اے پی سی سے پیدا ہونے والے امکانات

Najam Sethiوزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت ہونے والی اے پی سی، جس میں یہ طے کیا جانا تھا کہ پاکستانی طالبان سے کیسے نمٹا جائے، گزشتہ سوموار جس ”نتیجے “ پر اختتام پذیر ہوئی اس پر کسی کو حیران نہیں ہونا چاہئے۔ ایسا لگتا ہے کہ سیاسی قیادت دفاعی اداروں کو قائل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے کہ طالبان کے ساتھ ”پُرامن مذاکرات“ کو ایک موقع دیا جائے ، حالانکہ اس طرح کی گزشتہ نو کوششیں رائیگاں گئی ہیں اور طالبان غیر مسلح نہیں ہوئے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پی ایم ایل (ن) کی حکمت ِ عملی کیا ہے ؟اور یہ اے پی سی اُس کانفرنس سے کیسے مختلف ہے جو پی پی پی حکومت نے گزشتہ سال اے این پی اور جے یو آئی کے مشورے سے منعقد کی تھی؟جب گزشتہ تمام اے پی سی، جن کو پی ایم ایل (ن) کی حمایت بھی حاصل تھی، نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکیں تو یہ موجودہ اے پی سی سے کون سا مورچہ فتح ہو جائے گا؟
یہ بات درست ہے کہ پی ایم ایل (ن) اپنی حکومت کے آغاز سے ہی دہشت گردی کے معاملے پر توجہ دے رہی ہے جبکہ پی پی پی نے اپنے پانچ سال کے دوران اتنی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔ اس لئے ہم یہ توقع کرنے میں حق بجانب ہیں کہ اس ضمن میں کچھ پیشرفت دکھائی دے گی۔ یقینا نواز شریف کی زیادہ تر توجہ معیشت کی بحالی پر ہے لیکن معاشی سرگرمیوں کے لئے امن اور قانون کی حکمرانی درکار ہے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ طالبان رہنماؤں نے کسی حد تک نواز شریف پر اعتماد کا اظہار کیا تھا جبکہ گزشتہ دور میں وہ پی پی پی اور اے این پی کے رہنماؤں کے جانی دشمن تھے۔ یہ بھی اچھی بات ہے کہ آخرکار عمران خان نے پی ایم ایل (ن) کے حکمت ِ عملی کی حمایت کردی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو طالبان بات چیت کیلئے تیار ہیں ان سے بات کرنے کے لئے مختلف پلیٹ فورم استعمال کئے جائیں لیکن جو ہتھیار نہ ڈالیں، ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ طالبان اور عمران خان کو خوش کرنے کیلئے اے پی سی میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ یو این کے ذریعے امریکہ پر دباؤ ڈالا جائے گاکہ وہ وزیرستان میں ڈرون حملے روک دے۔
اس سلسلے میں کچھ اور بھی حوصلہ افزا خبریں ہیں۔ وزیراطلاعات سینٹر پرویز رشید نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کچھ طالبان گروہوں کے ساتھ بات چیت کا عمل شروع ہو چکا ہے اُنہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ جرگوں کے ذریعے طالبان کو قائل کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور ریاست ِ پاکستان کے خلاف جنگ ختم کرنے کا اعلان کریں تاہم ہم یہ بات بھی جانتے ہیں کہ طالبان کے اپنے گروہوں کے درمیان اتفاق ِ رائے نہیں پایا جاتا ۔ ان میں سے کچھ حکومت ِ پاکستان کے ساتھ بات کرنا چاہتے ہیں جبکہ کچھ امن کے مخالف ہیں۔ یہ بھی اچھی بات ہے کیونکہ اس سے بھی طالبان کمزور ہوں گے۔ آخر میں چوہدری نثار علی خان نے وضاحت کی ہے کہ مذاکرات میں اتار چڑھاؤ آئیں گے اور یہ ایک طویل عمل ہو گا لیکن اسے جاری رکھا جائے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت اس بات کا فیصلہ کر چکی ہے کہ امن کے لئے ہر ممکن حد تک مذاکرات کریں گے اور امن کو پورا موقع دیا جائے گا لیکن اگر تمام کوششیں ناکام ہوجائیں تو پھر طالبان کو مورد ِ الزام ٹھہراتے ہوئے بھرپور فوجی ایکشن کیا جائے گا۔ بہرحال اس بات کا فیصلہ تو وقت کرے گا کہ حکومت کس حد تک جاسکتی ہے اور کہاں اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے۔
یہ بات بھی یقینی ہے کہ فی الحال طرفین مذاکرات کے مثبت نتائج کے بارے میں بہت پُرامید نہیں ہیں۔ ہم اس وقت یہ توقع نہیں کر سکتے کہ طالبان ہتھیار ڈال کر امن کے گیت گانے لگیں گے اور نہ ہی طالبان کو توقع ہے کہ حکومت پاکستان ان کی ہر بات مان لے گی… جیسا کہ ان کی مرضی کی شریعت کا نفاذ اور اس بات کی ضمانت کہ امریکہ اپنے ڈرون حملے مکمل طور پر روک دے گا تاہم کم از کم یہ تو ہواہے کہ سنجیدگی سے گفتگو کا آغاز کر دیا گیا ہے اور ہو سکتا ہے کہ سیز فائر بھی دیکھنے میں آئے۔ اس دوران ہو سکتا ہے کہ فوجی آپریشن کو روک دیا جائے اور دوسری طرف طالبان بھی خود کش حملہ آور بھیجنا بند کر دیں تاہم اس بات کا اطلاق ان طالبان پر ہو گا جو امن چاہتے ہیں لیکن کچھ دھڑے ایسے بھی ہیں جو ہر صورت میں جنگ چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کے خلاف ایکشن جاری رہے گا۔ اس لئے ہم آنے والے دنوں میں امن اور جنگ دونوں پہلو ساتھ ساتھ دیکھیں گے۔ اگراگلے چھ ماہ کے دوران امن میں پیشرفت دکھائی دی تو یہ عمل جاری رہے گا، اگر ایسا نہ ہوا تو پھر ریاستی طاقت استعمال کرنے کے سوا کوئی چارا نہیں ہوگا۔
ہو سکتا ہے کہ پی ایم ایل (ن)کی حکومت کا دہشت گردی کے خلاف شروع کئے جانے والے اقدامات طالبان کو القاعدہ اور فرقہ وارانہ قوتوں سے الگ کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ اس سے تمام دھڑے کمزور ہو جائیں گے ۔ اس کے علاوہ جرائم پیشہ عناصر بھی ان کی چھتری تلے پناہ نہیں لے سکیں گے۔ اس سے علاقے میں دیرپاامن کا خواب شرمندہٴ تعبیر ہوسکتا ہے تاہم یہ ایک پیچیدہ حکمت ِ عملی ہے اور اس کی راہ میں بہت سی مشکلات حائل ہیں۔ چنانچہ طاقت اور امن، دونوں کا استعمال کرنا ہوگا۔ اس کے لئے معاملہ فہمی کے ساتھ ساتھ قوت ِ فیصلہ کی بھی ضرورت ہے۔ ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں اور فوجی قیادت ایک ہی پچ پر ہوں۔ ایک اچھی پیشرفت ہے کہ عمران خان بھی طالبان کے حوالے سے مثبت اور عملی رویہ ظاہر کررہے ہیں۔ یہ بات بہت اہم ہے کیونکہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔ ایک حقیقت بہت اہم ہے… پُرامن مذاکرات کے لئے ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ یہ عمل اگلے سال ، جب امریکی افواج افغانستان سے اپنا انخلا مکمل کریں، تک طے پاجانا چاہئے۔ اس دوران اگر پاکستان افغان طالبان اور پاکستان طالبان کے ساتھ نہ نمٹ سکا تو ہمارے سامنے آگ کا سمندر ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *