بند دروازوں کے پیچھے جرائم

یہ واقعہ پچھلے سال گرمیوں کی ایک شام  ناردن ماسکو کے ایک چھوٹے فلیٹ میں پیش آیا۔ اس دو کمروں کے اپارٹمنٹ میں ایک کھچاترین فیملی رہتی تھی جو ایک والد اور تین بیٹیوں جن کی عمر بالترتیب 17،18اور 19 سال  تھی پر مشتمل تھی۔  کوئی دیکھے تو یہ ہی سوچے کہ یہ ایک لڑکیوں کا رونق سے بھرا گھرانہ ہو گا، لیکن  اصل میں ایسا نہیں تھا۔ اس شام ان کے والد میکائیل کھچاترین نے  بیٹیوں کو کہا تھا کہ وہ لِونگ روم کو درست کر کے رکھیں۔ لیکن جب وہ کمرے میں آئے تو انہوں نے محسوس کیا کہ کمرہ اتنا صاف نہیں ہے۔ اپنی بیٹیوں پر  مشتعل ہو کر انہوں نے مرچی  پاوڈر کی ایک بوتل نکالی  اور بچیوں کے چہرے پر چھڑک دی۔  یہ اس گھر میں روز مرہ کا معمول  تھا، آئے دن تشدد کرنا مار دھاڑ غصہ یہ سب تو معمولی چیزیں تھیں۔  ان کی والدہ جو کچھ عرصہ پہلے گھر سے بھاگ گئیں تھیں ان کا کہنا تھا کہ آئے دن ان کے شوہر  مارکٹائی کیا کرتے تھے۔اور جنسی زیادتی کا بھی شبہ تھا پھر جلے کٹے الفاظ، بے عزتی کرنا وغیرہ جیسی چیزیں تو کھانا پانی کی طرف روز کا معمول تھیں۔

27 جولائی 2018 کی ایک شام ان عام دنوں سے مختلف تھی۔ تینوں بیٹیوں نے اب مزید ظلم نہ جھیلنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔  انہوں نے اپنے والد کا اسی بیٹھک میں ان کی گھومنے والی کرسی پر سونے کا انتظار کیا۔ جب وہ آخر کار سو گئے تو انہوں نے اپنے والد پر ہتھوڑیوں اور شکار کرنے والی چاقو سے وار کئے۔ رپورٹس کے مطابق، والد نے مزاحمت کی لیکن لڑکیاں ان پر حاوی رہیں۔ اور چند منٹوں مین وہ وفات پا گئے ـــــــ ایک شیطان جو ان کی زندگیوں پر راج کرتا تھا اور گھر میں بیٹیوں پر نظر رکھنے کے لیے گھر کے اندر کیمرے لگوا رکھے تھے اب اس دنیا میں نہیں تھا۔

البتہ لڑکیوں کی مصیبت ختم نہیں ہوئی ۔ والد کی وفات کے بعد ان کو گرفتار کر لیا گیا اور ان پر والد کے قتل کا الزام لگا۔ تب سے ان کے وکیل نے ان کے لیے ان کے والد کے خلاف ایک طویل عرصہ حرساں کرنے اور تشدد  کا کیس بنانے کی کوشش کی ہے۔  باقی  حمایتیوں نے آن لائین پٹیشن بھی شروع کی۔  ماسکو میں گھریلو تشدد کے مظلوم افراد کے حامیوں  کا کہنا تھا کہ لڑکیاں ڈری ہوئی اور ظلم کا شکار تھیں۔ ان کو اس قتل کا ذمہ دار نہیں مانا جانا چاہیے۔

ماسکو بہت دور ہے لیکن وہاں کےاس مسئلے کی پیچیدگیاں پاکستان میں اچھے طریقے  سے تصور کی جا سکتی ہیں۔ پچھلے رمضان میں ہونے والے پاکپتن کے واقعے سے سمجھا جا سکتا ہے۔ گلزار احمد نے غیر قانونی طور پر اپنی بہن کو گولی مار کے ہلاک کیا کیوں کہ اس نے اپنے بھائی کو وقت پر سحری کے لئے نہیں اٹھا یا تھا۔ یہ کوئی غیر معمولی صورت حال نہیں ۔ پاکستان کے اخبارات میں   بیوی ، بہن ، بچیوں کا قتل اتنا عام ملے گا کہ اخبار میں اس کے لئے کوئی  صفحہ یا کونا مختص  کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔  کوئی ان واقعات کو یاد بھی نہیں رکھتا۔ رواں سال مارچ میں کراچی کے میمن گوتھ نے کسی بات پر اپنے بیوی اور بیٹی کو اتنا مارا کہ وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ غیرت کے نام پر جولائی میں ایک بھائی کا اپنی بہن کو مارنا بھی ایسی ہی بھلا دیا گیا۔

کھچاترین بیٹیوں نے قتل  تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اتنے عرصے ظلم کا نشان بنتے بنتے آخر کار انہوں نے اس سے نجات پانے کی ٹھان لی۔ جو وکلا ان سے ملے ان کے مطابق لڑکیوں کو کوئی اور راستہ نظر نہیں آیا ۔ اور یہ ملزمان کے ساتھ اکثر ہوتا ہے کہ وہ سوچتے ہیں کہ اگر وہ بھاگ بھی گئے تو ان کا پیچھا ظلم کرنے والوں سے نہیں چھوٹے گا۔  جب اس واقعہ کے بعد ان کا انٹرویو کیا گیا وہ بہت گھبرائی ہوئی اور شدید صدمے میں تھیں اور ان کو اتنا بھی سمجھ نہیں آرہا تھاکہ اس دن اتنے کم وقت میں کیسے یہ سب ہو گیا۔

ماسکو کی کھچیترین بہنوں نے قتل  ماننے سے انکار کر دیا۔ سالوں کے تشدد  کے بعد انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ اب وہ مزید نہیں سہیں گی۔ ۔ ان وکلاء کے  مطابق جو اس کیس میں ملوث تھے وہ بہت گھبرائی ہوئی تھیں اور ذہنی طور پر اتنی تشویو ناک کہ انہیں لگ رہا تھا کہ کیسے اتنے سے وقت مین اس دن اتنا کچھ ہو گیا۔

اس بارے میں کوئی دو رائے نہیں کہ خواتین کو اپنے اوپر ظلم کرنے والوں کا قتل کرنے کا کوئی حق نہیں۔ لیکن ساتھ ہی معاشرہ جو بھی ہو ماسکو ہو یا پاکستان، کو اس سوال پر غور کرنا چاہیے کہ وہ ظلم کا شکار خواتین کو  ظلم سہتے  ہی رہنے دینا چاہتے ہیں جب تک وہ خود کوئی انتہائی قدم نہیں اٹھا لیتیں یا کوئی ان کو بہتر حل کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ سب یہ تو مانتے ہیں کہ ظلم کرنے والے کو جان سے نہیں مارنا چاہیے لیکن اس بات پر کوئی غور نہیں کرتا کہ تشدد کرنا از خود قابل مواخذہ ہے۔

کسی کے پاس اچھا جواب نہیں صرف کندھے اچکانا، ، سر ہلانا یا افسوس کا اظہار کر دینا کافی سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ میں  ظلم کا شکار  خواتین کے مسئلے پر ڈیفنس  کچھ خواتین کو  خصوصی حالات میں اجازت دیتی ہے کہ وہ یہ بیان بطور حجت بیان کر سکیں کہ خواتین پر ظلم کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے  ایک ایسی سوچ پروان چڑھ چکی ہے  جو انہیں ظلم کرنےو الے کو قتل کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ اس طرح کے بہانے بھی سخت تنقید کا نشانہ بنتے ہیں  کیونکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ملزم   سو رہا ہو یا کسی بے ہوشی کی حالت میں ہو تو اس سے مظلوم کو کسی قسم کے نقصان کا خطرہ نہیں ہوتا۔

کی بد تر حالت کی بیماری کو نظر مین رکھ کر ان کیسوں میں گرفتار خواتین کو اس بات پر بحث کرنے کی ایجاذت دی گئی کہ آخر کن حالات نے انہیں ذہنے طور پر اتنا پریشا کیا کہ انہیں قتل کے علاوہ کوئی راستہ نہ سوجا۔ حتی کہ ہ تحفظ کے اس رد عمل میں بھی انہیں حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مقتول کا نہتہ ہونا اس  دعوے کی نفی کرتا ہے اور یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ واقعہ پوری پلاننگ کے تحت ہوا ہے  اور کسی ہنگامی حالت  میں نہیں ہوا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قتل ارادے کے ساتھ کیا تھا اور ایک حادثہ کا نتیجہ نہیں تھا۔

کسی کو پتہ نہیں پتا  کہ بند دروازے کی پیچھے ہوا کیا ہوتا ہے۔  پاکستان میں یہ بند دروازے خواتین اور بچیوں پر  ہر طرح کے مظالم کی  گنجائش پیدا کر دیتے ہیں۔  آفس میں افسران کے ساتھ بحث ، راستوں میں ٹریفک جام، پوری گول روٹی نہ بنا پانا غرض ایسی کئی وجوہات ہیں جو ایسے مظالم کا باعث بنتے ہیں۔  باقی ہر مسئلہ کے بر عکس اس معاملے کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔ ظالم کا مظلوم کی زندگی پر پورا کنٹرول ہوتا ہے  اور اس کی زندگی خود ایک جرم بن جاتی ہے۔

اس لمحے ، کھچیترین بہنیں اب تک قتل کے الزام میں پھنسی ہوئی ہیں۔گھریلو تشدد کے شکار لوگوں کے حمایتی لوگ ابھی تک اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو پائے ہیں۔ وہ دنیا بھر میں مہمات چلانے اور دستخط لینے کے حوالے سے کوشش کرتے نظر آتے ہیں لیکن  کامیابی کہیں نظر نہیں آتی۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان سب لوگوں کو ایک کھلا سوال سامنے رکھنا چاہیے ۔ سوال یہ ہے کہ بند دروازوں کے پیچھے ہونے والے ان جرائم پانے کے لیے کیا کیا جانا چاہیے؟ اور اس مظلوم کی  کیا حالت  ہے جو بے چارہ کسی کو قتل کیے یا لڑے بغیر اپنا بچاو نہیں کر سکتا؟

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *