بابو سر سے حویلی لکھا تک !

" نہیں ، یہ چند کلومیٹر کا سفر کم از کم ڈھائی گھنٹوں میں طے ہو گا"
" کیوں ، کیا سڑک خراب ہے؟ "
نہیں ، اصل میں پچھلے تین برسوں سے ایبٹ آباد سے بائی پاس روڈ زیر تعمیر ہے ۔ یہ بن گیا تو یہی راستہ شاید پندرہ منٹ سے بھی کم وقت میں سمٹ جائے "
ہمیں یہ گفتگو اس وقت رہ رہ کر یاد آئی جب ہم لاہور سے حویلی لکھ گئے ۔ جہاں مانگا منڈی ہو یا پھول نگریا پتوکی جیسے چھوٹے موٹے قصبے ، سب بائی پاس کی وجہ سے سفر کرنے میں قطعی رکاوٹ نہیں ڈالتے ۔ اس لیے کہ یہاں کی انتظامیہ کو اس بات کا ادراک ہے سڑکیں جسم میں خون کی نالیوں کی مانند ہیں ۔ ان کی درستگی اور روانی اگر جسم کی زندگی کا باعث ہے تو ملک کی اچھی سڑکیں معیشت میں یہی کردار ادا کرتی ہیں ۔
ہماری یہ گفتگو عزیزم ذیشان کے ساتھ ہو رہی تھی،جو اپنی ٹیوٹا ہائی روف کے ذریعے سے ہمیں ناران سے آگے جھیل لولوسر تک لے کر گئے تھے۔ بلا شبہ یہ یادگار سفرتھا۔ گھر سے روانگی سے قبل ہماری بیٹی رجا کا دعویٰ تھا کہ یہ ٹرپ ہمیں ملائیشیا کی یاد بھلا دے گا۔ رجا کی دلیل یہ تھی پاکستان کے مقابلے میں دنیا میں صرف سویٹزرلینڈ ہی کا لینڈ سکیپ مقابلہ کرسکتا ہے۔ ناران سے جب ہم نے بابوسر ٹاپ تک سفر کیا جو لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے لولو سر جھیل سے کچھ آگے تک محدود رہا تو بلا شبہ ہم وطن عزیز پاکستان کی قدرتی خوبصورتی کے قائل ہو چکے تھے ۔ اس دوران دریائے کنہار کی اٹکھیلیاں ، چشموں کی سرگوشیاں ، آبشاروں کی مستیاں اور مرغزاروں کے درمیان سے جھانکتی برف پوش چوٹیاں۔۔۔۔ قدرت کے بے پناہ حسن کا سحر مسلسل تھا جو ہم پر طاری رہا۔ دانیال ہو یا حرا ، اعزہ ہویا احمد یا جواد ۔۔۔ سب بچے بھی پاکستان کتنا خوبصورت ہے ! کے ترانے گا رہے تھے۔ مگر پھر ایک حادثہ ہو گیا۔
زیر تعمیر ڈیم کی طرف جانے والا ایک ٹرک کچھ اس طرح سے پھسلا کہ اس نے سڑک سو فیصد بلاک کر دی۔ سڑک سات گھنٹوں سے زیادہ بند رہی۔ اور یہ آدھ پون گھنٹے میں کھل سکتی تھی لیکن لوگوں کی بے صبری اور بد نظمی نے اسے عذاب کر دیا۔ تب میں نے کہا کہ کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان کو قدرت نے بے حساب حسن دیا ہے لیکن ہم انسانوں نے بھی اسے بے حساب گہنایا ہے ۔ اور تمیز دار ملکوں نے قدرت کے حسن کی حفاظت ہی نہیں کی بلکہ اس میں اپنا حصہ بھی ڈالا اور اسے شاہکار بنا ڈالا ۔ اور اسی وجہ سے میں ملایشیا کو بھول نہیں پاتا۔
کل جب میں برادرم معروف احمد چشتی کے فارم ہاؤس پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ انھوں نے قدرت کے حسن کی حفاظت بھی کی ہے اور اس میں
قابل قدر اضافہ بھی ۔
ہم لاہور سے تین گھنٹے کے سفر کے بعد ان کے ہاں پہنچے تو کہنے لگے کہ معذ رت خواہ ہوں سڑک کچھ اچھی نہیں تھی۔ کیا آپ کا سفر اچھا رہا؟ ہم نے کہا کہ چند دن پہلے کے پی کے میں سفر کرنے کا اتفاق ہوا۔ موٹر وے ختم ہونے بعد اکثر جگہوں پر سڑکوں کا برا حال تھا۔ اس کے مقابلہ میں ملتان روڈ سے حویلی لکھا تک کی سڑکیں اس سے برعکس نقشہ پیش کرتی ہیں ۔ یہ زیادہ تر ٹھیک اور بہت اعلیٰ کوالٹی کی بنی ہیں اور کہیں کہیں پر ان کو مرمت درکار ہے۔ ان کو ہمارے اس تبصرے پر خوش گوار حیرت ہوئی اور اس بعد خوشگوار حیرت میں مبتلا ہونے کی باری ہماری تھی۔
معروف چشتی صاحب سے اس وقت سے تعلق ہے جب وہ ہمارے میگزین آنکھ مچولی کے مدیر تھے(2001)۔ انھوں نے اپنے تعارف میں ہمیں کبھی نہیں بتایا تھا کہ وہ اتنے بڑے زمیندار ہیں ۔ بس یہ کہا کہ وہ اپنے گاؤں سے لاہورایم اے انگریزی کرنے آۓ ہیں ۔ لکھنے لکھانے کا شوق ہے۔ آنکھ مچولی سے محبت ہے اور کچھ سیکھنا بھی چاہتے ہیں ۔ بس ان کی یہی ادا بھا گئی۔ وہ کامیاب ایڈیٹراورلکھاری بنے ۔ لیکن ایسے بھلے مانس تھے کہ کبھی اپنی سو ایکڑ زمینداری کا تذکرہ تک نہ کیا۔
آنکھ مچولی میرے پاس نہ رہا لیکن میں نے انھیں ہمیشہ اپنے پاس محسوس کیا۔
شاید پچھلے یا اس سے پچھلے برس ندیم اختر صاحب کے ہمراہ ملے تو انھوں نے اپنے باغ کا سرسری انداز میں تزکرہ کیا۔ اسی اثنا میں مجھے اپنے مجوزہ فارم کے سلسلے میں ان سے رہنمائی کا خیال آیا تو وہاں جانے کا پروگرام بن گیا۔ تب مجھے احساس ہوا کہ انسان خوش ذوق اور سلیم الفطرت ہو تو وہ کیسے قدرت کے حسن کو سنبھالتا اور اس میں کیسے اضافہ کرتا ہے۔ مین روڈ سے ان کا رقبہ چند کلومیٹر دور راوی کینال کے ساتھ ساتھ ہے۔ دریائے کنہار تو اونچی آواز میں گاتا شور مچاتا اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا لیکن یہ نہر معروف چشتی کی طرح بڑی عاجزی اور میٹھے مدھم سروں میں خدمت میں مصروف ہے۔ چشتی صاحب نے لیموں، امرود اور جامن کے باغات لگا رکھے ہیں تو تجرباتی طور پر آڑو ، انجیر اور آلو بخارے کے پودے بھی لگائے ہیں جو اب پھل آور ہیں۔ کہنے لگے کہ میں خود اپنی زمین کے لیے کھاد اور سپرے تیار کرتا ہوں تاکہ میری شہد کی مکھیاں اور دوست پرندے اور کیڑے اس سے محفوظ رہیں۔ تب احساس ہوا کہ ان کے ہاں کا شہد شاید دنیا کا خالص ترین شہد ہو۔ سکولوں اور منتخب جگہوں پر مفت پودے اور بڑے درخت لگانے کے لیے ایک نرسری بھی بنائی ہے۔ ہماری تواضع گھر سے بنے کھانے سے کی تو میں حیران تھا کہ ایسا شاندار کھانا تو شاید کسی فائیو سٹار ہوٹل کا بھی نہ ہو گا ۔ اور اس سارے وقت کے دوران اسی طرح رہے جیسے آنکھ مچولی کے دفتر میں میز کے آگے بیٹھے مجھے اپنی ایڈٹ کردہ تحریر دکھا رہے ہوں۔ پھر ان کی تربیت کا راز کھلا جب انھوں بہت محبت اور عقیدت سے اپنے والد محترم کا تذکرہ کیا۔ معلوم ہوا کہ انھی کی ذات تھی جنھوں نے ان کے اندرایک اعلی ظرف انسان، علم وادب اور لکھاری بننے کے خوبصورت اوصاف پیدا کرنے کی پنیری لگا ئ تھی۔ اس سخت موسم میں ذرا بھی گرمی محسوس نہ ہوئی کہ ٹیوب ویل کا پانی ہمیں اپنی ٹھنڈک پہنچاتا رہا۔ ہماری بیگم صاحبہ اور بچے شکوہ کرنے لگے کہ آپ نے ہمیں پہلے یہ جنت نظیر جگہ کیوں نی دکھائی۔
کاش شمالی کے پہاڑ ہوں یا پنجاب کے میدان ، ان کے حسن کو سینچنے والے اکثر معروف احمد چشتی بن جائیں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *