس روز ہم شیخ صاحب کے انگریزی ادب کے گہرے مطالعے کے قائل ہو گئے۔کچھ عرصے بعد ہمیں پتا چلا کہ خواجہ صاحب کا مضمون انگریزی ادب نہیں‘ بلکہ ریاضی ہے ۔
مختلف مضامین پر خواجہ صاحب کی دسترس ان مضامین میں ان کی دلچسپی اور مطالعے کی دلیل تھی۔خواجہ صاحب کے تاریخی اور سیاسی شعور کا تعلق ان کی ابتدائی تربیت کا مرہونِ منت تھا ۔خواجہ صاحب نے 1922ء میں اٹک کے تاریخی شہر میں جنم لیا۔ تب اٹک کا نام کیمبل پور تھا۔ اس وقت برصغیر میں علامہ اقبالؒ کی شاعری کا چرچا تھا‘ یہ شاعری ایک غیر روایتی شاعری تھی‘ جس میں مسلمانوں کو ان کے شاندار ماضی کی یاد دلا کر عمل کا درس دیا گیا تھا۔ خواجہ مسعود کے دادا علامہ الف دین نفیس کا شمار علامہ اقبالؒ کے دوستوں میں ہوتا تھا۔ والد خواجہ محمود صاحب کا تعلق قانون کے شعبے سے تھا۔ خواجہ صاحب نے آنکھ اس علمی ماحول میں کھولی تھی ‘جہاں ہر طرف ادب‘ سیاست‘ مذہب اور تاریخ کے رنگ بکھرے ہوئے تھے۔ خواجہ صاحب نے ابتدائی تعلیم سکاچ مشن سکول ڈسکہ سے حاصل کی اور ایم اے کی ڈگری گورنمنٹ کالج لاہور سے حاصل کی ‘یہ 1944ء کا سال تھا ۔خواجہ صاحب گورنمنٹ کالج لاہور سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد گورڈن کالج راولپنڈی میں بطورِ لیکچرر آ گئے۔ ایک عظیم درس گاہ سے ایک اور عظیم درس گا ہ میں۔یہیں سے اس روشن سفر کا آ غاز ہوا‘ جو گورڈن کالج کی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔
خواجہ صاحب کا وجود ہم طالب علموں کے لیے ایک رول ماڈل تھا۔ وہ کالج کے طالب علموں کو صرف کلاس روم کی چاردیواری تک محدود نہیں رکھنا چاہتے تھے۔ مجھے یاد ہے ایک بار اردو کی مشہور کہانی نویس عصمت چغتائی ہندوستان سے پاکستان کے دورے پر آئیں تو خواجہ صاحب نے انہیں گورڈن کالج میں مدعو کیا۔ یہ ہم طالب علموں کے لیے ایک اہم موقع تھا کہ عصمت چغتائی کی گفتگو سنیں اور ان سے سوال و جواب کی محفل ہو۔ خواجہ صاحب نے مجھے اس محفل کی روداد لکھنے کو کہا اور پھر ملک کے ایک معروف جریدے میں اسے شائع بھی کرایا۔ اسی طرح کا ایک موقع ہمیں اس وقت بھی ملا جب اقبال کی کتا ب Reconstruction of Religious Thought in Islam کے خطبوں پر ایک سیمینار سیریز کروائی گئی‘ جس میںمعروف دانشور ایرک سپرین کو بطور ِریسورس پرسن بلایا گیا۔ اس سیمینار سیریز کا اہتمام بھی خواجہ مسعود صاحب نے کیا تھا‘پھر مجھے ایک ہاکی گرائونڈ کا ایک منظر یاد آ رہا ہے‘ جس میں گورڈن کالج کی ٹیم نے فائنل میں پہنچ کر مخالف ٹیم کو شکست دی تھی ۔اس زمانے میں ان ٹورنامنٹس کی بہت اہمیت ہوتی تھی ۔ ٹیم کی جیت پر ہم سب کے جوش کا عجیب عالم تھا۔ خواجہ صاحب کو لڑکوں نے کندھوں پر اٹھا لیا اور خواجہ صاحب گورڈن کالج زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے ۔یہ تھا؛ خواجہ صاحب کا عوامی انداز۔
خواجہ صاحب پرنسپل ہونے کے ساتھ باقاعدگی سے کلاسز پڑ ھا تے تھے۔ وہ ایک مقبول استاد تھے‘ کالج سے باہر ان کا روپ اور تھا۔ وہ شہر میں ہونے والی ادبی اور ثقافتی محفلوں کی جان تھے‘ اس کے ساتھ ہی وہ مختلف موضوعات پر ملکی اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے بھی تھے۔خواجہ صاحب اس وقت نو برس کے تھے‘ جب برصغیر کی آزادی کے ایک ہیرو بھگت سنگھ کو پھانسی دی گئی۔بھگت سنگھ ان کا ہیرو بن گیا۔ آزادی کا یہ جذبہ ‘ مزاحمت کی یہ آنچ خواجہ مسعود کے ساتھ آخری عمر تک رہی ۔خواجہ صاحب کی روح میں ایک بے قراری تھی‘ ایک سیمابیت تھی۔ روسی ادب کے مطالعے نے اس چنگاری کو اور ہوا دی ۔ خواجہ صاحب نے سٹڈی سرکلز کو رواج دیا‘ پراگریسو رائٹرز ایسوی ایشن کی بنیاد رکھی‘ اسلام آباد کلچر فورم کا آغاز کیا۔ خواجہ صاحب کے کالم ان کے وسیع مطالعے کی نشاندہی کرتے تھے۔ خواجہ صاحب کی بدولت ہم مارکس‘لینن‘ چی گویرا‘ گرامچی‘ ہوچی من ‘ دوستوفسکی‘ ٹالسٹائی ‘چیخوف‘ دادا امیر حیدر اور فیضؔ کا ذکر تو اتر سے سنتے تھے۔ خواجہ صاحب اور گورڈن کالج کا ساتھ اڑتیس برس کا تھا ۔
کالج سے ایم اے کر نے کے بعد میں کاروبار زندگی میں کھو گیا۔ وہ2010 ء کی جنوری کی ایک سرد شام تھی‘ میں لاہور میں تھا ‘جب مجھے فون پر ایک دوست نے اطلاع دی کہ خواجہ صاحب اب ہم میں نہیںرہے۔ ایک لمحے کو تومیں سکتے میں آگیا ۔یہ کیسے ہو سکتا ہے‘خواجہ صاحب تو زندگی تھے ‘سراپازندگی۔ وہ چلے گئے ‘لیکن جب تک ہم زندہ ہیں وہ ہماری زندگیوں میں دھڑکتے رہیں گے‘ ہمارے درمیان موجود رہیں گے۔
بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *