نشریات کی معطلی: ’یہ نہیں پتا چلتا کہ حکم آتا کہاں سے ہے‘

تین ٹی وی چینلز کی نشریات 19 گھنٹے معطل رہنے کے بعد بحال

پاکستان میں پیر کی شام ملک بھر میں لاکھوں ٹی وی سیٹس پر اچانک تین نیوز چینلز کیپیٹل ٹی وی، اب تک ٹی وی اور چینل 24 کی نشریات آنا بند ہو گئیں۔

ان تینوں ٹی وی چینلز کی نشریات 19 گھنٹے سے زیادہ عرصے تک معطلی کے بعد منگل کی دوپہر بحال تو ہو گئیں تاہم چینلز کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ نشریات کیوں اور کس کی ہدایت پر معطل ہوئی تھیں اور نہ ہی پاکستان میں میڈیا ریگیولیٹ کرنے والی اتھارٹی پیمرا کی جانب سے اس بارے میں کوئی بیان جاری کیا گیا ہے۔

چینلز کی اس بندش کے بارے میں کوئی واضح صورتحال سامنے نہ آنے کی وجہ سے ان قیاس آرائیوں نے جنم لیا تھا کہ نشریات مبینہ طور پر اتوار کو پنجاب کے شہر منڈی بہاؤالدین میں پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے جلسے کی کوریج پر بند کی گئیں۔

پاپندی کا شکار میڈیا کا موقف

اب تک ٹی وی کے ڈائریکٹر نیوز شہاب محمود نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ابھی اس بارے میں کوئی علم نہیں کہ پیمرا نے کس بنیاد پر چینل بند کیا اور کس کی شکایت پر یہ سب ہوا اور اس کی شکایت پر سماعت کہاں منعقد کی گئی۔‘

پیمرا

جن چینلز کی نشریات معطل کی گئی ہیں ان میں چینل 24، کیپٹل اور ابتک ٹی وی شامل ہیں

شہاب محمود کا کہنا تھا کہ ان کے چینل کو بھی مریم نواز کی پریس کانفرنس دکھانے پر پیمرا کی طرف سے نوٹس موصول ہوا تھا تاہم ’ابھی ہم نے کوئی جواب بھی نہیں دیا مگر اچانک ہمارے چینل کی نشریات پیر کی شام معطل کر دی گئیں۔‘

خیال رہے کہ پیمرا نے سنیچر کو مریم نواز کی پریس کانفرنس دکھانے پر اب تک ٹی وی سمیت 21 ٹی وی چینلز کو نوٹسز جاری کیے تھے۔

اس نوٹس میں پیمرا نے موقف اختیار کیا تھا کہ مریم نواز کی عدلیہ اور ریاستی اداروں کے خلاف تقریر کے حصے دکھا کر ان چینلز نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے۔

کیپیٹل ٹی وی انتظامیہ نے بھی ٹوئٹر پر پیغام میں وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے دور میں تین چینلز بغیر کوئی وجہ بتائے آف ایئر کر دیے گئے ہیں جو کہ سنسر شپ کی بدترین قسم ہے۔

پیغام میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تاریخ اس عمل کو یاد رکھے گی۔

پی بی اے کیا کہتی ہے؟

ان چینلز کی انتظامیہ کی جانب سے نشریات کی معطلی پر پاکستان میں تمام براڈ کاسٹرز کی نمائندہ تنظیم پی بی اے سے شکایت بھی کی گئی ہے۔

اپنی شکایت میں بند کیے گئے چینلز کی انتظامیہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ بغیر کوئی وجہ بتائے اور انھیں سنے بغیر نشریات معطل کی گئی ہیں۔

24

نجم سیٹھی چینل 24 پر حالات حاضرہ کا پروگرام بھی کرتے ہیں

پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن نے اس سلسلے میں جاری کیے گئے بیان میں نشریات کی معطلی کے اقدام کی مذمت کی ہے اور اسے آزادیِ اظہار کے خلاف ورزی سے تعبیر کیا ہے۔

بیان میں پیمرا سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ بند کیے گئے چینلز کی نشریات کو بحال کیا جائے اور اگر ان چینلز سے متعلق ضابطہِ اخلاق کی خلاف ورزی کی کوئی شکایت موصول ہوئی ہے تو پھر متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

تاہم اس حوالے سے پیمرا کی طرف سے ابھی تک کوئی وضاحت جاری نہیں کی گئی۔

چینل 24 بھی ان چینل میں شامل ہے جسے نشریات کے تعطل کا سامنا رہا۔ چینل سے وابستہ سینیئر صحافی نجم سیٹھی نے سنسرشپ اور میڈیا پر پابندیوں سے متعلق بات کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ اب سب کچھ کنٹرول میں لے لیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے اپنی پوری زندگی میں پہلے ایسا نہیں دیکھا۔ کبھی کبھی نواز شریف کے پہلے دور حکومت میں میڈیا پر ایسی مشکلات آتی تھیں جب بریگیڈیئر امتیاز میڈیا کے خلاف استعمال ہوتے تھے لیکن اس قدر سختیاں کبھی کسی دور میں بھی نہیں تھیں۔‘

نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ ’مصیبت یہ ہے کہ اب یہ بھی نہیں پتا چلتا کہ حکم آتا کہاں سے ہے۔ پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ ریاستی اداروں پر تنقید نہ کریں حکومت کو جو مرضی کہیں لیکن اب برداشت کم ہو گئی ہے اور حکومت پر تنقید پر بھی ردعمل دیا جاتا ہے۔

’اب ان کے ذہن میں میڈیا کا کردار حکومت کے حمایتی کا ہے جس کی وجہ سے میڈیا میں مداخلت 100 فیصد ہو گئی ہے۔‘

سوشل میڈیا پر ردعمل
ان چینلز پر پابندی کا سوشل میڈیا پر بھی ردعمل دیکھنے میں آرہا ہے اور صحافی اس اقدام پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

صحافی منزے جہانگیر نے سوشل میڈیا پر سوال اٹھایا کہ پیمرا نے مریم نواز کی پریس کانفرنس دکھانے سے متعلق اپنے جاری کیے گیے نوٹس کے جواب سے پہلے ہی نشریات کیوں معطل کر دیں؟

اب تک چینل کی اینکر پرسن فریحہ ادریس نے ٹوئٹر پر لکھا کہ میں نے متعلقہ جگہوں پر اس بارے میں فون کیے لیکن ہمیں کوئی نہیں بتا رہا کہ ایسا کیوں گیا۔

ان کے مطابق اس سے قبل رمضان میں بھی لاہور میں مریم نواز کی ریلی دکھانے کی وجہ سے اب تک ٹی وی کو بندش کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *