کیا عدالتی اصلاحات کا وقت آن پہنچا ہے؟

" فرحت اللہ بابر "

حال میں دو ایسے واقعات ہوئے ہیں جو ہمارے ملک کے ٹوٹے پھوٹے عدالتی نظام  کی حالت پر مدھم سی روشنی ڈالتے ہیں  اور ایک بار پھر عدالتی نظام میں بہتری کی فوری ضرورت کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ پہلا واقعہ سابقہ چیف جسٹس کے فیصلے کے خلاف آنے والا فیصلہ تھا جس سے پاکستان کو 6 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ یہ اتنی ہی بڑی رقم ہے جتنی پاکستان کو اتنی مشکلات کے بعد آئی ایم ایف سے قرض کی صورت میں ملی۔ انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹ کے ادارے نے پاکستان کو تاریخ کی سب سے بڑی مالی سزا دی کیونکہ پاکستان نے ایک غیر ملکی کمپنی ٹیتھیان کاپر کمپنی سے ایک کمرشل معاہدہ سپریم کورٹ کے حکم پر منسوخ کر دیا تھا۔ اس سے قبل ایک ترکش کمپنی کارکی کے رینٹل پاور پراجیکٹ کے معاملے میں بھی پاکستان کو 900 ملین ڈالر جرمانہ ہوا تھا اور اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ سپریم کورٹ نے معاہدہ منسوخ کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہاں یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ عدالت نے ایک اسلام آباد کے اخبار کی رپورٹ پر رینٹل پاور پراجیکٹ کے معاملے میں سو موٹو ایکشن لیا تھا۔ نتیجہ کے طور پر 30 مارچ 2012 کو سپریم کورٹ نے تمام رینٹل پاور پراجیکٹس کو غیر قانونی قرار دیا اور نیب کو معاہدہ کرنے والوں کے خلاف کاروائی کا حکم دے دیا۔

حیرت کی بات ہے کہ اس کے وقت کے نیب پراسیکیوٹر جنرل کے کے آغا جو اب خود ریفرنسز کا سامنا کر رہے ہیں  نے کارکے کمپنی کے ساتھ سیٹلمنٹ کرنے کی کوشش کی لیکن اپیکس کورٹ نے نیب کو اس اقدام سے روک دیا۔ بعد میں ایک انٹرنیشنل فرم ایلن اینڈ ایوری  کو ہائر کر کے کرپشن کا پتا لگانے کی کوشش کی گئی جو کوئی ثبوت نہ دھونڈ پائے۔

اس سے سوال اٹھنے لگے ہیں کہ مشکل اور پیچیدہ معاملات میں عدالتیں کیوں کر ہاتھ ڈال دیتی ہیں  اور خاص طور پر ایسے معاملات پر سو موٹو ایکشن کا سہارا کیوں لے لیا جاتا ہے؟

دوسرے واقعے کا تعلق اس ویڈیو سے ہے جو احتساب عدالت کے جج کی حال ہی میں سامنے آئی ہیں۔ اس جج نے نواز شریف کو سزا سنائی تھی۔ ویڈیو آنے کے بعد احتساب عدالت کے جج نے ایک بیان حلفی میں اقرار کیا کہ انہیں بلیک میل کرنے کی کوشش کی گئی۔

اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ جج کو کس نے بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کسی نے ججز کو بلیک میل کرنے کی حقیقت میں کوشش کی  اور اس مقصد کے لیے ملتان ویڈیو کا سہارا لیا گیا۔ ظاہری طور پر لگتا ہے کہ بلیک میلنگ کی اس کوشش کا اعلی عدلیہ کے نگران جج جس کا کام کیس کی کاروائی پر نظر رکھنا تھا کو معلوم نہیں تھا۔ اس کا انکشاف مریم نواز کی ایک پریس کانفرنس کے ذریعے کیا گیا۔ اس سے بھی بری بات یہ کہ الزامات کی تحقیقات کرنے کی بجائے ٹی وی چینلز جنہوں نے پریس کانفرنس دکھائی تھی کو سزا دی گئی اور ان کی نشریات معطل کر دی گئیں۔

اب معاملہ کورٹ میں ہے اور اس کے بارے میں تجزیے کرنا درست اقدام نہیں ہو گا۔ البتہ احتساب جج  نے جو بیان حلفی دیا ہے اس نے کچھ اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں جو ایک عرصہ تک پاکستان کے کریمنل جسٹس سسٹم، ججز کی تقرریوں کا طریقہ کار اور محافظ کے تحفظ کے نظام کا پیچھا کرتے رہیں گے۔ ابھی تک جو سوالات اٹھے ہیں ان پر قابل یقین اور دیانتدارانہ جواب دینا ہوں گے۔ صرف جج کو ٹرانسفر کر دینے اور اس کی سیٹ بدلنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

وزیر اعظم اکثر پاکستانی مافیہ کا ذکر کرتے ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ مافیہ نے سسیلین مافیا کی طرح رشوت، دھونس اور بلیک میل کے طریقے اختیار کر کے اداروں کو دباو کا شکار بنایا ہے۔ ایک آزاد عدلیہ کے لیے اس مافیہ کو ایکسپوز کرنا اور سزا دینا بہت ضروری ہے۔ اس کے بغیر ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سو موٹو اختیارات اور ججز کی سلیکشن کے معاملے میں فوری طور پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

بینچ میں موجود ایک جج سے سوال اٹھایا کہ سو موٹو ایکشن کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن جب انہیں چیف جسٹس کے عہدے پر لایا گیا تو ان کی اس معاملے میں اصلاحات لانے کی خواہش مدھم پڑھ چکی تھی۔ مثال کے طور پر ثاقب نثار نے اپریل 2014 میں سو موٹو اختیارات کے لیے پیریمیٹر  طے کرنے کا  عہد کیا تا کہ ماضی کی غلطیوں کو درست کیا جا سکے۔ لیکن جب وہ چیف جسٹس بنے تو ان کا رویہ بلکل ہی بدل چکا تھا۔ ان کے ایک بینچ کے سامنے ایک کیس میں جب جسٹس فائز عیسی نے سوال اٹھایا کہ سو موٹو ایکشن کیسے لیا گیا ہے تو ثاقب نثار نے فوری طور پر بینچ سے علیحدگی اختیار کر لی۔ کچھ دیر بعد انہوں نے نیا بینچ تشکیل دیا اور اس میں فائز عیسی کو شامل نہیں کیا گیا۔

ایسا لگتا ہے کہ سپریم کورٹ نے اکثر از خود نوٹس غور و خوض کے بغیر متنازعہ طور پر لیے ہیں اور آئینی طور پر دیے گئے اختیارات کا خیال نہیں رکھا گیا۔ یہ بھی نہیں دیکھا گیا کہ اس طرح کے اختیارات کو استعمال کرتے وقت سپریم کورٹ ایک ٹرائل کورٹ کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔ درست طریقہ اختیار نہ کرنے کا معاملہ بھی زیادہ سنگین ہو جاتا ہے جب عدالت ایسے معاملات میں مداخلت کرتی ہے جن سے نمٹںے کی خصوصی اہلیت اسے حاصل نہیں ہوتی۔

سو موٹو ایکشن کی ریگولیشن بھی ایک بہت اہم مسئلہ ہے جس کا تعلق ججز کے اختیارات سے ہے۔ بہترین اقدام یہ ہو گا کہ صرف ججز ہی یہ فیصلہ نہ کریں بلکہ ایسے کسی بھی فیصلے میں پارلیمان کو بھی کردار ادا کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔

جج کے بیان حلفی سے اندازہ ہوتا ہے کہ ججز کو کس میرٹ پر بھرتی کیا جاتا ہے۔ آرٹیکل 175 اے کے ذریعے اٹھارہویں ترمیم نے پارلیمان کو ججز کی سلیکشن میں خفیف سا کردار دیا ہے۔ لیکن اس پر سپریم کورٹ نے ناراضی کا اظہار کیا اور نہ صرف پارلیمان کا کردار مسترد کر دیا بلکہ ججزکی تعیناتی میں وزیر اعظم اور صدر کے اختیارات کو بھی مسترد کر دیا۔

2010 سے 2013 کے عرصہ میں صرف ایک چیف جسٹس نے 126 بھرتیاں اعلی عدلیہ میں مکمل کیں  جس کی بنیاد 31 جولائی 2009 کے فیصلہ کو بنایا گیا۔ انہوں نے 100 سے زائد ججز کو نوکری سے برخواست بھی کیا۔ بہت سے لوگوں کو محسوس ہو رہا ہے کہ یہ ججز کے لیے ججز کی بنائی ججز پر مبنی عدلیہ تھی۔ اب ایک بہت بڑی تبدیلی نا گزیر ہو چکی ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *