جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو بنانے والا شخص گرفتار

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے نے اسلام آباد کی احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کے ویڈیو سکینڈل کی تحقیقات کے سلسلے میں مبینہ طور پر ویڈیو بنانے والے شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔

جج ارشد ملک نے اپنے بیان حلفی میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ میاں نواز شریف کے مقدمے میں فیصلہ اپنے حق میں کروانے کے لیے جس ویڈیو کی بنیاد پر اُنھیں بلیک میل کیا جاتا رہا وہ ویڈیو میاں طارق نے بنائی تھی۔

مبینہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد ارشد ملک کو احتساب عدالت میں کام کرنے سے روک دیا گیا ہے جبکہ سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو اس ویڈیو کے معاملے پر نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے 23 جولائی کو تجاویز طلب کی ہیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ میاں طارق کو ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے بدھ کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ دبئی جانے کی کوشش کر رہے تھے۔

گرفتاری کے بعد ملزم کو اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سول جج نے ملزم کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔

عدالت نے ایف آئی اے حکام کو ملزم کو دوبارہ 19 جولائی کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ حکام سے ملزم کا طبی معائنہ کروا کر اس کی رپورٹ بھی عدالت میں پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔

بی بی سی نے جب میاں طارق کی گرفتاری کے متعلق سائبر کرائم ونگ سے رابطہ کیا تو انھوں نے دعویٰ کیا کہ میاں طارق پہلے سے ہی ایک اور مقدمے میں ایف آئی اے کو مطلوب تھے۔

تاہم جب ان سے اس مقدمے کی تفصیلات پوچھی گئیں تو اُنھوں نے اس بارے میں تبصرہ نہیں کیا۔

جج ارشد ملک

ارشد ملک کو ویڈیو سامنے آنے کے بعد احتساب عدالت کے جج کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے

ویڈیو سکینڈل کیا ہے؟

سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے اسلام آباد کے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ایک مبینہ ویڈیو 6 جولائی کو جاری کی تھی جس میں ارشد ملک کو مبینہ طور پر کہتے ہوئے سنا گیا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں سزا دینے کے لیے ان پر دباؤ تھا۔

مگر بعد میں جج ارشد ملک نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو دیے گئے اپنے بیان حلفی میں میاں طارق کو اس ویڈیو سکینڈل کا مرکزی کردار قرار دیا تھا۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ مریم نواز کی طرف سے ارشد ملک کی جو ویڈیو میڈیا کے سامنے پیش کی گئی تھی اس کا مرکزی کردار میاں طارق تھا یا وہ مبینہ غیر اخلاقی ویڈیو جس سے متعلق احتساب عدالت کے سابق جج کا کہنا ہے کہ میاں طارق اس ویڈیو کو منظر عام پر لانے کی دہمکی دیکر سابق وزیر اعظم کے خلاف دائر ریفرنس میں اپنی مرضی کا فیصلہ چاہتے تھے۔

اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد وزارتِ قانون نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر ارشد ملک کو اُن کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

وزارت داخلہ کے ذرایع کے مطابق احتساب عدالت کے جج کے بیان حلفی کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے میاں طارق کی ریکی کرنا شروع کردی تھی۔

اس کے علاوہ ایف آئی اے کے حکام کو یہ واضح ہدایات جاری کی گئی تھی کہ میاں طارق کسی بھی طریقے سے بیرون ملک فرار نہ ہونے پائیں۔

وزرات داخلہ کے ذرائع کے مطابق ملزم میاں طارق کا نام بلیک لسٹ میں بھی شامل کیا گیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *