’موسیقی سرجری سے پہلے اعصاب کو پرسکون کر سکتی ہے‘

امریکی محققین کا کہنا ہے کہ آپریشن سے پہلے ’دنیا کا سب سے آرام دہ گانا سننا‘ ایسے مریضوں کے اعصاب کو پرسکون رکھنے کے لیے اچھا ہو سکتا ہے۔

اس گانے کا مقصد پریشانی، بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن کو کم کرنا ہے۔ 157 افراد پر مشتمل اس کی کارکردگی اتنی ہی موثر تھی جتنی سکون پہنچانے والی گولیوں کی ہوتی ہے۔

لیکن مریضوں کا کہنا ہے کہ انھیں اپنی مرضی کی موسیقی منتخب کرنے کا اختیار ہونا چاہیے۔

ڈاکڑوں کا کہنا ہے کہ شور کو منسوخ کرنے والے ہیڈ فونز نے مواصلات کو مشکل بنا دیا۔

گٹار

یونیورسٹی آف پینسلوینیا کے محقیقین نے جریدے بی ایم جے میں لکھتے ہوئے کہا کہ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا موسیقی کس طرح مریضوں پر اثر ڈالتی ہے اس کے نتیجے میں ان پر کیا فرق پڑتا ہے۔

ان مریضوں کو ان کے جسم کے ایک حصے کو سن کرنے والی دوا کے ساتھ میڈازولم نامی بے ہوشی کی دوا پلائی گئی یا برطانوی بینڈ مارکونی یونین کا گانا تین منٹ تک چلایا گیا۔

بانسری

محقیقین کے مطابق دونوں گروپوں کے مریضوں کی ذہنی پریشانی ایک ہی سطح تک کم ہوئی۔

’خوشی کے راستے‘

لیکن یونیورسٹی آف پینسلوینیا کے محقیقین کا کہنا ہے کہ نشے کو کم کرنے والی دوائیاں جو ذہنی پریشانی کو کم کرتی ہیں ان کا سائیڈ ایفیکٹ ہو سکتا ہے اور اس کے لیے ڈاکڑوں کی مسلسل نگرانی کی ضرورت ہے۔

یونیورسٹی آف پینسلوینیا پیرویلمین سکول آف میڈیسن کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر وینا گراف کا کہنا ہے ’موسیقی دماغ کے جذباتی علاقے کو روشن کر دیتی ہے، دی ریوارڈ سسٹم اور خوشی کے راستے۔‘

’اس کا مطلب ہے کہ ایسے مریض اپنی دنیا میں ہو سکتے ہیں، وہ پرسکون ہو سکتے ہیں اور مکمل کنٹرول رکھتے ہیں۔

William

موسیقی دوا میں کس طرح استعمال کی جاتی ہے؟

موسیقی کئی سالوں سے دوا میں ایک انمول آلا ہے۔

دماغ کی سرجری کے دوران اسے موسی اور انا مری جیسے مریضوں میں دماغ کے کام کی نگرانی کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

موسیقی شفا بخش سکتی ہے۔ جسم اور دماغ میں کو کئی طریقوں سے تحریک پیدا کر سکتی ہے لیکن سائنسدانوں کو ابھی تک سمجھ نہیں آتا کہ کس طرح سے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *