عمران ٹرمپ ملاقات: امریکی صدر کی کشمیر پر ثالثی کی پیشکش، انڈیا کا انکار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشمیر کے دیرینہ تنازع کو حل کرنے میں کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔

جہاں پاکستان کی جانب سے اس پیشکش کا خیر مقدم کیا گیا ہے وہیں انڈیا نے کشمیر کے مسئلے کے حل میں کسی تیسرے فریق کو شامل کرنے کے امکان کو رد کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ پیشکش پیر کو پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے موقع پر کی۔

'میں دو ہفتے قبل انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ تھا اور ہم نے اس موضوع پر بات کی جس پر انھوں نے کہا کہ کیا آپ اس معاملے پر ثالث بننا چاہیں گے؟ جواب میں میں نے پوچھا کہاں؟ تو انھوں نے کہا کشمیر۔ کیونکہ یہ معاملہ کئی سالوں سے چل رہا ہے، میرا خیال ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ حل ہو جائے، کیا آپ بھی چاہتے ہیں کہ معاملہ حل ہو جائے؟ اگر میں مدد کر سکوں تو میں بخوشی ثالث کا کردار نبھانے کے لیے تیار ہوں۔ اگر میں کوئی مدد کر سکتا ہوں تو مجھے ضرور بتائیں۔'

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ اور انڈین وزیر اعظم مودی کی ملاقات گذشہ ماہ جاپان میں جی 20 کے موقع پر اوساکا شہر میں ہوئی تھی۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے کی گئی پیشکش پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ صدر ٹرمپ مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور انڈیا کے مابین ثالثی کا کردار ادا کریں اور (عمران خان) وہ اپنی جانب سے انڈیا کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی کوشش کر چکے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستانی قوم کی دعائیں صدر ٹرمپ کے ساتھ ہوں گی اگر وہ مسئلہ کشمیر حل کرا سکیں۔

انڈین رد عمل

صدر ٹرمپ کی جانب سے دیے گئے بیان پر انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا کہ ’انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ایسی کوئی درخواست نہیں دی گئی کہ امریکہ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کرے اور اس معاملے پر انڈیا کی مستقل پوزیشن یہی رہی ہے کہ پاکستان سے مذاکرات اسی وقت ممکن ہوں گے جب وہ سرحد پار ہونے والی دہشت گردی ختم کرے۔‘

دو حصوں پر مشتمل اپنی ٹویٹ میں انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور انڈیا کے مابین تعلقات دو طرفہ نوعیت کے ہیں اور ان کو حل کرنے کے لیے شملہ معاہدہ اور لاہور اعلامیہ موجود ہیں۔‘

ٹوئٹر

ادھر انڈین کشمیر میں سیاسی جماعت جموں اینڈ کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب ٹویٹ کے ذریعے صدر ٹرمپ کے بیان کا خیر مقدم کیا گیا ہے اور کہا گیا کہ وہ اس مثبت قدم کو خوش آمدید کرتے ہیں جس کی مدد سے خطے میں مستقل امن قائم ہو سکتا ہے۔ تاحال انڈیا کی جانب سے مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے وزیر اعظم مودی کی جانب سے صدر ٹرمپ کو دخواست کے بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حل میں کردار ادا کرنے کی پیشکش کو امریکی پالیسی میں ایک تبدیلی کے طور پر دیکھا جائے گا کیونکہ امریکہ کا اس بارے میں ایک عرصے سے یہ موقف رہا ہے کہ یہ ایک دو طرفہ مسئلہ ہے جو دونوں ملکوں کو باہمی سطح پر حل کرنا چاہیے۔

صدر

افغانستان میں امن کا معاملہ

صدر ٹرمپ نے افغانستان میں بھی پاکستان کے کردار کی تعریف کی ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان اس وقت افغانستان میں ہماری بہت مدد کر رہا ہے۔‘

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ، پاکستان کے ساتھ کام کر رہا ہے اور خطے میں پولیس مین بننا نہیں چاہتا۔'

'اگر میں چاہتا تو یہ جنگ میں ایک ہفتے میں جیت جاتا مگر میں ایک کروڑ لوگوں کو ہلاک کرنا نہیں چاہتا۔ ورنہ افغانستان صفحۂ ہستی سے مٹ جاتا۔ مگر میں وہ راستہ اپنانا نہیں چاہتا۔'

عمران خان نے اس موقع پر کہا کہ افغانستان کے مسئلہ کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے مسئلے کا صرف ایک ہی حل ہے اور طالبان سے امن معاہدہ کبھی بھی اتنا قریب نہیں تھا۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں پاکستان طالبان پر مذاکرات جاری رکھنے کے لیے زور دے گا۔

اس سوال پر کہ وہ پاکستان کا دورہ کب کریں گے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انھیں تاحال اس دورے کے لیے کوئی دعوت نہیں ملی۔

صدر ٹرمپ نے عمران خان سے ملاقات میں مزید کہا کہ امریکہ پاکستان میں تجارت کرنے اور سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے اور تجارتی حجم کو ’دس سے بیس گنا‘ بڑھانا چاہتا ہے۔

صدر

وزیر اعظم عمران خان سے اس موقع پر پاکستان میں آزادی صحافت کے بارے میں سوال کیا گیا جس پر انھوں نے کہا کہ 'مجھے پاکستان میں پریس جتنی تنقید کا نشانہ بناتا ہے اتنا آج تک کبھی کسی کو نہیں نشانہ بنایا گیا۔‘

اس پر صدر ٹرمپ جواباً کہتے ہیں کہ 'یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ آپ کے ساتھ میرے ساتھ ہونے والے سلوک سے زیادہ برا کیا گیا ہو گا۔'

اس سے قبل وزیر اعظم عمران خان کے وائٹ ہاؤس پہنچنے پر صدر ٹرمپ نے ان کا استقبال کیا جس کے بعد میڈیا کی موجودگی میں مختصر گفتگو کے دوران امریکی صدر نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کو انتہائی خوشگوار دیکھ رہا ہوں، امید ہے ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری آئے گی۔

یاد رہے کہ امریکی وزارت دفاع پینٹاگون نے کہا ہے کہ پاکستان کی فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ اور امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل جوزف ڈنفور کے درمیان ملاقات پیر ہی کو متوقع ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان اور امریکی فوج کے سربراہوں کے درمیان ان معاملات پر تفصیل سے بات ہو گی اور ان پیچیدہ مسائل کا حل ڈھونڈنے کے لیے لائحہ عمل طے کیے جانے کی توقع ہے۔‘

صدر

’پاکستان کی سفارتی کامیابی‘

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اور صدر ٹرمپ کی ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے واشنگٹن ڈی سی میں جارج میسن یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر احسن بٹ کا کہنا تھا کہ انھیں نہیں لگتا کہ مسئلہ کشمیر پر صدر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش پر کوئی پیشرفت ہو سکے گی۔

'سب سے بڑی وجہ تو یہ ہے کہ انڈیا نے اس معاملے پر کبھی بھی تیسرے فریق کو شامل کرنے کی اجازت نہیں دی اور بحیثیت زیادہ طاقتور فریق، ان کی اجازت کے بغیر کوئی اور ثالثی کرنے نہیں آ سکتا۔'

پروفیسر احسن بٹ نے کہا کہ انڈیا کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے جواب میں فوراً صدر ٹرمپ کے بیان کی تردید کی گئی ہے کہ وزیر اعظم مودی نے کسی قسم کی کوئی ثالثی کی درخواست کی تھی اور جس رفتار سے یہ تردید سامنے آئی ہے، وہ کافی معنی خیز ہے۔

ملاقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے پروفیسر احسن نے کہا کہ مجموعی طور پر یہ بہت اچھی گئی اور پاکستانی حکومت کی توقعات اس ملاقات سے پوری ہوئی ہوں گی۔

'اگر کشمیر پر ثالثی کا معاملہ آگے نہ بھی بڑھے، تو بھی یہ حقیقت ہے کہ صدر ٹرمپ نے اس بارے میں بات کی، اسے پاکستان اپنی سفارتی کامیابی سمجھے گا۔'

انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو امریکہ سے ماضی کی طرح کوئی لیکچر نہیں ملا اور نہ ہی 'ڈو مور' کا پیغام دیا گیا۔

'صدر ٹرمپ نے پاکستانی حکومت، عمران خان اور پاکستانی عوام کے بارے میں اچھے کلمات کہے اور اس سے لگتا ہے کہ ملاقات اچھی گئی۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس ملاقات کے بعد واقعتاً کچھ ہو گا یا نہیں لیکن مجموعی طور پر یہ بہت خوشگوار ملاقات تھی۔'

صدر

’یہ دورہ عمران خان کے لیے کافی کامیاب جا رہا ہے‘

صدر ٹرمپ اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی ملاقات پر جان ہاپکنز یونیورسٹی کے پروفیسر جوشوا وائٹ کہتے ہیں کہ یہ واضح ہے کہ صدر ٹرمپ ماضی میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان ثالثی کرانے کی ناکام امریکی کوششوں سے مکمل طور پر ناواقف ہیں۔

'اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان صدر ٹرمپ کے بیان سے خوش ہو گا لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اس بیان کے بعد کسی قسم کی کوئی پیش رفت ہو۔'

بی بی سی سے جوشوا وائٹ نے کہا کہ اگر اس ملاقات کا کوئی فائدہ ہو سکتا ہے تو وہ یہ کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان بگڑتے ہوئے تعلقات دوبارہ بہتری کی جانب بڑھ سکتے ہیں اور یہ نظر آ رہا ہے کہ ماضی میں صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی پالیسی اب تبدیل ہو گئی ہے اور افغانستان میں امن کا قیام امریکی ترجیحات میں شامل ہو گیا ہے۔

'میرا خیال ہے کہ یہ دورہ عمران خان کے لیے کافی کامیاب جا رہا ہے۔ '

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *