عدلیہ کا بحران

جج ارشد ملک کا معاملہ ایک حادثاتی  کامیڈی بن چکا ہے۔ ان کی طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروایا گیا ایفیڈیوٹ  ان کے مشکوک کردار کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ اس سے ہماری ماتحت عدلیہ کی حالت اور طاقت کے سامنے اس کی بے بسی کا بھی اندازہ ہو تا ہے۔ اپنے بیان حلفی میں جج نے اعتراف کیا کہ انہیں بلیک میل کیا جاتا رہا اور شریف خاندان نے انہیں رشوت دے کر خریدنے کی بھی کوشش کی۔ لیکن ن لیگ کی طرف سے پیش کی گئی ویڈیو میں وہ یہ اقرار کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ انہوں نے نواز شریف کو سزا دباو میں آ کر سنائی۔ اگرچہ اس ویڈیو کی کریڈبلٹی کا تعین کرنا باقی ہے  لیکن جج ارشد ملک نے ویڈیو میں موجود شخص سے ملاقات کی تردید نہیں کی ہے۔ یہ پورا معاملہ ایک سکینڈل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اگرچہ جج کو احتساب عدالت سے الگ کر دیا گیا ہے لیکن  ابھی تک جج کے خلاف کوئی ڈسپلنری ایکشن نہیں لیا گیا۔

یقینی طور پر اعلی عدلیہ ان کی قسمت کا فیصلہ کرے گی اور سابق وزیر اعظم کے کیس میں فیصلے پر ان کے فیصلے  کو پرکھے گی۔ البتہ یہ ایک صرف قانونی معاملہ نہیں ہے ۔ یہ سکینڈل ایک سیاسی معاملہ بن چکا ہے جسے اپوزیشن اور حکومت دونوں اپنے مفاد کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور ایک الزامات کا کھیل شروع ہو چکا ہے۔ اس سکینڈل کی وجہ سے پورا احتساب کا عمل مشکوک ہو چکا ہے کیونکہ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ عدالتیں اور ججز ریاستی اداروں  اور امیر اور طاقتور کے سامنے دباو کا شکار ہو جاتے ہیں۔

یہ سچ ہے کہ ہماری عدالتی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ نہیں ہے لیکن چونکہ یہ معاملہ سیاسی لحاظ سے ایک ہائی پروفائل شخصیت سے تعلق رکھتا ہے اس لیے اس کا معاملہ حساس نوعیت کا ہے۔ سیاسی کھینچا تانی کی وجہ سے اس معاملے سے جو عدلیہ کے پورے نظام پر سوال اٹھ رہے تھے وہ اوجھل ہو چکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جج ارشد ملک کا کیس ہمارے عدالتی نظام کے بھدے چہرے کو عیاں کرتا ہے۔ اگرچہ عدالتی نظام پر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے دباو کی باتیں ہمارے ملک میں اکثر سننے کو ملتی ہیں لیکن  قانون کو ہاتھ میں جکڑنے کے لیے طاقت اورپیسے کا بھی استعمال کیا جا تا رہا جس سے ہمارے نظام عدل  اور فئیر ٹرائل کا مذاق بنا یا گیا۔ کچھ متنازعہ ٹرائل بھی ہوئے جن پر بحث و مباحثہ بھی ہوتا رہا لیکن  سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ شریف خاندان نے جج سے کیوں کر روابط بنائے رکھے۔ ایسا لگتا ہے کہ جج ارشد ملک کو معلوم نہیں تھا کہ ان کی ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کی جا رہی ہے۔ ویڈیو ن لیگ کی طرف سے جاری کی گئی۔ اس معاملے پر جامع انکوائری سے اور بہت سے پریشان کن انکشافات سامنے آ سکتے ہیں۔ معاملے پر سیاست نے اسے اور بھی پیچیدہ بنا دیا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ تمام فریقین کا کردار مشکوک ہو جائے گا۔

یہ اکثر کہا جاتا ہے کہ عدلیہ کی اآزادی اور فئیر ٹرائل ایک متھ کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ عدلیہ کو کنٹرول کرنے کی کوشش صرف اسٹیبلشمنٹ اور فوجی حکومتوں کا وطیرہ ہی نہیں رہا ہے بلکہ سویلین حکومتیں  اور سیاسی جماعتیں بھی اپنے مفادات کے لیے عدلیہ کو استعمال کرنے  کی وجہ سے خاص شہرت رکھتی ہیں۔

ایسے کئی واقعات ہیں جن میں اعلی عدلیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بننا پڑا ہے۔ ماضی میں الزامات لگائے گئے کہ ججز نے رشوت لی  یا پھر انہیں دباو کے تحت لا کر فیصلے لیے گئے۔ کچھ ججز نے آن ریکارڈ الزام لگائے کہ خفیہ ایجنسیاں عدالتوں پر سر عام اثر انداز ہوتی ہیں۔ معاملہ صرف ارشد ملک تک محدود نہیں ہے۔ یہ ملک کے عدالتی نظام کا بحران ہے۔ ماضی میں ایسی مثالیں موجودہیں جن میں ججز نے عدلیہ کی خود مختاری کو کمپرومائز کر دیا۔ خود ساختہ جوڈیشل ایکٹوازم اور پاپولازم نے اپیکس کورٹ کے تقدس کو بری طرح پامال کیا ہے۔

کالے کوٹ کے انقلاب کے نام سے شہرت پانے والی وکلا تحریک  جو 2007 میں شروع ہوئی ایک تاریخی جدو جہد تھی۔ اگرچہ یہ پرویز مشرف کی طرف سے افتخار محمد چوہدری کو برطرف کرنے کے فیصلے کے خلاف احتجاج سے شروع ہوئی تھی لیکن بہت جلد یہ جمہوریت کی بحالی کی تحریک میں بدل گئی۔ اس تحریک سے انتطامیہ اور عدلیہ کے بیچ ایک بڑا اور تاریخی خلا پیدا کر دیا۔ اس کی وجہ سے ایک دہائی سے قائم فوجی حکومت کا خاتمہ ہوا اور ملک میں جمہوریت کی واپسی کی راہ ہموار ہوئی۔ جب چیف جسٹس اور دوسرے ججز کو بحال کیا گیا وہ ایک تاریخی لمحہ تھا۔ مزاحمتی عدلیہ نے یہ امید دلائی کہ یہ اپنی خود مختاری کا تحفظ کرے گی اور ملک میں قانون کی حکمرانی کی جنگ جاری رکھے گی۔ لیکن کیا ان لوگوں نے بھی اپنے مفادکے لیے سودا کر لیا؟

تعجب کی بات یہ ہے کہ افتخار چوہدری جو اس مزاحمت کے نتیجہ میں ہیرو بن چکے تھے انہوںنے ہی بحالی کے بعد عدلیہ کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا۔ ان کی پاپولزم اور متکبرانہ رویہ کی وجہ سے عدلیہ اور انتظامیہ آمنے سامنے آ گئے۔ انہوں نے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کرتے ہوئے جوڈیشل ڈیسپوٹزم قائم کرنے کی کوشش کی۔ ان کے کچھ فیصلوں کی وجہ سے عدلیہ کے ادارے اور ریاست کو سخت نقصان پہنچا۔ ان کے بیٹے کے خلاف کرپشن الزامات کے بعد ان کی اپنی ساکھ بھی بہت بری طرح متاثر ہوئی۔ ان کے کچھ اعمال کی وجہ سے عدلیہ کی خود مختاری بھی خطرے میں نظر آنے لگی۔ نظام کی اصلاح کے لیے کوئی قدم نہ اٹھایا گیا۔ کچھ وکلا اور بار کے ممبران جو تحریک  بحالی کے دوران پیش پیش تھے  پر بھی قدامت پسندی کی طرف سفر کے ذمہ دار ٹھہرائے گئے۔ اس طرح وکلا تحریک کے ذریعے جو انقلاب لایا گیا تھا وہ ایک ڈراونے خواب میں بدل گیا۔

جسٹس افتخار چوہدری کی ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ چیف جسٹسز نے کوشش کی کہ وہ نظام میں توازن اور دانشمندی کے عنصر کو واپس لائیں۔ لیکن ان کی ساری کوششیں جسٹس ثاقب نثار نے بے معنی بنا دیں۔ ان کی ایکٹوازم نے چوہدری افتخار کوبھی پیچھے چھوڑ دیا اور ان کی پاپولزم کی کوئی حد نہ رہی۔ ڈیم فنڈ کے لیے ان کا اقدام سبکی کا باعث بنا۔ اپنا ورثہ بنانے کی کوشش میں انہوں نے عدلیہ کی آزادی کو کمپرومائز کر دیا۔ ان کے دور میں خفیہ ایجنسیوں پر عدالتی معاملات میں مداخلت کے الزامات زیادہ معمول بن گئے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی نے آئی ایس آئی پر عوام کےسامنے عدالتی معاملات میں مداخلت کے الزامات لگائے۔ وہ اپنے قدامت پسند نظریات اور کچھ متنازعہ فیصلوں کی وجہ سے شہرت رکھتے تھے۔ ان کے خلاف کافی عرصہ سےمالی بد عنوانی کا ایک کیس چل رہا تھا۔ لیکن یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ انہیں یہ الزامات لگانے کے عوض اپنے عہدے سے ہٹایا گیا۔

ایسا لگتا ہے کہ جسٹس ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ کے بعد سپریم کورٹ میں کسی حد تک حالات معمول کوآ رہے ہیں لیکن مکمل طور پر حالات بدلنے میں وقت لگے گا۔ عدلیہ ایسے ججز افورڈ نہیں کر سکتی جو کسی پاپولسٹ ایجنڈا کے ساتھ کام کرنے کے خواہش مند ہوں۔ اس سے نہ صرف عدلیہ کی ساخت متاثر ہوتی ہے بلکہ یہ جج کی آزادی کو بھی محدود کرنے کا باعث بنتی ہے۔

جج ارشد ملک کے واقعہ کو الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔  اس طرح کے ججز ایک ایسے نظام کی پراڈکٹ ہیں جہاں طاقت ور طبقے عدلیہ کو یرغمال بنا لیتے ہیں اور عدلیہ اپنے اختیارات اور خود مختاری کو قربان کر دیتی ہے۔ اس طرح کا رنگا ہوا عدالتی نظام جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *