اردو ہے جس کا نام۔۔۔۔

ڈاکٹرعائشہ صدیقہayesha

اگلے دن ایک بلاگ، جس میں مضمون نگار نے اردو زبان کی موت کا ماتم کیاتھا، پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اُس کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ اردو بولنے والوں کی تعداد انگریزی کو ذریعۂ اظہار بنانے والوں کے مقابلے میں کم ہوتی جارہی ہے۔ اس کے نتیجے میں اس کی اصلاح کرنے ،اس کی نوک پلک سنوارنے ،اس کا ذخیرہ الفاظ بڑھانے اور درست لہجے کو عام کرنے کی طرف بہت کم توجہ دی جارہی ہے۔ انگریزی زبان کو حاصل ہونے والے غلبے کی وجہ یہی اقدامات ہیں، لیکن انہیں اردو کو اپنی زبان قرار دینے والے افراد بوجوہ اپنانے سے قاصر رہے۔ میں مضمون نگار سے اس حد تک اتفاق کرتی ہوں کہ آج جو زبان ہمارے ہاں بولی جارہی ہے ، وہ اردو نما کوئی چیز ہے، اردو نہیں ۔ ایف ایم ریڈیو کلچر کا شکریہ ، اس کے نشریے سن کر انسان دنگ رہ جاتا ہے کہ آخر ان صداکاروں کی زبان اور لہجہ کس دبستان کی ٹکسال سے ڈھل کر نکلا ہے۔ انھوں نے زبان کے قواعد (گرائمر) کو یکسر دیس نکالا دے دیا ، چنانچہ اسے درست کرنے کی کوشش بے سودکیونکہ جو چیز موجود ہی نہیں، اس کی اصلاح کیونکر ممکن ہوسکتی ہے؟
اس رویے کی وجہ کیا یہ ہے کہ لوگ اردو کو متاثر کن اظہار کا ذریعہ نہیں مانتے ؟نسبتاً خوشحال درمیانے طبقے اوراشرافیہ نے انگلش کو اپنا لیاہے، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ پر موجود کہ اس کے ذریعے تکلم عام نہیں ۔ بہت سے مخصوص علاقوں میں اردو ہی ذریعہ ٔ اظہار ہے۔ مثال کے طور پر میں بہت سے خوشحال سرائیکی خاندانوں کو جانتی ہوں جواپنے بچوں سے سرائیکی کی بجائے اردو میں بات کرتے ہیں۔ کئی نسلوں سے پنجابی خاندانوں نے اردو کو اپنا لیا ہے۔ جہاں تک اس شکایت کاتعلق ہے کہ کوئی بھی اردو زبان کو خامیوں سے پاک کرنے کی کوشش کرنے کی زحمت کرتا دکھائی نہیں دیتا ، اور شاید اسی وجہ سے بہت سے افراد، جنھوں نے اردو کو ابلاغ کے ذریعے کے طور پر اپنایا تھا، اسے اجنبی زبان سمجھنے لگے۔۔۔ میں ذاتی طور پر سمجھتی ہوں کہ اردو گرائمر اورلہجے کی درستی ہونی چاہیے۔۔۔لیکن میری دانست میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ غیر اردو بولنے والے افراد کی پوری ایک نسل کی جس طرح تضحیک کی گئی اور اُنہیں بارہا یاددلایا گیا کہ اپنے غیر شائستہ لہجے کی وجہ سے وہ اجڈ اور گنوار ہیں؛ چنانچہ اس ناروا رویے کی وجہ سے لوگ اردو کے ساتھ انس پیدا کرنے اور اسے اپنی زبان سمجھنے میں ناکام رہے۔ آج اردو مختلف زبانیں بولنے والے گروہوں کے درمیان ابلاغ کا ذریعہ تو ہے لیکن یہ قومی زبان نہیں ہے۔ لوگ اسے بولتے تو ہیں لیکن اس کا تحفظ کرنے اور اسے بہتر بنانے کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ان کی اپنی زبان نہیں ہے۔
شایداس کی وجہ یہ ہے کہ اردو اُن افراد کی سیاست کا شکار ہوگئی جن کا دعویٰ ہے کہ یہ اُن کی زبان ہے۔ پاکستان کے پالیسی ساز زبان کی اہمیت اور تقدس کا خیال رکھنے میں ناکام رہے ۔ وہ بھول گئے کہ زبان دراصل افراد اور عوام کی اجتماعی شناخت کا ایک ذریعہ ہے۔ بابائے قوم، محمد علی جناحؒ نے مذہبی شناخت کی بنیادپر قومیت کی تشکیل کرنے کی کوشش کی لیکن یہ قوم ایسے افراد پر مشتمل تھی جن کا ایک زبان پر اتفاق نہ تھا۔ شاید کسی نے بھی نوٹ نہیں کیا تھا کہ محمد علی جناحؒ کو ڈھاکہ یونیورسٹی کانووکیشن چھوڑ کر جانا پڑاکیونکہ جب اُنھوں نے اعلان کیا کہ ''پاکستان کی قومی زبان صرف اور صرف اردو ہوگی‘‘ تو وہاں موجودہ طلبہ نے پرزور احتجاج کیا تھا۔ اس کے بعد پالیسی سازوں کی ایک نسل نے اردو کو قومیت سازی کے ایک ہتھیار کے طور پر تو استعمال کیا لیکن اسے اپنانے کی ذمہ داری قبول نہ کی۔ چنانچہ جب انگریزی کی اہمیت بڑھتی گئی تواسے اپناتے ہوئے اردو کو بڑی خوشی سے طاقِ نسیاں پر رکھ دیا گیا۔ اس کے علاوہ لسانی سیاست کے ابتدائی دور میں زبان پر مبنی ایسا کلچر وجود میں آیا جس کا مقصد زبان کے مفاد کی بجائے اس گروہ کی شناخت کا تحفظ تھا۔ چنانچہ لوگ اردو بولتے تو ہیں لیکن اسے اپنا نہیں سمجھتے۔
گزرتے ہوئے برسوں کے ساتھ طاقت ور اشرافیہ کے لیے اردو پڑھنا اور لکھنا دشوار ہوتا گیا۔ مجھے یاد ہے کہ مصنف مشرف علی فاروقی بیان کرتے ہیں کہ کس طرح وہ ایک اعلیٰ انگلش میڈیم سکول کے بچوں کو اردو میں کہانیاں سناتے تھے جو اُنہیں بہت اچھی لگتی تھیں لیکن جب اُن بچوں نے اردو کہانیوں کی کتابیں خریدنا چاہیں تو اُن کے والدین نے اُن کی سخت حوصلہ شکنی کی۔ گزشتہ سال، اسلام آباد کے ایک عمدہ ترین مونٹیسوری سکول ''Mazmoun-e-Shauq‘‘ کو بند کردیا گیا کیونکہ یہ اردو اور انگلش میڈیم تھا جبکہ والدین چاہتے تھے کہ اُن کے بچوں کے ساتھ اردو ہرگز نہ بولی جائے۔ہو سکتا ہے کہ ہمیںکبھی کبھار سیاسی بیانات سننے کو مل جائیں جن میں حکومت کو اردو کے تحفظ کی یاددہانی کرائی جائے ۔ تاہم کوئی بھی ان بیانات کو سنجیدہ نہیں لیتا، اور اس میں صرف حکومت ہی نہیں، عوام بھی قصور وار ہیں۔
کچھ لوگ الزام لگاتے ہیں کہ اس صورت ِحال کی ذمہ داری اردو اور دیگر علاقائی زبانوں کے درمیان ہونے والی کشمکش پرعائد ہوتی ہے، تاہم اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ سندھی، بلوچی یا پشتون تنگ نظر ہونے کی وجہ سے اپنی زبانوں سے وابستہ رہنے پر تلے ہوئے تھے( میں نے اس فہرست میں پنجابیوں کو اس لیے شامل نہیں کیا کیونکہ وہ آزادی کے بعد ابتدائی برسوں میں ہی اپنی شناخت اور کلچر کو قربان کرنے کے لیے تیار ہوگئے تھے)۔ اس کے بعد جب ان قومیتوں کو پیہم احساس دلایا جانے لگا کہ وہ قومی منظر نامے میں ''اجنبی‘‘ ہیں، تووہ رد ِعمل کے طور پر اپنے لسانی اور ثقافتی عقائد کے ساتھ زیادہ شدت سے وابستہ ہوتے گئے۔ میں دور ِجدید میں اردو ادب کے احیاء اور پھیلائو کو قدیم دور کی اردو پر مبنی سیاست اور اردوبولنے والے افراد کی مقامی افراد پر برتری کے حوالے سے ہی دیکھتی ہوں۔
اس کے علاوہ سیاست کے کچھ اور پہلو بھی ہیں۔ ''اردو کی موت‘‘نامی بلاگ، جس کا میں نے مضمون کے شروع میں حوالہ دیا، کا مصنف کہتا ہے کہ لوگ اردو ادب بالکل نہیں پڑھتے اور نہ ہی اُنہیں اس کے مطالب سمجھ میں آتے ہیں۔ چنانچہ جب وہ کبھی منٹوکے افسانے اور فیض کی نظمیں پڑھتے ہیںتواُنہیں زبان متاثر نہیں کرپاتی۔لیکن کیا ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اردو ادب کی کس طرح ایک محدود اور من پسند پیمانے پر تشہیر کی گئی؟آج کا بالائی درمیانہ طبقہ ادب کو شہروں میں ہونے والے ادبی تہواروں کے ذریعے ہی جانتا ہے۔ اگر انگریزی کے مقابلے میں اردواور دیگر علاقائی زبانوں کو دی جانے والی اہمیت بہت کم ہے تو مزید افسوس ناک بات یہ کہ اردو ادب کو بھی صرف چند شعبوں تک محدود کردیا گیا ہے۔ اس میدان میں ہونے والی بحث صرف ان کے گرد ہی گھومتی ہے۔ مثال کے طور پر اردوشاعری اور نثری ادب میں نسائیت کو فہمیدہ ریاض اور کشور ناہید تک ہی محدود کردیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کیایہ تاثر نہیں ابھارا گیا کہ اردو ادب میں انتظار حسین کے علاوہ کوئی اور ناول و افسانہ نگار ہے ہی نہیں یا اردو شاعری فیض کے ساتھ ہی ختم ہوگئی؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سب اردو ادب کے عظیم نام ہیں، لیکن کیا دیگر ناول و افسانہ نگار، شعرا اور نقادوں کے بارے میں جان بوجھ کر خاموشی اختیار نہیں کی جاتی حالانکہ کبھی وہ بھی ادبی مکالمے کا حصہ تھے۔ اب ہر ادبی تہوار میں کچھ مخصوص ناموں کا تذکرہ سنتے سنتے نوجوان نسل اردو ادب کے دیگر بڑے ناموںسے ناواقف ہوتی جارہی ہے۔ ایک وقت تھا جب بہت سی خواتین مصنفین کا نام لیا جاتا تھا لیکن اب کوئی اُنہیں جانتا بھی نہیں۔ ادب کو 1947ء یا بعد میں جنرل ضیاء کے دور تک محدود کردیا گیا، لیکن ہماری تاریخ میں 1971ء کا کرب بھی موجود ہے۔ اب سوال صرف زبان کو اہمیت دینے کا ہی نہیں بلکہ اپنے ادبی تنوع میں قومی حرکیات کا جائزہ لینے کا بھی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *