”بلیک میلنگ“؟

نوٹ: دنیا پاکستان کا یہ نیا سلسلہ قارئین کے پر زور اصرار پر شروع کیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے کالم نگار کالم لکھتے ہوئے تاریخی حقائق کی نفی کرتے ہیں۔ اکثر اوقات کالم نگار خواتین و حضرات کے کالم پڑھتے ہوئے باشعور قارئین کے ذہن میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں یا دوسرا نقطہ نظر ذہن میں آتا ہے۔ ہم وہی سوالات یا فیڈ بیک یا درست حقائق سرخ روشنائی میں درج کر رہے ہیں۔ تاکہ دوسرا منظر بھی سامنے آسکے۔ اختلاف رائے اور متنوع آرا معاشرے کا حسن ہیں اور مکالمہ معاشرے کی ترقی کی علامت ہے۔ ( ایڈیٹر )

”بلیک میلنگ“؟

خامہ بدست کے قلم سے
ہفتہ 6جولائی کی مریم نواز کی پریس کانفرنس واقعی دھماکہ خیز ثابت ہوئی اور اس دھماکے کی لہریں بڑے بڑے ایوانوں تک جا پہنچیں۔ اس پریس کانفرنس میں مسلم لیگ(ن) کی مرکزی قیادت بھی موجود تھی۔مسلم لیگ کے صدر شہبازشریف،سینئر نائب صدرشاہد خاقان عباسی، سیکرٹری جنرل احسن اقبال، سینیٹر پرویز رشید،سابق وفاقی وزیر رانا تنویر (ایم این اے) اور مسلم لیگ پنجاب کی سیکرٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری (ایم پی اے)کی موجودگی کا مطلب تھا کہ یہ سب اس پریس کانفرنس میں کہی گئی باتوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ مریم نے یہاں وہ ویڈیو پیش کی جس میں العزیزیہ ریفرنس کیس میں میاں نواز شریف کو سات سال قید کی سزا سنانے والے جج ارشد ملک اپنے فیصلے کی قانونی خامیاں بیان کرنے کے علاوہ یہ اعتراف(انکشاف)بھی کرتے ہیں کہ عدالتی کارروائی کے دوران ایک دن انہیں کسی جگہ لے جاکر تین چار منٹ کی ان کی ایک ویڈیو دکھائی گئی(جس کی شرمناک تفصیلات بیان نہیں کی جاسکتیں) جس کے بعد ان کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہ رہا کہ وہ نوازشریف کے خلاف فیصلہ سنائیں یا خود کشی کرلیں۔
مریم (اور مسلم لیگ قیادت) کی یہ پریس کانفرنس اس شام سیاسی تبصروں اور تجزیوں کا اہم ترین موضوع تھی۔ سیاسی ترجمانوں نے بھی اس میں بساط بھر کردار ادا کیا۔ وزیر اعظم کی معاونِ خصوصی فردوس عاشق اعوان نے اسے جعلی ویڈیو قرا ردیتے ہوئے، اس کا فرانزک کرانے کا اعلان کیا۔ سب سے دلچسپ تبصرہ صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کا تھا جن کے بقول، یہ ویڈیو جج صاحب کو نشے میں دھت کرکے بنائی گئی۔ پریس کانفرنس سے اگلے روز جج صاحب کے دستخطوں سے جاری ہونے والی پریس ریلیز بھی تضادات کا مجموعہ تھا، جس میں انہوں نے اس ویڈیو کو جعلی بھی قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ یہ مختلف ا وقات میں، مختلف مقامات پر ہونے والی گفتگو کو جوڑ کر بنائی گئی۔
اس وقت ہمارے پیش نظر روزنامہ 92نیوز میں جناب ارشاد احمد عارف کا کالم ہے، ”بلیک میلنگ“ کے عنوان سے لکھتے ہیں: جج مذکور کی آڈیو ویڈیوریکارڈ کرنے والا شخص ناصر بٹ پاکستان اور برطانیہ میں مشکوک شہرت کا حامل ہے اور اسلامی وپاکستانی قانون ِ شہادت کے مطابق مشکوک شہرت کے حامل شخص کے پیش کردہ شواہد کو وہ لوگ تو آنکھیں بند کرکے قبول کرسکتے ہیں، جن کے دل میں خوفِ خدا ہے، نہ آنکھ میں شرم وحیا، مگر کوئی معقول شہری نہیں۔ہمارے خیال میں تو بات بات پر، دوسروں کو خوفِ خدا اور آنکھ کے شرم وحیا سے محرومی کا طعنہ دینے والوں کا کسی ماہر نفسیات سے تجزیہ کرانا چاہیے کہ وہ خود تو اس حوالے سے کسی نفسیاتی عارضے کا شکار نہیں۔ جہاں تک مشکوک شہرت کے حامل کسی شخص کے پیش کردہ شواہد کو قبول کرنے کا معاملہ ہے، مشکوک شہرت تو ایک طرف، کسی سنگین الزام کے ملزم کو بھی اپنی صفائی میں شواہد پیش کرنے کا حق حاصل ہے اور ظاہر ہے اس میں ملزم کی شہرت کو نہیں بلکہ اس کے پیش کردہ شواہد کو پرکھا جائے گا۔ یہاں بھی معاملہ ناصر بٹ کی شہرت کا نہیں، اس ویڈیو کا ہے، جس میں جج صاحب بہت سے حقائق کا اعتراف کرتے نظر آ تے ہیں۔ہم ناصر بٹ کے ”وکیل“ نہیں لیکن اتنی بات تو سب جانتے ہیں کہ سیاسی کارکنوں پر، مخالف حکومتیں قتل سمیت مختلف الزامات کے تحت مقدمات قائم کرتی رہتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ناصر بٹ ان میں سے کسی الزام میں مجرم ثابت ہوئے۔ خود جج صاحب کے بقول، ناصر بٹ اور ان کے بھائی عبداللہ بٹ سے ان کے تعلقات برسوں سے چلے آرہے ہیں اور میاں صاحب کے خلاف فیصلے آنے کے بعد بھی ان میں میل ملاقات ہوتی رہی۔ تب ہی تو وہ اس ویڈیو کو مختلف اوقات میں، مختلف مقامات پر ہونے والی گفتگوقرار دے رہے ہیں۔ فاضل کالم نگار یہاں ایک اور دور کی کوڑی بھی لاتے ہیں، قتل کے الزام میں مفرور ناصر بٹ نے موجودہ برطانوی وزیر اعظم ٹریسامے سے جب وہ وزیر داخلہ تھیں‘ ملاقات کی تو برطا نوی ا خبار نے سرخی جمائی۔-"Killer" in the home office Killerکے اوپر”انورٹڈ کوماز“کا مطلب ہی یہ ہے کہ ابھی اس پر الزام ہے، اس کا Killerہونا ثابت نہیں ہوا اور کسی بھی ملزم کو ہوم آفس جاکر اپنی صفائی پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔ فاضل کالم نگار آ گے چل کر مزید ارشاد فرماتے ہیں کہ ناصر بٹ کا موقف اگرچہ یہی ہے کہ راولپنڈی میں دو افراد کے قتل کا الزام غلط ہے اور مخالفین کی کارستانی مگر جب تک کورٹ آف لا میں وہ اپنی بے گناہی ثابت نہ کردیں، ان کی شخصیت ناقابل اعتبار رہے گی اور ہر فعل مشکوک۔لیکن جناب والا!اسلامی اور پاکستانی ہی نہیں دنیا بھر میں قانون یہی ہے کہ جب تک کوئی شخص مجرم ثا بت نہ ہو جائے، اسے معصوم ہی سمجھا جائے گا، اوراُس وقت اس کی شخصیت نا قابلِ اعتبار رہے گی اور نہ اس کا ہر فعل مشکوک۔البتہ پاکستان میں ”انصاف کی تحریک“ کا اصول انصاف مختلف ہے اور یہ بات بھی عجیب ہے کہ دو افراد کے قتل کا ملزم لندن سے راولپنڈی،اسلام آباد آکر دندنا تاپھرتا ہے، جج صاحب دیرینہ تعلقات کی بنا پر، اپنی گاڑی بھیج کراسے گھر بھی بلاتے ہیں اور خود ان کے بقول مختلف مقامات پر اور مختلف اوقات میں ملا قاتیں بھی کرنی ہیں (اور ان کے پریس ریلیز کے مطابق ان ملاقاتوں میں ہونے والی گفتگو کو جوڑجوڑ کر”جعلی“ ویڈیو بنائی جاتی ہے۔”ارشادات“ کا سلسلہ جاری ہے: پاناما کیس کئی ماہ تک سپریم کورٹ میں چلا، عدالت عظمیٰ کے حکم پر جے آئی ٹی نے میاں نوازشریف، میاں شہبازشریف، مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز سمیت کئی افراد خانہ کو طلب کرکے بیرونِ ملک جائیداداووں کی منی ٹریل مانگی، مگر ایک مشکوک قطری خط کے سوا، شریف خاندان کی زنبیل سے کچھ نہ نکلا۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے 20اپریل کے فیصلے کے مطابق، جے آئی ٹی کس طرح بننا تھی اور پھر یہ واٹس ایپ کے ذریعے جس طرح بنائی گئی، اس سے قطع نظر، جے آئی ٹی کی 10جلدوں پر مشتمل رپورٹ پیش ہوئی تو سپریم کورٹ کے ریمارکس تھے”جے آئی ٹی رپورٹ میں وزیر اعظم پر عہدے کے غلط استعمال کا الزام نہیں، ثبوت نہیں کہ وزیر اعظم کسی پر اپرٹی کے مالک ہیں“۔
انگریزی اخبا ر ڈان کی سرخی تھی
"No Corruption, misuse of authority charge on Pm:Sc"
چنانچہ 28جولائی کے فیصلے میں انہیں اپنے صاحبزادے کی کمپنی سے ”قابلِ وصول“ تنخواہ کو اپنے اثاثوں میں بیان نہ کرنے پر نااہل قرار دے دیا گیا(جو اگرچہ وصول نہ کی گئی تھی لیکن بلیک لاڈکشنری کے مطابق”قابلِ وصول“ بھی اثاثہ ہی شمار کی جاتی ہے)
جہاں تک ایوان فیلڈ ریفرنس میں جج محمد بشیر کے فیصلے کا تعلق ہے، اس میں جج صاحب نے لکھا کہ استغاثہ کرپشن یا کرپٹ پریکٹسنرکا الزام ثابت نہیں کرسکا اس کے باوجود آمدن سے زائد اثاثے کے الزام میں نوازشریف کو دس سال اور مریم اور کیپٹن صفدر کو (اعانتِ جرم میں)سات سال اور ایک سال کی سزا سنادی گئی۔ اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے یہ کہہ کر سزا معطل اور ضمانت منظورکرلی کہ احتساب عدالت نے یہ تو بتایا ہی نہیں کہ آمدن کتنی تھی اور اثاثوں کی مالیت کیا ہے، جس کے بغیر اثاثوں کی مالیت کو آمد ن سے زائد کیسے قرار دیا جاسکتاہے؟

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *