ہتھیار ڈال دینا حل نہیں ہے

کئی سال قبل میں نے بینا سرور سے جو ایک صحافی اور ایڈیٹر ہیں، سے  ایک معروف صحافی عزیز صدیقی کے بارے میں ایک کہانی سنی۔ اس وقت عزیز صدیقی ہیومن رائٹ کمیشن کا حصہ تھے۔ معاملات سے پریشان ہو کر (جو اکثر پاکستان میں رونما ہوتے ہیں) بینا نے پوچھا کہ ان کی اور دوسرے صحافیوں کی صحافت، جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے محنت کا فائدہ کیا ہے۔ انہوں نے سر اٹھایا اور کہا: تو کیا کریں؟ ہتھیار ڈال دیں؟

آج بیس سال بعد وہ کہانی ابھی تک میرے ذہن سے اوجھل نہیں ہوئی۔ کیونکہ یہ ایک ایسی یاد دہائی ہے جو ہر وقت قابل عمل رہتی ہے۔ ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کے لیے اس کے علاوہ کوئی حل نہیں بچتا خاص طور پر ایسے لوگوں کے لیے جو پاکستان میں رہتے ہیں اور دوسرے کسی ملک کا پاسپورٹ نہیں رکھتے۔ یہ بھی ایک ایسی کہانی ہے جو آج کل ہر وقت میرے ذہن میں رہتی ہے جب ہمیں بہت سے چلینجز سے نمٹنا ہوتا ہے جن میں مالی اور دوسرے مسائل جو صحافیوں کو درپیش ہوتے ہیں شامل ہیں۔

لیکن یہ حقیقت کہ ہم اکیلے نہیں ہیں حال ہی میں ایک کانفرنس میں سامنے آئی جو میڈیا کی حالت کے بارے میں منعقد کی گئی تھی۔ لندن میں ہونے والی اس کانفرنس دنیا کے اکثر ممالک کے صحافی شامل تھے جو ریاست کے چوتھے ستون پر دباو کی پریشانی میں مبتلا تھے۔ ہر آںے والے مقرر نے جمال خشوگی اور اس کی افسوسناک موت کے بارے میں بات کی جسے ہم بہت جلد بھول چکے تھے۔

یہ حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں پریس کو سخت مسائل کا سامنا ہے۔ امریکہ سے لے کر مڈل ایسٹ تک اور میانمار سے لے کر دنیا کے ہر کونے تک پریس کو چیلنجز درپیش ہیں۔ اس کے مقابلے میں جو مسائل ہمارے ملک میں درپیش ہیں وہ بھی شاید کسی بھی طرح اتنے تکلیف دہ قرار نہیں دیے جا سکتے۔ اگر دوران پروگرام میوٹ کردینا ہمارا بڑا مسئلہ ہے تو ہمیں مصری صحافیوںکے بارے میں سوچنا چاہیے جنہیں قید کر لیا جاتا ہے یا غزہ کے صحافیوں کے بارے میں جنہیں اغوا کیا جاتا ہے ، ان کے بارے میں جو یمن اور شام جیسے مسائل پر رپورٹنگ کی ہمت دکھاتے ہیں اور وہ جو لبنان میں کئی بار جان لیوا حملوں کا سامنا کر چکے ہیں۔ کانفرنس میں ایک لبنانی صحافی بھی شامل تھا جس نے جان لیوا حملے میں اپنا ہاتھ اور ٹانگ کھو دیے تھے۔

وقت آ گیا ہے کہ ہم سب ان بدلتے حالات کو عالمی تناظر میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ اگر ہم اس معاملے میں اختلاف بھی کریں کہ پاکستان کہاں برابر آتا ہے، ہمارے درمیان پولرائزیشن کی وجہ سے درپیش چیلنجز کے معاملے میں رائے عامہ تقسیم ہے لیکن یہ یاد رکھنا بھی کافی ہے کہ ہمارا تجربہ کوئی انوکھی نوعیت کا نہیں ہے۔ جو چیلنجز ہمیں یہاں درپیش ہیں وہ نایاب نہیں  بلکہ دنیا بھر کے صحافیوں کو ان مسائل کا سامنا ہے۔ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ہم ایسے ملک میں رہتے ہیں جو اکثر بیرونی طاقتوں کے نرغے میں رہتا ہے۔

ساوتھ ایشین صحافیوں کے ایک رسمی راونڈ ٹیبل میں ایسی کئی دلچسپ باتیں سامنے آئیں جن سے ثابت ہوا کہ صحافیوں پر مختلف قسم کے ظاہری اور خفیہ دباو ہیں جس کی وجہ سے ان کے لیے اس کی ڈاکیومنٹیشن اور احتجاج بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو تنقیدی آوازوں کو خاموش کرنے کے نئے اور خفیہ طریقے معلوم ہو چکے ہیں جب کہ ہم اس معاملے میں بہت پیچھے ہیں اور اس کی مزاحمت کی سکت نہیں رکھتے۔

ہماری دنیا میں سب سے زیادہ خطرے کی بات یہ ہے کہ ہمارے خطرات قانونی، معاشی اور جسمانی نوعیت کے ہیں۔ اس کانفرنس میں حکومت نے وعدے کیا کہ ایک ایسا فنڈ قائم کیا جائے گا جس سے صحافت کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اور خاص طور پر قانونی طور پر مشکات میں گھرے صحافیوں کو سپورٹ فراہم کی جائے۔ یہ ایک بہت اہم اقدام ثابت ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اب دنیا صحافت کے لیے زیادہ خطرناک بنتی جا رہی ہے اور زیادہ بڑی تعداد میں صحافیوں کو الزامات، ٹرائیل، قید جیسے صعوبتوں کا سامنا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہی ٹرینڈ پاکستان میں بھی چل پڑۓ گا لیکن اس کی وجہ رپورٹنگ کا تحفظ نہیں بلکہ سوشل میڈیا  کو کنٹرول کرنے کے لیے ہو گا۔ نئے قوانین کی مدد سے سوشل میڈیا پر شئیر ہونے والی آراء کو کنٹرول کیا جائے گا۔ یہ صورتحال پہلے سے ہی شروع ہو چکی ہے اور مزید تباہی کی طرف جا رہی ہے۔

لیکن فنڈ کے قیام کا یہ واحد مقصد نہیں تھا۔ اس اربوں ڈالر کے فنڈ کے قیام کے پیچھے جو آئیڈیا تھا وہ یہ تھا کہ پاکستنا میں میڈیا پلیٹ فارمز کو سپورٹ کیا جائے، اچھے صحافیوں کو طاقت بخشی جائے اور ذاتی طور پر صحافیوں کو ابھرنے کا موقع دیا جائے۔ جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے، ذاتی طور پر تو بہت سے صحافی مدد کے حقدار ہیں اور اس اقدام کی حوصلہ افزائی کریں گے  خاص طور پر اس وقت جب انہیں قانونی مشکلات کا سامنا ہو۔ لیکن تفتیشی صحافیوں اورصحافتی اداروں کو سپورٹ کرنا کتنا آسان ہو گا جس کی مدد سے رپورٹنگ کے معیار کو بہتر کیا جائے؟ اگر پاکستان اس معاملے میں کوئی علامات رکھتا ہے تو وہ یہ ہے کہ یہاں نیشنل جرنلزم کے لیے بیرونی مدد کسی صورت قبول نہیں کی جاتی۔ ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جس میں تنہائی پسندی نے انٹرنیشنلزم پر غلبہ حاصل کر لیا ہے۔ اور نیشنلازم اور انسولیرٹی کا بڑھتا ہوا احساس  غیر ملکی شہریوں پر اور ان کے ایجنڈا کو شک کی نظر سے دیکھنے پر ابھارتا ہے۔

پچھلے چند سال سے مختلف وجوہات کی بنا پر ہمارے ملک میں آج کل دوسرے ممالک پر عدم اعتماد اور ان کے پاکستان مخالف ایجنڈا جیسی خبریں بہت عام ہو چکی ہیں۔ مشرف کے بعد کے زمانہ میں یہ صورتحال کافی حد تک سنگین ہو چکی ہے خاص طور پر 9/11 کے واقعہ کے بعد مغربی دنیا سے ہمارے خاص لگاو کے بعد اس طرح کی باتوں میں اضافہ ہو چکا ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے مغربی میڈیا  کی طرف سے پیش کردہ رپورٹس بھی عدم اعتماد  اور شک و شہبات کا اظہار کیا جاتا ہے باوجود اس حقیقت کہ کے وہاں میڈیا پاکستان کے مقابلے میں کافی حد تک آزاد ہے۔ اب ان کی رپورٹنگ اور اس کے پیچھے نیت پر بھی ہمارے ہاں شک کیا جاتا ہے۔ بہت سے ایسے لوگ جو پاکستان کے دوست تصور کیے جاتے تھے ان کے بارے میں بھی اب سوچ بدل چکی ہے۔ اب وہ دن نہیں رہے جب بی بی سی کو قابل اعتماد ادارہ مانا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ یہ ایسا ادارہ ہے جو ایسی چیزیں بھی شائع کرنے کی ہمت رکھتا ہے جو باقی میڈیا نہیں دکھا سکتا۔

اسی سیاق و سباق میں اگر کوئی مسئلہ پاکستان میں رپورٹ کیا گیا ہواور وہ رپورٹ بیرون ملک سے ڈونیشن دے کر لکھوائی گئی ہو تو کیا یہ اس قدر قابل اعتبار ہو سکتی ہے کہ کوئی فرق پیدا کر سکے؟ کیا دوسرے ممالک میں بھی اسی طرح کے جذبات و احساسات پائے جاتے ہیں جہاں میڈیا آزاد نہیں ہے؟ یہ یقین سے تو نہیں کہا جا سکتا لیکن یہ ایک ایسا سوال ہے جو اس وقت تک اٹھایا جاتا رہے گا جب تک جواب نہیں مل جاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ بدلتے وقت کے ساتھ جو مشکل اور پیچیدہ سوالات پیدا ہو رہے ہیں ان کا جواب ڈھونڈا آسان نہیں ہے۔ لیکن ہمیں ہتھیار نہیں ڈال دینے چاہیے۔ لندن میں جو لوگ جمع ہوئے تھے ان کا بھی مقصد یہی تھا۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *