خوشیوں کے کاروبار

" افشاں ہما "

میں نے ۱۹۹۸ میں ایم اے اور بی ایڈ مکمل کر لیا تھا۔ اس کے بعد جب ایک مقامی سکول میں نوکری کی خواہش ظاہر کی تو روایتی سوچ کے عین مطابق میرے والد اور بڑے بھائی کا خیال تھا کہ مجھے شادی کے انتظار میں یا تو گھر پر بیٹھنا چاہئے یا پھر مزید تعلیم حاصل کرتی رہوں۔ میرے اندر ایک خوددار انسان چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ بس اب اگرآگے پڑھنا بھی ہے تو پہلے خود آمدنی کا زریعہ پیدا کرنا ہو گا۔ میری والدہ نے اس راستے میں میرا بھرپور ساتھ دیا اور مجھے میرا کیریر شروع کرنے دیا گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ مجھے یہ اندازہ ہوا کہ تعلیم اور شادی جسے ہم نے پاکستان میں والدین کی زمہ داری بنا رکھا ہے ایک اچھا خاصہ اقتصادی بوجھ ہے۔

میں جب ۲۰۱۳ میں پی ایچڈی مکمل کر کے پاکستان واپس پہنچی تو لگا کہ پاکستانی عوام کی سوچ میں ایک انتہائی خطرناک رجہانپایا جاتا ہے۔ میرے خاندان کے افراد مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ بچوں کو کن اداروں میں بھیجا جائے اور ان کی لسٹ میں تمام مہنگے نجی اداروں ہی کے نام تھے۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ایک متوسط گھرانے کے افراد اپنے بچوں کو اس قدر مہنگے اداروں میں پڑھانے پر کیوں بضد ہیں۔ انہی دنوں خاندان میں ایک شادی کی تقریب میں جانا ہوا تو پتہ چلا کہ زیور اور ملبوسات کی تعریف نہیں کی جاتی بلکہ سب سے پہلے یہ پوچھا جانے لگا ہے کہ کس ڈیزائنر کا ہے۔ یونیورسٹی میں ایک خاتون کچھ دن تک میرے لباس کی جھوٹی تعریف کرتی رہیں اور یہی سوال کرتی رہیں کہ کہاں سے خریدا ہے، میرے سچ بول دینے پر انہیں کافی افسوس ہوا۔ تقریبا" ایک ہفتہ کے اندر اندر انہوں نے تعریفی کلمات واپس لیتے ہوئے کہا تمہیں اپنے ملبوسات کا انتخاب کسی اچھے برانڈ سے کرنا چاہئے۔ اس کے بعد عید اگئی تو میرے لیے بازاروں کا سماں حیران کن تھا خصوصا" جب میں نے موٹر سائیکل پر اپنے میاں اور دو بچوں کے ساتھ آنے والی خاتون کو ایک چار ہزار کے جوتے کیلیے ضد کرتے دیکھا۔ مجھے یہ تو واضح دکھائی دے رہا تھا کہ یہ ایک گھریلو خاتون ہیں اور میاں شاہد واحد شخص ہو گا جو کما کر تمام ضروریات پوری کر رہا ہو گا۔  میں نے یہ تذکرہ یونیورسٹی میں کیا تو پتہ چلا کہ پچھلے دنوں ایک کلرک نے اپنی بھتیجی کی شادی کے لیے گائوں میں اپنے بھائی کواپنی تمام جمع پونجی مبلغ ایک لاکھ روپیہ بھیج دیا جس پر اس کی بیگم نے دھمکی دی ہے کہ اب بیوی بچوں کو بھی شادی کی تیاری کے لیے کم از کم ایک لاکھ روپیہ ہی دینا ہو گا۔

ان تمام باتوں کی پریشانی اپنی جگہ اور میرے دوستوں کی کہانیاں اپنی جگہ جن میں وہ گھر میں ہونے والے اخراجات سناتے ہوے بس روتے نہیں ورنہ حالات تو ایسے ہی ہیں۔ کل فیس بک پر ایک کیمپین دیکھی ہے جس میں ایک بچی اپنے لیے اور اپنے بھائی کے لیے چندہ جمع کر رہی ہے تاکہ وہ لمز میں پڑھ سکیں جو کہ ان کا خواب ہے۔ میری سمجھ سے ایسی کیمپینز باہر ہیں۔ لوگوں نے مجھے فیس بک پر بھی سمجھانے کی کوشش کی لیکن مجھے یہ جواز ہضم نہیں ہوتا کہ ایک ایسے خواب کی تکمیل کے لیے چندہ جمع کیا جائے جس میں ایک کاروباری نجی ادارے میں تعلیم کا حصول مقصود ہو۔ میرا خواب تھا کہ میں لندن سے پی ایچڈی کروں لیکن میں نے سکالرشپ نہ ملنے پر بخوشی وہ خواب۲۰۰۶ میں ادھورا چھوڑ دیا حالانکہ لندن میں مقیم میرا بھائی میرا خرچہ اٹھانے کو تیار تھا۔ بعد ازاں میں نے ایک سکالرشپ ہی پر بالآخر ۲۰۰۹ تا ۲۰۱۳ میں امریکہ سے پی ایچڈِی کی اور اس وقت الحمدللہ اپنے خرچہ پر کینیڈا میں ڈپلومہ کر رہی ہوں۔ ۲۱ سال کی عمر میں یہ بات سمجھ میں آ گئی تھی کہ کام وہ کرنا ہے جس کی سکت ہو اور اگر سکت نہ ہو تو پہلے سکت پیدا کرو۔ کسی بھی شخص پر یہ زمہ داری عائد نہی ہوتی کہ وہ میری تعلیم، شادی یا خوشیوں کے اخراجات اٹھاتا رہے۔ والدین نے اپنی زمہ داری بخوبی پوری کی۔ ان کی سکت ایک درمیانے درجے کے نجی سکول کے بعد سرکاری کالج اور یونیورسٹی کی تھی اور مجھے اس میں زرا برابر گمان نہیں کہ کالج اور یونیورسٹی میں طلبہ اپنی اچھی یا بری تعلیمی کارکردگی کے لیے خود بہت حد تکزمہ دار ہوتے ہیں ۔ پاکستانی نجی ادارے تو ایک لیبل کی صورت ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے ڈیزائنر اور برانڈڈ ملبوسات۔ یقین کیجئے میں اب بھی مشتاق کلاتھہائوس اور دوپٹہ سینٹر سے خریداری کرنا معیوب نہیں سمجھتی۔

پاکستان جیسے ملک میں پہلے تو گھرانوں کو ایک فرد کی زمہ داری سے ہٹ کر اس تصور کو پروان چڑھانا ہو گا کہ کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ کمائی کے زرائع بھی پیدا کریں اور خواتین بھی مردوں کے ساتھ کام کاج کریں۔ اس سے دو فائدے ہونگے ایک تو ظاہر ہے کہ ایک شخص کے کندھوں سے بوجھ ہٹے گا اور دوسرا سب افراد کو قدر آئے گی کہ پیسہ درختوں پر نہیں لگتا۔ بے دریغ خرچہ کرنے سے پہلے ہر شخص سوچے گا۔ میں ان تمام خواتین اور حضرات سے شدید ہمدردی رکھتی ہوں جن کی کمائی پر پورا گھرانہ عیاشی بھی کر رہا ہے اور وہ دن رات اس پریشانی میں گھل رہے ہیں کہ ان کی تمام خواہشات پوری نہیں کر پاتے۔ یقین کیجئے یہ تعلیم، شادی اور دیگر خوشیوں کے کاروبار اپ کو اور ہمیں پاگل کیے ہوئے ہیں۔ اپنی زندگیاں بھی آسان رکھئے اور دوسروں کی بھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *