انصاف ـــــ صرف چند لوگوں کے لئے

خفیہ طور پر بنائی گئی ویڈیوز آج کر ہر کوئی بناتا اور لیک کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اگر کچھ دن قبل نیب چئیرمین کی ویڈیو لیک ہوئی جس پر انہیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تو اب ایک احتساب عدالت کے جج  کی ویڈیو سامنے آ گئی ہے جس نے نواز شریف کے ایک اہم کیس کا فیصلہ کیا جو سپریم کورٹ نے انہیں نا اہل کر کے ان خلاف نیب کو ریفر کیا تھا۔

پی ایم ایل ـ این نے الزام لگایا کہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جج نے فیصلہ دباو میں دیا ہے اور سابق وزیر اعظم بے گناہ ہیں ۔ حکومتی پارٹی کا کہنا ہے کہ ویڈیو کی صداقت کو جاننے کے لیے فرانزک آڈٹ کرنا چاہیے اور پھر کسی نتیجہ  تک پہنچا جائے۔ جج  نے بھی اگلے ہی دن  اپنی پریس ریلیز کے ذریعے اپنا موقف دیا کہ انہیں  صرف شریف خاندان کی طرف سے دباو کا سامنا تھا۔

نواز شریف کے سپورٹرز میں ان سے ہونے والی نا انصافی کی وجہ سے ہر طرف خوف اور نا امیدی کا عالم ہے (جیسا کہ انہیں اس سے قبل نواز کی بے گناہی کا یقین نہ ہو)۔ایک  مجرم جو اس ویڈیو بنانے میں شامل تھا اور ایک جج کے رویہ کے خلاف  جو ایسے لوگوں سے ملتا تھا جس کے تعلقات ملزم سے تھے ، اور قید لیڈر کی بیٹی کی نیت کے بارے میں جس نے یہ معلومات اپنی پریس کانفرنس میں شئیر کیں اور درست راستہ اختیار نہیں کیا۔

اور پھر کچھ صحافیوں کی بھی  پیشین گوئیاں جو نئی آنے والی ویڈیوز کے بارے میں  محض اندازوں پر مشتمل ہیں کی وجہ سے بھی غیر یقینی کی صورتحال بگڑتی جا رہی ہے اور لگتا ہے کہ نظام  ہل کر رہ جائے گا۔

لیکن وڈیو سے کیا  معلوم پڑتا ہے  جس کا ہمیں پہلے سے معلوم  نہیں تھا ؟

کب سے پاکستان کا   عدالتئ نظام اتنا آذاد ہے کہ وہ آنکھین بند کر کے فیصلے سناتا ہے جیسا اس سے تلب کیا جائے؟

ایسا کبھی ہوا ہے کہ پاکستانی عدالتی نظام پوری طرح آزاد ہو  اور انصاف کے تمام تقاضے آنکھیں بند کر کے پورے کرے؟ بھٹو کے ٹرائل سے لے کر حا ل ہی میں ن لیگی رہنماوں کے خلاف دیے گئے فیصلوں سے  یہ کہنا مشکل نہیں ہے کہ یہاں عدالتی فیصلوں میں کس چیز کا مسئلہ ہے ۔ آپ نواز شریف یا حنیف عباسی کی ضمانت کا فیصلہ پڑھ لیں تو آپ کومعلوم ہو جائے گا کہ ہمارا عدالتی نظام کتنا ناقص ہے۔

ایک طرف بہت سے ٹالک شو اور تبصرے  ان تمام قید سیاسی رہنماوں کی قسمت میں کیے جاتے ہیں  لیکن یہی لوگ  عام قیدیوں کے بارے میں گفتگو کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ غریب اور عام عوام جو جیلوں میں قید ہیں وہ بھی اس عدالتی نظام کے ناقص ہونے کی سزا بھگت رہے ہیں لیکن ان کی کسی کو پرواہ نہیں۔

آسیہ بی بی کا کیس تو آپ کو یاد ہو گا ؟ بلکہ بہتر ہو گا اگر ہم جنید حفیظ کی بات کریں ، جن پر توہین  رسالت کا الزام تھا۔ وہ جیل میں سال ہا سال تک قید رہے کیونکہ ان کے مذہب نے ان کاکیس دنیا کی نظر میں  کم اہمیت کا حامل بنا دیا   اس لیے ریاست کو ان کے کیس کو حل کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔ 2016میں ڈان اخبار نے رپوٹ کیا کہ ان کے وکیل جنہوں نے پہلے وکیل کی جگہ لی تھی جن کو اس لئے قتل کر دیا گیا تھا کہ وہ حفیظ  کا  کیس لینے پر رضامند ہو گئے تھے انہیں کیس لاہور لے جانے کے سلسلےمیں عدالت تک پہنچنے نہیں دیا گیا کیوں کہ گواہ کافی نہیں تھے۔ گواہوں کو قتل کی دھمکیاں مل رہی تھیں۔ اس جوان  کو قید میں کئی سال گزر چکے ہیں لیکن ہمیں  تو صرف سیاسی معاملات اور ایک قیدی اور ایک ہی جج کی ویڈیو کی فکر ہے۔

ویڈیو  کے ذریعے شہرت پانے والے جج نے  کیوں یہ رپورٹ نہ کیا کہ انہیں ملزم کے ساتھیوں کی طرف سے رشوت  کی پیشکش اور  دھمکیاں مل رہی تھیں ؟ یہ سوال ایک سر گرم رپورٹر نے اس وقت داغے جب جج نے ویڈیو کی تردید کے لیے پریس ریلیز جاری کی جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ انہیں شریف خاندان کی طرف سے دباو کا سامنا تھا۔

لیکن کئی سال سے ہم ججز پر اس دباو کا ذکر کرتے آتے ہیں جن کے پاس کچھ دہشت گردوں کے کیسز تھے۔ اتنے ہی سال سے  ہم  ٹرائل سے قبل ججز اور گواہوں کی شناخت  مخفی رکھنے کے معاملے پر بحث کرتے آ رہے ہیں۔ پروٹیکشن آف پاکستان ایکٹ  انہیں مسائل سے نمنٹے کے لیے پاس کیا گیا تھا ، لیکن تب ملٹری کورٹ  قائم کیے گئے  اور دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی اور اس کے ساتھ ہی ججز کی حفاظت کا مسئلہ  بھی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔

ایک  دماغی مرض   کا قیدی جیل میں اس لیے مر گیا کہ ہمارے عدالتی نظام میں ذہنی امراض سےنمٹنے کا کوئی نظام موجود نہیں ہے ۔ ہمیں بس شکر گزار ہونا چاہیے کہ سزائے موت کے اس قیدی کو پھانسی نہ دی گئی۔  لیکن اس کے باوجود ہم نظام کی خامیوں پر توجہ نہیں دے رہے۔

ملک کی سب سے بڑی عدالت کے  چیف جسٹس   نے ایسے فیصلے دیے جو ان کے جانشین اب  ایک ایک کر کے مسترد کرتے جا رہے ہیں۔  وہ جج ایک سلیبرٹی بنے ہوئے تھے اور عوامی  آگاہی کے لیے اقدامات کرتے اور چندے جمع کرتے تھے لیکن ایک جج کے فیصلے کی ایک  ویڈیو ہمیں پریشان کیے ہوئے ہے۔

ہماری حکمران  طبقہ کے لیے غم و غصہ کی حالت تب آتی ہے جب وہ خود کسی  عدالتی مشکل میں پھنس جاتے ہیں۔ اس لیے عمران خان اس کے بارے میں تبھی بات کرتے تھے جب پی ٹی آئی کی کچھ  پٹیشز جن کا تعلق الیکشن سے تھا عدالتوں میں تھیں۔ تب ن لیگ کے لیے مشکلات نہیں تھیں اور عمران خان تبدیلی کی خاطر اسلام آباد مین دھرنا دیے بیٹھے تھے۔ دوسری طرف ن لیگ عدلاتی نظام کو 2013 کے الیکشن کے وقت قابل اعتماد سمجھتے تھے اور 2008 سے 2013 کے بیچ  عدلیہ کی آزادی کے لیے نبرد آزما تھے جب حکومت پی پی کی تھی اور عدلیہ کا واحد نشانہ بھی پی پی قیادت ہی تھی۔

تب انہیں یہ عدالتی نظام  سیاسی طور پر جچتا تھا اور اب انہیں اس کا تقدس نہیں بھاتا۔

جب پانامہ  معاملہ سامنے آیا تو یہی طریقہ پی پی پی نے اختیار کیا۔  پہلے ان کے اقتدار میں جب انہیں افتخار چوہدری  سے ریلیف چاہیے تھا  تو پارٹی بھٹو قتل کیس ری اوپن کروانے عدالت پہنچ گئی ۔ لیکن تب سے  عدالتی  فیصلے کے خلاف  انہوں نے کوئی مزاحمت نہیں کی ہے۔

لیکن ان میں سے کوئی بھی سسٹم کو ٹھیک نہیں کرنا چاہتا جو سب کو انصاف دلائے ـــــ صابق پرائیم منسٹر سے لےکر ایک ہندو لڑکی تک جو سندھ میں لاپتہ ہو اور اسلام آباد میں آ کر دعوی کرنے لگی کہ وہ ایسے شخص سے شادی کر چکی ہے جو توہین  رسالت کا ملزم ہے ۔ہمیں کب یہ بات سمجھ آئے  گی کہ انفرادی انصاف تب ملے گا جب بڑےپیمانے  پر موجود مسائل حل ہونگے؟ تب تک عدالت طاقت ور لوگوں کے ہاتھوں  استعمال ہوتی رہے گی ۔ اسی وجہ سے نواز شریف کا کیس یا مریم نواز کے الزامات  نے کچھ لوگوں کو پریشانی کا شکار کر رکھا ہے  جو اکثر باری باری شاہراہ آئین پر  ڈیرے ڈال لیتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *