وزیراعظم کا دورہ امریکا

پہلی بات : یہ کسی پارٹی کے سربراہ کا نہیں وزیراعظم پاکستان کا دورہ ہے۔ اس کی کامیابی میری کامیابی ہے ۔ اس میں ناکامی کی تمنا کوئی احمق ہی کر سکتا ہے۔ اس میں وزیراعظم کی اچھی کارکردگی میرے لیے وقار اور عزت کا باعث ہے۔ یہاں کوئی غلطی اس موقف کو تقویت دے گی پاکساتی جمہوریت کے لائق نہیں ۔ اور میں اپنے وطن کا جمہویہت پسند تصور دینے میں بہت جذباتی ہوں ۔ اس لیے مجھے خوشی ہے ساتھ گئی فوجی قیادت میڈیا میں کہیں نظر نہیں آئی۔
دوسری بات : یہ امریکی سفارت کاری میں چوتھے درجے کا دورہ تھا جس کا انتظام خود پاکستانی حکومت کی طرف سے کیا گیا تھا۔ یہ ایسے وقت میں کیا گیا تھا جب پاکستان کے امریکا کے ساتھ تعلقات انتہائی سرد مہری کا شکار ہیں ۔ اس کا ذمہ دار اگر امریکا ہے تو سوال ہے ہم امریکا سے بغل گیر ہونے کی خواہش کیوں رکھتے ہیں ؟ اور اگریہ دورہ امریکا کی خواہش پر ہے تو یہ باقاعدہ سرکاری دورہ کیوں نہیں؟ اس لیے یہ مان لیجِے کہ یہ دورہ ہماری مجبوری تھی۔ ہماری ضرورت تھی۔ ہماری کمزوری تھی۔
تیسری بات : یہ ہے امریکا کا ٹرمپ عمران ملاقات پر تبصرہ :
"وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ پاکستان کے ساتھ ان معاملات پر تعاون مضبوط کرنے کے لیے کوشاں ہیں جو جنوبی ایشیا میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے کلیدی ہیں۔
امریکہ جنوبی ایشیا کو پرامن علاقہ بنانے کے لیے ضروری حالات پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے اور صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ خطے میں امن و استحکام کے خواہاں ہیں۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے خطے کی سکیورٹی بہتر بنانے اور انسدادِ دہشت گردی کے سلسلے میں جو ابتدائی اقدامات کیے گئے ہیں صدر ٹرمپ نے ان کی ستائش کی۔
اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں قیامِ امن کے لیے بات چیت کے عمل کو کامیاب بنانے کے لیے کوششیں کی ہیں اور اس سلسلے میں اس سے مزید کام کرنے کو کہا جائے گا۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایک مضبوط تعلق کا راستہ افغانستان کے تنازعے کے ایک پرامن حل کے لیے مشترکہ کوششوں سے جاتا ہے۔
اعلامیے کے مطابق پاکستان نے اپنی سرزمین پر سرگرم دہشت گردوں کے خلاف کچھ اقدامات کیے ہیں لیکن یہ نہایت اہم ہے کہ پاکستان ہمیشہ کے لیے ان تمام گروپوں کے خاتمے کے لیے کارروائی کرے۔"
اب مجھے بتائیے کہ اگراس کا عنوان یہ رکھا جائے کہ " ڈو مور " تو کیا یہ غلط ہو گا؟
اس لیے مجھے بتائیے کہ میں بطور پاکستانی اس دورے کو کیا سمجھوں کہ ہمیں یہی کہا گیا ہے واپس جائیے اور اپنی ادائیں ٹھیک کریں ۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ ادائیں کس نے ٹھیک کرنی ہیں ؟ اور ان ادائوں کی کیا قیمت لینی دینی ہے ، اصل سوال یہ ہے اور اس کا جواب انھی لوگوں نے دینا ہے جواپنے جہاز پر بیٹھ کر گئے تھے۔ جو پاکستان کے اصل مالک ہیں ، جو خارجہ پالیسی اصل میں چلا تے ہیں ۔
آپ اور میں صرف اس پر خوش ہیں عمران نےشلوار قمیض پہنی تھی ،اعتماد سے بات کی تھی ، رٹے ہوئے جملے نہیں بولے تھے۔ کاش اصل بات بھی شلوار قمیض پہنے آدمی سی ہی کی ہوتی ، ٹرمپ سے وہی عمران گفتگو کر رہاہوتا جو ارینا حال میں اپنوں پر گرج برس رہا تھا۔ یہ کام تو پچھلے کئی برسوں سے کر رہے ہیں ۔ اب وقت تھا اس ٹویٹ کے حساب لینے کا جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ پاکستان ، امریکی امداد کھا گیا اور کچھ نہ کیا۔ اسے جواب دیا ہوتا کہ امداد تم نے اپنے ریمنڈ ڈیوسوں کو بچانے کے لیے دی تھی ، پاکستان کے لیے نہیں دی تھی ، انھیں اب کہا ہوتا کہ تمہارے بھیجے ہوئے ڈرون حملوں نے ہمارا امن تباہ کر دیا ۔ اب اسے کہا ہوتا کہ ہم نے اپنی نہیں تمہاری جنگ لڑی ہے ،اس لیے زیر لب "ایس ہول " کہہ کر مطالبہ کیا ہوتا کہ اس نقصان کو اپنی امداد سے منہا کرکے باقی کا حساب دو ۔ اب اسے کہا ہوتا کہ تم نے ہمیشہ مدد ایوب سے لے کر مشرف کو دی ، کبھی بھٹو سے لے کر میری حکومت تک کسی سولین حکومت سے تعاون کیا ؟ تب میرا دل ٹھنڈا ہوتا کہ ایک پاکستنی وزیراعظم نے پاکستان کا مقدمہ لڑا ہے ۔ اگر "ڈو مور" ہی سننا تھا تو وہ تو ہم ہر تیسرے روز پاکستان میں بیتھ کر ہی سنتے رہتے ہیں۔۔۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *