پاکستانی تعلیمی نظام، ٹرینڈ، پولیٹکس اور مستقبل کے امکانات

اس وقت یہ بہت لازمی ہے کہ پاکستان میں تعلیمی نظام  کوعمومی لحاظ سے زیر بحث لایا جائے  اور پاکستانی سوسائٹی اور معیشت کی تبدیلی کے معاملے پر غور و خوض کیا جائے۔ اس کی بہت سی وجوہات میں سے ایک  جو اس آرٹیکل میں بیان کی جائے گی یہ ہے کہ  ھائیر ایجوکیشن کمیشن کے بجٹ میں موجودہ حکومت نے کچھ  کمی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اگرچہ فنانس اینڈ ریونیو منسٹر  نے اس خبر کی تردید کی ہے اور دعوی کیا ہے کہ ایک نئے علمی  معاشی اقدام کے تحت رقم بڑھائی گئی ہے لیکن تعلیم کے شعبہ سے جڑے لوگ بہت پریشان ہیں کیونکہ بہت سے جاری تعلیمی منصوبے روک دیے گئے ہیں سکالر شپ سکیمیں ختم کر دی گئی ہے، خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے طلبا کے لیے جو  خصوصی پروگرام شروع کیے گئے تھے وہ کینسل کر دیے گئے ہیں۔ اسی طرح ایچ ای سی کے قیام سے آج تک کے 15 سالہ عرصہ میں اس ادارے کے کردار  کا تنقیدی تجزیہ بھی بہت ضروری ہے۔ حال ہی میں پرویز ہود بھائی نے ایچ ای سی پر زبردست تنقیدی تجزیہ پر مبنی آرٹیکل لکھا ہے جس میں اس  کی کارکردگی کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ یہ ادارہ کیسے تباہ ہوا  اور نتیجتا کیسے پاکستان کا اعلی تعلیم کا نظام ہی متاثر ہو چکا ہے۔ انجم الطاف نے اسی مباحثے میں اضافہ کرتے ہوئے ملک میں سکول کی سطح پر کیپسٹی بلڈنگ  کی ضرورت پر زور دیا  جو کہ صرف تبھی ممکن ہو گا جب سکول ایجوکیشن کو ترجیحی بنیادوں پر بہتر کرنے کا عزم ظاہر کیا جائے گا، ملک کے تعلیمی اداروں کی تعمیرات کو بہتر کرنا ہو گا، اساتذہ کی قابلیت  کو بڑھانے کے لیے پلاننگ کی جائے گی اور  طلبا میں تنقیدی اور تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے کام کیا جائے گا۔  1947 سے  کئی بار کمیشن اور پالیسی سفارشات بنائے گئے جن کا مقصد پاکستان کے تعلیمی نظام کو بہتر کرنا تھا۔ پچھلے کچھ سالوں میں طارق رحمان، شاہد صدیقی، روبینہ سیہگل، اور طاہر کامران جیسے سکالرز نے ان تمام مباحث کا تنقیدی تجزیہ کیا اور متبادل آپشنز بھی تجویز کیں۔

موجودہ مباحثے میں جو چیز مختلف ہے وہ پاکستان کا بدلا ہوا سیاق و سباق ہے۔ کئی دہائیوں کی عقلی بحث کے بعد پاکستانی تعلیمی شعبہ میں ایک قسم کی جدت آئی ہے۔ پاکستانی سکالرز کی ایک بڑی تعداد جنہوں نے بہترین اداروں سے ڈگریاں حاصل کر رکھی ہیں  نے دنیا بھر کی بڑی یونیورسٹیوں میں  جا کر کئی دوسرے شعبوں میں بھی اپنا لوہا منوایا ہے۔ ایچ ای سی کی عجیب و غریب پالیسیوں اور ریاستی جبر کے باوجود  ایسی تنقیدی آوازیں پیدا ہو چکی ہیں جو ملک کی سماجی ، معاشی اور سیاسی مسائل کے حل  کے لیے کوشاں نظر آتی ہیں۔ ۔اس وجہ سے ملک میں پروگریسو اکیڈیمک کولیکٹو (پی اے سی) کے قیام کی راہ ہموار  ہوئی۔ پی اے سی لاہور میں قائم سکالرز کا ایک گروپ ہے جن کا تعلق مختلف پبلک اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں سے ہے  اور جو ایک تنظیم کی شکل میں اکٹھے ہو کر تنقیدی سوچ اپنانے، اور پاکستان کے تعلیمی نظام کے سٹرکچرل مسائل کے حل کے بارے میں تجاویز تلاش کرنے کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔  وسائل کی کمی اور تنظیمی صلاحیت کے فقدان کی وجہ سے  یہ فورم فی الحال صرف لاہور کی یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنے والے سکالرز تک ہی محدود ہے اگرچہ کچھ دوسری یونیورسٹیوں کے اساتذہ بھی پی اے سی سے ایک معاہدہ  کے زریعے اپنے شہروں میں نئے  اور خود مختار چیپٹرز کھولنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔ ان سب  معاملات کے بیچ و بیچ یہ بھی ضروری ہے کہ اعلی تعلیم کے نظریہ پر ایسے نتقیدی  نظرثانی کی جائے کہ اس کا تعلق صرف بجٹ معاملات تک محدود نہ رہے بلکہ دوسرے سٹرکچرل ایشوز کے ساتھ سات اپنی علمی بنیادوں  کو بھی نئے ویژن سے نواز سکے۔

کولونئیل جدیدیت سے پوسٹ کولونئیل نظریاتی  اقدامات

پاکستانی یونیورسٹیوں کو درپیش مسائل  اور چیلنجز پر بات کرنے سے قبل ہمارے علاقے کے  ماڈرن دور میں تاریخی لحاظ سے تعلیمی نظام پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہو گا  جس کی مدد سےہم سیاق و سباق کو بہتر طریقے سے سمجھنے کے قابل ہو ں گے۔ برطانوی سامراج کا بھارت میں داخلہ اس مقصد کے ساتھ تھا کہ غیر یورپی ممالک کو بھی مغربی طرز تعلیم، ماڈرن سائنس اور عقلی فکر کی راہیں کھول کر اپنی تہذیبی برتری ثابت کرنا تھا۔ کولونائزڈ انڈیا اور مغربی جدیدیت کے بیچ کا مقابلہ بہت سے مباحث  اورتحقیقی مطالعات کا موضو بن چکا ہے۔ کچھ اہم  دلائل پر تفصیلات میں جائے بغیر  یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ایک اہم پہلے جسے ہمیشہ نظر انداز کیا گیا ہو  وہ یہ ہے کہ بہت سے دلائل کے پیچھے تعلیم کے بنیادی مفہوم کا ایک فلسفیانہ نظریہ تھا  جو 19ویں صدی کے آغاز سے ہی اکثر حلقوں میں فروغ پا چکا تھا۔ رام موہن رائے کے جدیدیت کی حمایت سے لے کر ڈاکٹرلیٹنر کے علاقائی نظام تعلیم کی بقا کے لیے جدو جہد تک   ہر شخصیت کا بنیادی مقصد بھارتی معاشرے کو بدلنے کی کوششوں کے سامنے بند باندھنے کے لیے بہترین حکمت عملی تلاش کرنا تھا۔ دوسری طرف علما کو بھی ایسی ہی پریشانیاں لاحق تھیں۔ اگر آپ دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ شاہ عبد العزیز  جو  دہلی کے انیسویں صدی کے  سب سے نامور عالم تھے  کو یہ سوال اکثر پوچھا جاتا کہ انگریزی تعلیم حاصل کی جائے یا نہیں۔ عبد العزیز کا یہی جواب ہوتا کہ مسئلہ زبان کا نہیں ہے  بلکہ اس مقصد کا ہے جس کے لیے یہ زبان استعمال کی جا رہی ہے۔

زبان کے معاملے میں جو فنکشنل اپروچ تھی  علما نے اسے علم سے جوڑ دیا جس کی وجہ نظریاتی بنیادوں پر انگریزی زبان کی مخالفت تھی۔ اگرچہ سرسید احمد خان نے اس کے خلاف ایک مہم شروع کی لیکن زبان کے خلاف مخاصمت کا یہ طریقہ 20 ویصدی تک جاری رہا۔ اپنے شاہکار 'بہشتی زیور' میں مولانا اشرف علی تھانوی نے لکھا کہ بچیوں کے لیے جدید تعلیم جائز نہیں کیونکہ یہ انہییں ایمان سے پھیر سکتی ہے۔ اسی لیے بہشتی زیور میں زندگی کے ہر کام جس میں گھر کے کام، ابتدائی تعلیم، کاروبار غرض ہر معاملے کے بارے میں معلومات شامل ہیں تا کہ خواتین گھر کے اندر اپنے آپ کو مقید رکھ کر شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کی عادات اپنا سکیں۔ تھانوی کے آباو و اجداد ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے 1866 میں مدرسہ علما دیوبند قائم کیا تھا۔ مولانا قاسم نانوتوی جو دیو بند کے بانیوں میں سے تھے اور سید احمد خان  دونوں ایک ہی ٹیچر یعنی مولوی مملوک علی تھے۔ لیکن ان دونوں طلبا نے تعلیم کے بارے میں بلکل متضاد اپروچ اپنائی۔ نانوتوی کے مطابق علم کا مقصد ٹراڈیشن کے اندر جا کر کولونئیل جدیدیت کی طرف سے پیش کردہ چیلنجز کا سامنا کرنا تھا۔  لیکن خان کے لیے جدیدیت سے واقفت حاصل کر کے چیلنجز سے نمٹنا بہتر حکمت عملی تھی اور جدیدیت کے فوائد سے بھی بھر پور فائدہ حاصل کرنا بہتر قدم تھا۔

اگرچہ 19ویں صدی میں تعلیم کو بنیادی طور پر مغربی نظریات  کے حصول اور قومی روایات سے جڑے رہ کر کمیونٹی کی اصلاحات کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا تھا  لیکن میس نیشنلزم کی آمد کے ساتھ  یہ رویہ مکمل طور پر تبدیل ہونے لگا۔ اس تحریک کی رہنمائی ان لوگوں نے کی جو خود بھی مغربی طرز تعلیم سے متاثر تھے  اور بہت سے معاملات میں تو میٹروپول نظام کے حامی تھے۔ ان لوگوں میں گاندھی اور محمد علی جوہر جیسے قابل ذکر نام بھی شامل تھے۔ عدم تعاون تحریک جب زوروں پر تھی تو نینشنلسٹ جماعتوں نے اکٹھے ہوکر جامعہ ملیا اسلامیہ کے قیام کے پروگرام کو عملی جامہ پہنایا۔ یہ مدرسہ علی گڑھ کالج جیسے جدید اداروں کا مقابلہ کرنے کے لیے تھا۔ علی گڑھ جیسے ادارے یا تو برطانوی حکومت کے وفادار تھے  یا سیاست سے دوری اختیار کیے ہوئے تھے۔ جامعہ ملیا نیشنلسٹ لوگوں کی کوششوں کا ایک نتیجہ تھا جس کا مقصد تعلیمی نظام کی بنیادوں تک پہنچنا اور اییسے نظریات کو پروان چڑھانا تھا جو مغربی جارحیت کا  مقابلہ کرنے میں مفید ثابت ہوں۔ گاندھی نے علامہ اقبال کو دعوت دی کہ وہ جامعہ ملیہ کی سربراہی کریں  لیکن علامہ اقبال نے اس پراجیکٹ کا حصہ بننے سے معذرت خواہانہ انداز میں انکار کر دیا۔ اسی طرح کا ایک اور منصوبہ رابندرناتھ ٹیگور نے شانتی نکیتن کے قیام کے ذریعے متعارف کروایا۔ اسی طرح مولانا مودودی نے چوہدری نیاز علی خان کے مالی تعاون سے پٹھان کوٹ میں ایک ادارہ قائم کیا جس کا مقصد اسلامی انٹلیکچول ٹراڈیشن میں سرمایہ کاری کے ذریعے مسلمان معاشرے کی تنطیم نو کے لیے ایک نیا ویژن متعارف کروانا تھا۔

اس متنوع اور زرخیز جینیالوجی کی وجہ سے جو چیز حکومت پاکستان نے آزادی کے حصول کے فورا بعد نافذ کرنے کا پروگرام بنایا  وہ بہت ہی مایوس کن تھا۔ سب سے زیادہ فوکس اسلامی تعلیمات اور دو قومی نظریہ پر مبنی نظریہ  کی تعلیم پر تھا۔ پالیسی میکرز نے اس سوال پر توجہ ہیی نہیں دی کہ اسلام  کی نظریاتی بنیاد کس طرح کولونئیلازم اور اس کی تعلیمی ترجیحات میں بدل چکی تھی۔  انکے لیے قابل توجہ صرف یہی چیز تھی کہ ان تعصبات کو کیسے ختم کیا جائے جو مستشرقین نے  جان بوجھ کر پیدا کر دیے تھے۔ ایڈوائزری بورڈ آف ایجوکیشن فار پاکستان کی پہلی میٹنگ میں جو کراچی میں 7 سے 9 جون 1948 میں منعقد ہوئی، کمیٹی کا مشاہدہ کچھ یوں تھا:

ہر ریاست کے تعلیمی نظام کے بنیادی طور پر دو مقاصد ہوتے ہیں۔ ان میں ریاست کے مقدر میں یقین کو پختہ کرنا اور طلبا کو ریاستی نظریات کو قبول کرنے پر مجبور کرنا۔ پاکستان کے ایجوکیشن سسٹم کو ایسا بنایا جائے کہ یہ ایک منظم طریقے سے طلبا کو پاکستان کے مقدر میں یقین کرنا سکھائے اور انہیں یہ یقین دلائے کہ پاکستان عالمی  سطح پر اسلامی دنیا جو تحمل، انصاف اور مساوات کی خصوصیات کی حامل ہو گی کا رہنما ملک کہلائے گا۔ اس تعلیمی نظام کا ایک سماجی مقصد ہونا چاہیے اور یہ ایسی تمام مردانہ تعصبات کا قلع قمع کرے جو صوبائی اور فرقہ وارانہ تعصبات کی راہیں کھولتے ہیں۔

اس وجہ سے نظریاتی تربیت اور شہری بنائے جانے کے دو بڑے مقاصد  1947 کے بعد سے ہر پالیسی بناتے وقت سامنے رکھے جاتے ہیں۔ 1960 کی دہائی میں پاکستان کے نوجوانوں کو کنٹرول کرنے کی پالیسی میں ایک اور پہلو کا اضافہ کیا گیا۔ آج کے دور کی طالب علمی کے زمانہ کی سیاست کے بر عکس اس وقت پاکستانی کیمپسز میں پروگریسو سٹوڈنٹ یونینز کی طرف سے سیاسی طور پر بہت ایکٹو اور محرک کردار ادا کیا گیا۔ ان سیاسی طور پر محرک طلبا کو کاونٹر کرنے کے لیے پاکستانی ریاست نے جماعت اسلامی کے ساتھ پارٹنرشپ کرنے کا فیصلہ کیا اگرچہ ریاست نظریاتی لحاظ سے جماعت اسلامی کے بر عکس نظریات رکھتی تھی۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ریاست نے جماعت اسلامی کی اعلی قیادت کو پراسیکیوٹ کیا۔ لیکن مولانا مودودی کی دلچسپ تحاریر، مارکسسٹ نظریہ کے غلط اور بے معنی خلاصے بائیں بازو کے اثرو رسوخ کو کاونٹر کرنے کے لیے بہترین طریقے سے استعمال کیے گئے۔

عمار جان کے نقطہ نظر کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستنای ریاست ملک کے نوجوان طبقہ کو ایک مسئلہ سمجھتی ہے اور اس کو مکمل کنٹرول میں رکھنے کی حامی ہے۔ بجائے کوالٹی ایجوکیشن کی فراہمی، ایمپاورمنٹ اور سوشو اکنامک موبلٹی کے مسائل پر غور کرنے کی بجائے حکومت نوجوان طبقہ کو ایک ایسا گروپ سمجھتی ہے جس پر ریاست کا کنٹرول ہر حال میں ضروری ہو۔ اس مقصد کے لیے یونیورسٹیوں نے خاص طور پر 1990 کے بعد  ایک جیل خانہ کی شکل اختیار کر لی ہے جہاں مضبوط اعصا ب کے حامل نوجوان لڑکے اور لڑکیاں  صرف ڈگری پروگرام کے لیے قید رکھے جاتے ہیں  لیکن یہاں کسی قسم کی تکنیکی مہارت نہیں سکھائی جاتی اور نہ ہی انہیں حقیقی دنیا کے چیلنجز سے نمٹنے کے قابل بنایا جاتا ہے۔

کولڈ وار کے دوران ایک اضافی چیلنج یہ تھا کہ کیمپسز میں انٹرنمنٹ کی بھی گنجائش نہیں چھوڑی جا سکتی تھی کیونکہ یہ ایک خطرناک عمل ہو سکتا تھا جو  طلبا کو خوفناک ریڈیکل نظریات کے رحم و کرم پر چھوڑنے کےبرابر ہوتا۔  اسلامی جمعیت طلبا جو جماعت اسلامی کا سٹوڈنٹ ونگ تھا کوایک کاونٹر فورس کے طور پر استعمال کرنے کے علاوہ ریاست نے ایک محرک پالیسی اپنائی جسکے تحت کیمپسز کو شہری علاقوں سے باہر نکال کر انہیں شہری زندگی سے دور کردیا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ نئے یونیورسٹی کیمپس بڑے شہروں کے باہر قائم کیے گئے۔ اس کی ایک وجہ یہ بتائی گئی کہ پرانے شہروں میں کیمپسز کےلیے جگہ نہیں ہے اور پالیسی ڈاکومنٹس کے مطابق یہ بھی کہا گیا کہ اس کا مقصد طلبا کو سیاست سے دور رکھنا بھی تھا۔ بیورو آف نیشنل ری کنسٹرکشن جو ایوب خان نے قائم کیا گیا  اور جس کا مقصد پاکستان کو ماڈرنائز کرنا تھا نے یہ تجویز دی کہ ڈھاکہ یونیورسٹی کو شہر سے باہر منتقل کیا جائے۔ جب تک یونیورسٹی کے طلبا ڈھاکہ شہر سے جڑے رہیں گے، اس کا اثر طلبا کی سوچ اور کچھ حکومتی حلقوں کی فیصلہ سازی پر پڑتا رہے گا۔ اس کے نتیجہ میں حکومتی فیصلوں پر نیشنل ویلفئیر کا اثر ورسوخ نہیں ہو گا  اور حکومتی فیصلے سٹوڈنٹ کمیونٹی کی خواہشات کو دیکھتے ہوئے نہیں کیے جائیں گے۔ اس سے بھی زیادہ ظالمانہ اقدام  ایکٹوسٹ طلبا کو ٹارگٹ کرنا، یونیورسٹی سے نکالنا اور جیل میں ڈالنا تھا۔

نظریاتی تعلیمی منصوبے اور کیمپسز کو ایک منظم طریقے سے ڈی پولیٹیسائز کرنے کی وجہ سے پاکستان میں ایک بنجر انٹیلیکچول لائف کا نظام پروان چڑھا۔ 1980 تک جماعت نے کیمپسز پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ اگر طالب علمی کی پروگریسو سیاست کا کچھ بچا تھا تو وہ 1990 کی دہائی میں بلکل ختم ہو گیا۔ جب کولڈ وار ختم ہوتی تو جماعت کی اپنی حیثیت بھی ختم ہونے لگی۔ جیسا کہ امجد علی شاکر نے بتایا، چونکہ جماعت کی انٹلیکچوئل انویسٹمںٹ کا بنیادی مقصد مارکسزم کو شکست دینا تھا اس لیے اس کی حیثیت تیزی سے تنزلی کی طرف جاتی دکھائی دی۔

اب چونکہ مارکسزم سے کوئی خطرہ نہیں تھا اس لیے جماعت کی سیاست  بھی اپنی موت آپ مرنے لگی۔ اس کی خدمات اب بے کار ثابت ہونے لگیں اور اسی طرح کی سیاسی قوت بھی گرتی رہی اور تب سے اب تک مسلسل تباہی کی طرف گرتی رہی ہے۔ اس کا سٹوڈنٹ ونگ اب بھی پنجاب یونیوسٹی میں ایک مفید طاقت کا حامل ہے لیکن اس میں اب وہ والی طاقت نہیں رہی۔ اب اس کے پاس کوئی نظریاتی ایجنڈا بھی نہیں ہے  اور اس کا واحد کام  کیمپس میں خود ساختہ اخلاقی نظم و ضبط کو جبری طور پر نافذ کرنا ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *