اعصاب کی ری وائرنگ سے مفلوج ہاتھ، بازو میں بہتری ممکن

آسٹریلیا میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مفلوج افراد کے بازوؤں اور ہاتھوں کو حرکت دینے کے لیے ان کے جسم میں موجود اعصاب کو ’ری وائرڈ‘ کیا گیا ہے۔

ایسے مفلوج افراد اب خود سے کھانا کھا سکیں گے، میک اپ کر سکیں گے، چابی گھما سکیں گے اور اس کے علاوہ کرنسی پکڑ سکیں گے اور کمپیوٹر پر ٹائپ بھی کر سکیں گے۔

برسبین سے تعلق رکھنے والے 36 سالہ پال رابنسن کا کہنا ہے کہ اس سرجری نے انھیں اتنی آزادی دی ہے جس کا انھوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔

اگرچہ مفلوج افراد کی زندگی کو مکمل طور پر بحال نہیں کیا گیا تاہم ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس سے ان کی زندگی بدل جائے گی۔

یہ طریقۂ کار کس طرح کام کرتا ہے؟

ریڑھ کی ہڈی زخمی ہونے کے باعث دماغ جسم سے آنے والے پیغامات کو وصول نہیں کر پاتا جس سے انسان مفلوج ہو جاتا ہے۔

ایسے مریضوں کے تمام اعضا متاثر ہوئے تھے لیکن اہم بات یہ ہے کہ وہ اب بھی اپنے پٹھوں کو اپنے اوپری بازوؤں میں منتقل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔

ریڑھ کی ہڈی سے نکلنے والی ان اعصابوں کو پھر ری وائرڈ کیا گیا۔

ان اعصاب کو کاٹا گیا اور پھر ان اعصاب کے ساتھ منسلک کیا گیا جو دوسرے کام جیسے کہ بازو پھیلانے یا ہاتھ کھولنے یا بند کرنے والے پٹھوں کو کنٹرول کرتے ہیں

میلبرن کی آسٹن ہیلتھ سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر نتاشا وین ویل کا کہنا ہے ’ہمیں یقین ہے کہ اعصاب کی منتقلی کی سرجری ایک نیا اور دلچسپ رخ پیش کرتی ہے۔ یہ سرجری مفلوج افراد کو ہاتھ اور بازو کے ذریعے روزمرہ کاموں کو انجام دینے، انھیں زیادہ آزادی، خاندان اور زندگی کے کام کاج میں آسانی سے حصہ لینے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔‘

کسے فائدہ مل رہا ہے؟

پال رابنسن ان ابتدائی مریضوں میں سے ایک ہیں جن پر یہ تجربہ کیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ فروری سنہ 2018 وہ اپنی بائیک سے گر گئے تھے جس سے ان کی گردن میں ریڑھ کی ہڈی کو نقصان پہنچا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا ’میرے ہاتھوں یا انگلیوں میں کوئی حرکت نہیں تھی، میرے بازو میں کوئی حرکت نہیں تھی اور میرے کندھوں میں کمزوری تھی۔‘

رابنسن کو اپنے والدین کے گھر واپس آنا پڑا پڑا اور انھیں معمولی کاموں جیسے کھانا کھانے کے لیے مدد کی ضرورت تھی۔

سنہ 2015 کے کرسمس سے دو روز قبل انھوں نے اپنے اعصاب کو ری وائرڈ کروایا جسے وہ اپنے زندگی کا شدید درد بھرا تجربہ قرار دیتے ہیں۔

اس کے بعد انھوں نے اپنے ہاتھوں اور بازوؤں کو حرکت میں لانے کا طریقہ سیکھنے کے لیے فزیو تھراپی کا عمل شروع کیا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’میں حال ہی میں اپنے گھر منتقل ہوا اور وہاں آزادانہ طور پر رہ رہا ہوں۔ میں نے کبھی یہ سوچا نہیں تھا کہ میرے لیے ایسا کرنا ممکن ہو گا۔‘

’میں ویل چیئر پر رگبی کھیلتا ہوں اور انجنیئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہا ہوں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’ اس نے میرے زندگی میں بہت زیادہ اثر ڈالا۔ میں اب کھانا کاٹنے کے قابل ہوں، چمچ، کانٹا پکڑ سکتا ہوں اور یونیورسٹی میں قلم استعمال کر سکتا ہوں۔‘

لوگوں کو کتنا کنٹرول حاصل ہوا؟

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس عمل کے بعد کوئی بھی اتنا تندرست نہیں ہو جائے گا کہ پیانو بجانے لگے۔

ڈاکٹر وین نے بی بی سی کو بتایا ’ہم یقینی طور پر ہاتھ کو نارمل طریقے سے بحال کرنے کا کام نہیں کر رہے ہیں۔ ‘

ہماری توجہ دو حصوں ہاتھ کو کھولنے اور بند کرنے پر اور کہنی کو کچھ حصوں تک لے جانے کے قابل کرنے پر ہے۔

ڈاکٹر وین کا مزید کہنا تھا ’ لہذا آپ اپنا ہاتھ کھول سکتے ہیں، اسے کسی چیز کے گرد لے جا سکتے ہیں اور پھر اسے پکڑ سے دبا سکتے ہیں۔‘

’ہم ہاتھ کے بہت اچھے تعاون کو بحال کرنے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں۔‘

کیا یہ تمام مریضوں کے لیے کام کرے گا؟

یہ زخم کی نوعیت پر منحصرہے۔

اگر زخم ریڑھ کی ہڈی کی وجہ سے ہے کہ یہ تو مکمل طور پر فالج کا سبب بنتا ہے تو پھر اس کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے ری وائر نہیں ہو گا اور یہ طریقۂ کار غیر ضروری ہو گا اگر زخم مزید نیچے ہو اور بازو غیرمتاثر ہوں۔

تاہم محققین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال ایسے ڈھائی لاکھ افراد ریڑھ کی ہڈی کے زخم کاش شکار ہوتے ہیں سو ڈاکٹر وین کے مطابق ’لہذا یہ مریضوں کا بڑا گروپ ہے جو اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔‘

کیا یہ ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے؟

نہیں۔ برطانوی سائنسی جریدے لینسٹ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق 16 مریضوں پر اعصابی منتقلی کا تجربہ کیا گیا۔

یہ تجربہ چار بار ناکام ہوا جن میں دو ایسے مریض بھی شامل تھے جن میں مستقل احساس کم ہوا۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

واشنگٹن یونیورسٹی کی ڈاکٹر ایڈا فاکس کا کہنا ہے ’اعصابی منتقلی ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ کے بعد ہاتھوں کو بحال کرنے کے لیے بہت بڑی پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے۔‘

ان کے مطابق ’ایسے مریضوں کے لیے فوری طور پر سرجری کروانا ضروری ہے لیکن امید ہے کہ اسے دنیا بھر میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *