بھارت کا اقتصادی مستقبل اور پاکستان

معاشی اعتبارسے دنیاکی بڑی سرکردہ بیس طاقتوں کی نمائندہ تنظیم جی ٹونٹی (G20)کاسربراہ اجلاس جاپان کے شہر اوساکامیں منعقد ہوا۔ایسے اجلاس عمومی طور پرکوئی انقلابی فیصلے نہیں کیا کرتے، بلکہ نشستن،گفتن،برخاستن کی عملی تفسیر ہواکرتے ہیں۔یہ دو روزہ اجلاس بھی اسی قسم کا تھا۔البتہ دنیا کی انیس بڑی قوتوں اور یورپی یونین کے نمائندے کی آمد سے خوب رونق لگ جاتی ہے۔یہی کچھ جاپان میں پہلی مرتبہ انعقادپذیرہونے والے G20کے اس چودہویں سربراہ اجلاس میں بھی ہوا۔ٹرمپ سے لیکر پیوتن اوربرطانوی تھریسامے سے لیکرطیب اردوان اجلاس میں نظرآئے۔سعودی شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے ملک کی نمائندگی کی تو انڈونیشیااور چین کے صدور بھی وہاں موجود تھے۔ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی تازہ تازہ الیکشن جیت کرآئے تھے اور کامیابی پرمبارکبادیں وصول کرتے رہے۔
امریکی صدر کی بیٹی دختر اول کی حیثیت سے ہر جگہ ٹرمپ کے ساتھ نظر آئی۔ایوانکا ٹرمپ مختلف سربراہان مملکت سے کاروبار ریاست اور دیگرعالمی دلچسپی کے موضوعات پرگپ شپ کرتی نظرآئیں،ایوانکاکے اس کردار پر امریکہ سمیت دنیابھرکے میڈیامیں کافی تنقیدبھی ہوئی کہ یہ غیرسفارتی رویہ ہے۔مگرڈونلڈٹرمپ چونکہ غیر روایتی آدمی ہیں،اس لئے بقول شخصے بیٹی نے ضدکردی کہ ابو!ابو!!میں نے بھی جانا ہے،اورپہلی لائن میں بیٹھنا ہے،لہٰذاامریکی صدراسے ساتھ لے کرجی ٹونٹی اجلاس میں آگئے۔
مذاق برطرف لگتایہ ہے کہ امریکی صدر کی بیٹی ان کی مشیر کے طور پر کام کر رہی ہیں،جیساکہ ایوانکاکے یہودی عقیدہ رکھنے والے خاوندنامداروائیٹ ہاؤس میں اقامت پذیرہیں اور بطورمشیرخاص صدر پر کافی اثررکھتے ہیں۔میں تشویش میں مبتلا اس وقت ہوا جب میں نے ایوانکا ٹرمپ کواجلاس کے دوران نریندر مودی کی امریکی صدر سے ہونے والی ملاقات کی تفصیلات میڈیا کو بتاتے ہوئے سنا۔بھارت اورامریکہ کے تعلقات کی گہرائی اوراہمیت کوجس گرمجوشی سے دختراول بیان کررہی تھیں وہ غیرمعمولی تھی۔پریشان کن یہ بات اس لئے بھی ہے کہ عین ممکن ہے،بلکہ قرین قیاس یہی ہے کہ ڈونلڈٹرمپ بھی بھارت کے بارے میں ایسے ہی دوستانہ اورہمدردانہ جذبات رکھتے ہوں گے۔بھارت کی معاشی ترقی اورچین کے ساتھ اس کی تاریخی مخاصمت کے سبب امریکی محبت اورتعاون کا چشمہ جوکبھی ہماری طرف بہتاتھااب اس کا رخ لگتاہے ہندوستان کی طرف مڑ گیاہے۔
بریگزٹ یعنی برطانیہ کایورپی یونین سے الگ ہونے کا فیصلہ کئی برس سے گفتگوکاموضوع رہاہے۔اس سال خزاں میں بالآخرعلیحدگی کایہ عمل مکمل ہوجائے گا۔اب توایک طرح سے یہ طے شدہ معاملہ ہے مگر اب بھی اس موضوع پر دنیا بھر میں سرکردہ افرادرائے زنی کر رہے ہیں کہ کیا یہ درست فیصلہ ہے؟سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئراس فیصلے سے ناخوش دکھائی دیتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ہمیں اس فیصلے پرپچھتاناپڑے گا۔میرے لئے مگر اس انٹرویومیں حیرانگی کاپہلوان کابھارت کے معاشی مستقبل کے بارے میں نقطہ نظر تھا۔ٹونی بلئیرکا کہناتھا کہ ہمیں آج سے تیس سال بعد کا سوچناچاہئیے جب ہمارے پوتے،پوتیاں ہمارے بچوں کی عمر کے ہو جائیں گے۔تیس سال بعددنیامیں تین بڑے معاشی دیوہوں گے،امریکہ،چین اور انڈیا۔ٹونی بلئیراگرسرسری بات کر رہے ہوتے تومعاملہ دوسراتھا۔بریگزٹ کے موضوع پر ان کے بیانیے کا بنیادی نقطہ ہی یہ تھا کہ امریکہ اپنی عسکری قوت اورجغرافیہ کی وجہ سے اورآبادی و تنوع کے سبب تیس سال بعدبھی اہم ملک رہے گاجبکہ چین اور بھارت اپنی معاشی طاقت میں اس قدراضافہ ہوجائے گاکہ دنیابھرمیں چوتھے نمبرکا ملک ان سے آدھی معیشت کا حامل بھی نہیں ہوگا۔ان تین ممالک کے بعد درمیانے درجے کے ممالک آئیں گے۔برطانیہ اور جرمنی جیسے ممالک درمیانے درجے کی معیشیت والے ممالک رہ جائیں گے۔وہ تو اس تناظر میں باات کر رہے تھے کہ یورپی یونین کے رکن کی حیثیت سے برطانیہ کے مفادات کا بہتر انداز میں تحفظ ہوسکتا ہے۔ہمارے لئے مگر الارم بجانے والی بات ان کی گفتگوکا یہ حصہ ہے کہ تیس سال بعد ہندوستان دنیا کی تین بڑی معاشی قوتوں میں سے ایک ہوگا۔ہمیں سوچنا چاہئیے کہ ہم معاشی میدان میں بھارت کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں؟کیونکہ ہم نہ تو اپنا جغرافیہ تبدیل کرسکتے ہیں اور نہ ہی جنگوں اور خراب تعلقات کی تاریخ بدل سکتے ہیں۔
اس وقت پاکستان کی معیشت شدید بحرانوں کا شکار نظرآتی ہے۔مجموعی قومی پیداوار سے لے کرشرح نمو تک،کرنسی کی شرح تبادلہ سے لے کر اسٹاک مارکیٹ کی گراوٹ تک کچھ بھی حوصلہ افزادکھائی نہیں دیتا۔کچھ قرض،امدادمل گئے،مزید ملنے کی نویدوزیرخزانہ نے حال ہی میں سنائی ہے کہ راستہ ہموار ہوگیا ہے۔صورتحال مگر یہ ہے کہ اس سال یعنی 2019میں سقوط ڈھاکہ کے بعد پہلی مرتبہ بنگلہ دیش کی مجموعی قومی پیداوار معیشت کاحجمGDP) (ہم سے بڑھ گیا ہے۔بات یہاں پر ختم نہیں ہوجاتی،تشویش ناک بات یہ ہے کہ معیشت کی شرح نمویعنی بڑھوتری کی شرح ہماری اس سال تین فیصد جبکہ بنگلہ دیش کی سات فیصد ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والے سالوں میں بنگالی معیشت ہم سے اور زیادہ بڑی ہونے کا امکان ہے۔
جیسے جیسے بھارت کی معیشت کا حجم بڑھ رہا ہے۔اسی تناسب سے وہ جنگی سازوسامان کی خریداری میں اضافہ کرتا چلا جارہا ہے۔آج اس
دنیامیں اسلحے کا سب سے بڑاخریدار ہندوستان ہے۔اگرآج وہ 140 جنگی جہازوں کا آرڈردے رہاہے تویہ جدیدلڑاکاطیارے اس کے اپنے ملک میں توکسی کام نہیں آئیں گے۔سویلین آبادی کو کنٹرول کرنے میں تو ایسااسلحہ استعمال نہیں ہوتا۔یقینااس کاحدف سرحد پار ہے۔غالب امکان یہی ہے کہ وہ حدف پاکستان ہے۔ہمارے خراب مالی حالات ہمیں اجازت ہی نہیں دے رہے کہ ہم دفاعی ضروریات بڑھاسکیں۔ہم تو ضروری اخراجات کم کرنے کے متعلق سوچ بچار کررہے ہیں۔تیس سال بعداگر واقعی بھارت اتنی بڑی معاشی طاقت بن گیاجیسی دنیا بھر میں پیشین گوئیاں ہورہی ہیں تو کیا ہم موجودہ دفاعی صلاحیت کے ساتھ اس کا مقابلہ کرسکیں گے؟
اس ضمن میں چین کے ساتھ دوستی ہماری طاقت ہوسکتی ہے۔بھارت اور چین کے درمیان جنگ،جس میں بھارت کو شکست ہوئی اوراس کا کچھ علاقہ بھی چین کے قبضے میں چلا گیا،ان دو ہمسایہ ممالک کے خوشگوار تعلقات میں رکاوٹ رہے گی۔پاکستان اور چین کے پر اعتماد تعلقات اور بھارت سے مخالفت ایک مشترکہ نقطہ ہے۔مگر کیاچین سے دوستی پاکستان کے دفاع کی ضمانت بن سکتی ہے؟میراخیال ہے کہ ہمیں خود ہی اپنا دفاع اس قابل بناناپڑے گا۔اس بابت عہدسازمصنف میکاولی اپنی شہرہ آفاق کتاب ”دی پرنس“ میں لکھتاہے کہ کبھی کوئی غیر ملک آپ کے دفاع کی ضمانت نہیں بن سکتا، جس نے بھی اپنے دفاع کے لئے غیر ملکی قوت پر تکیہ کیا تاریخ بتاتی ہے کہ اس نے ہمیشہ نقصان اٹھایاہے۔آج بھارت کی معیشت ہم سے دس گنا بڑی ہے جوکہ رقبے اور آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو کسی حد تک قابل فہم ہے۔مگر یہ معاشی فرق اگر مزید بڑھتا ہے تواس کے شدیدتنرویراتی اثرات ہوں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *